| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   November 13 – 2017

روزنامہ آزادی ٗ بلوچستان ایکسپریس کے خلاف تادیبی کارروائی کا سات ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اچانک ڈی جی پی آر پر آسمان سے حکم آیا کہ مقامی معتبر اخبارات بشمول انتخاب کے اشتہارات بند کئے جائیں چنانچہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہمارے اور صرف مقامی اخبارات کے اشتہارات مکمل طور پر بند کئے گئے ۔

کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اشتہارات کیوں بند کئے ، تاہم اسی بات کی معلومات کرنے کے لئے روزنامہ آزادی کے ایڈیٹر اور روزنامہ بلوچستان ایکسپریس نیوز ایڈیٹر نے ڈی جی پی آر سے ملاقات کی اور انہوں نے جسارت کی اور ان سے پوچھ لیا تو ڈی جی پی آر آگ بگولہ ہوگئے اور عزت اور احترام کی تمام حدپار کر لی اور تلخ ترین لہجہ میں بتایا کہ وہ وزیراعلیٰ کے احکامات کے تابع نہیں ۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری سے انتہائی خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں 40 سال سے زائد مدت کے تعلقات کا تذکرہ آیا اور کبھی بھی ان کو مقامی اخبارات کے خلاف کوئی شکایات نہیں تھی۔

انہوں نے ملاقات میں موجود پرنسپل سیکریٹری حافظ باسط کو تاکید کی کہ ان کے دور میں مقامی اور معتبر ترین اخبارات کے خلاف کارروائی کرکے ان کو بدنام نہ کیاجائے ۔ بلکہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور ان کے اشتہارات میں خاطر خواہ اضافہ کیاجائے ۔

وزیراعلیٰ کو یہ گوش گزار کیا گیا کہ ان کے اشتہارات گزشتہ 7ماہ میں 80 فیصد کم کئے گئے ۔وجہ صرف وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں موجود دو افسران کی مقامی اخبارات کے خلاف نفرت ہے ۔

جب بھی ان کو موقع ملا انہوں نے ان اخبارات کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا حالیہ دنوں میں کوئی اشتعال انگیزی بھی نہیں تھی انتہائی سرد مہری میں خوفناک حملہ کیا گیا ۔

انتظامیہ خصوصاً میڈیا کے افسران صرف اور صرف مقامی اور معتبر ترین اخبارات کو نشانہ بنارہے ہیں حالانکہ ان اخبارات کا کوئی سیاسی قبلہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی پارٹی گروپ ٗ پہاڑی یا غیر پہاڑی گروپ سے کوئی تعلق ہے ۔ہم صرف اور صرف صاف ستھری صحافت پر یقین رکھتے ہیں ۔صحافت کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے ہمارے ان دونوں اخبارات کے خلاف گزشتہ 30سالوں میں کوئی قابل ذکر شکایت نہیں آئی ۔ ہمارا آزادی صحافت پورا ایمان ہے ۔ صرف ہم ہی آزادی اظہار کے علمبردار ہیں اور ہر مکتب فکر کو اخبارات میں جگہ دیتے ہیں ۔

ان تمام باتوں کے باوجود ڈی جی پی آر حکومت کی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں ٹھہراتے ہیں یہ حکومت کی نااہلی ہے بلکہ میڈیا پالیسی کی ناکامی ہے کہ پوری بلوچ سرزمین میں اکثر پریس کلب بند ہے ۔

اخبار نویسوں نے خوف کے عالم میں پریس کلبوں پر خود تالے لگادیئے ۔ ہاکر اخبار فروخت کرنے کو تیار نہیں ۔ان کا روزگار ہے مگروہ روزگار کے حق سے محروم کردئیے گئے ۔ ڈی جی پی آر نے کمر کس لی ہے کہ آزادی اور بلوچستان ایکسپریس کو بند کریں گے ۔

اس ادارے میں 100 کے لگ بھگ ملازم ہیں جبکہ 400 دوسرے خاندان اخبارات فروخت کرکے اپنی روزی کماتے ہیں ۔ یہ معاشی قتل عام ہے اس کے علاوہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر بھیانک حملہ ہے ترقی پسندقوتیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس کی مذمت کریں اور حکومت بلوچستان کو اس سے باز رکھیں ۔

وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں اور یہ مسئلہ حل کرائیں کیونکہ ان کے دو بڑے میڈیا افسرحکم عدولی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔،ان آفسران کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے ،ایک میڈیا منیجر کے خلاف سابقہ چیف سیکریٹری نے ملازمت سے فوری طور پر برطرف کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

کیونکہ وہ بلوچستان کی حکومت اور عوام کے خلاف ایک ناقابل معافی گناہ کے مرتکب ہوئے ۔جس کا اندازہ چیف سیکریٹری کے حکم نامے سے ظاہر ہے ۔لہٰذا مذکورہ آفسر ودیگر ملوث آفسران کیخلاف مقدمات دوبارہ چلائے جائیں اور ان کو قرار واقعی سزا دیکر عبرت کا نشان بنایا جائے۔