|

وقتِ اشاعت :   7 days پہلے

اسلام آباد: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف ہر سطح پر سازشیں جاری ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے اسے نقصان پہنچانے کے لیے 50 کروڑ ڈالرز کے فنڈز مختص کردیئے ہیں۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف روایتی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت آگ سے کھیل رہا ہے اور بلوچستان میں وہ دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے بہتر تعلقات کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں خون بہا رہا ہے اور پاکستان کا پانی روک رہا ہے، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا جبکہ بھارت ایسا ہی کر رہا ہے اور بھارت خطے کے امن سے کھیل کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 94 ہزار کمشیری شہید کیے جاچکے ہیں اور ہر 20 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن ممکن ہے۔

جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ بھارت نے 1200 سے زائد مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی، جس سے ایک ہزار پاکستانی شہری اور 300 فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔

سیمینار سے خطاب میں جنرل زبیر محمود نے کہا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور افغانستان میں مستقل عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 94 ہزار کمشیری شہید کیے جاچکے، پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں افراد کی آنکھیں متاثر ہوئیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت خطے کے امن و امان کو غیر مستحکم کر رہا، بھارت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، قوم پرست بلوچ گروپ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرکے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 16 برس سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں، جس میں 83 ہزار سے زائد شہریوں نے اپنی جانیں دی، اس میں 28 ہزار فوجی، 4 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور تقریباً 50 ہزار سے زائد عام شہری شامل ہیں لیکن قوم کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس غیرریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے، اس وقت جنوبی ایشیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بھارت کا کولڈ اسٹارٹ اور پرو ایکٹو ڈاکٹرائن، بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کی جاچکی ہیں، جبکہ اس سلسلے میں 3 مارچ 2016 کو بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستانی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنی گرفتاری کے بعد ایک وڈیو بیان میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے کام کرتا تھا اور اسے پاکستان ایک مخصوص ٹاسک دے کر بھیجا گیا تھا۔

کلبھوشن کے مطابق 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

وڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سےملاقات کرنا تھا۔

کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے ‘را’ کا ہاتھ ہے۔

اس حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے پاکستان اور بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے ہیں اور وہ ‘را’ کے چیف اور جوائنٹ سیکریٹری اے کے گپتا سے براہ راست رابطے میں تھا۔

بعد ازاں کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پر سزائے موت سنائی گئ تھی،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سنائی، جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مجرم کی سزائے موت کی توثیق کردی تھی۔

اس سزا کے خلاف بھارت کی جانب سے رد عمل سامنے آیا تھا اور بھارت نے سزا رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے رابطہ کیا تھا۔

بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کو خط لکھا گیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان پر ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کی جائے۔