|

وقتِ اشاعت :   7 days پہلے

کوئٹہ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکیج کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پیکیج کے تحت یونین کونسل کی سطح پر تعلیم،صحت، پانی، گیس اور بجلی کے منصوبے شروع کرکے بلوچستان کو ملک کے دوسرے حصوں کے برابر لایا جائیگا۔ 

حکومت جون میں اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، اس کے دو ماہ بعد انتخابات ہوں گے اور جمہوریت اسی طرح آگے بڑھتی رہے گی۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے مختصر دورے کے اختتام پر گورنر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی،وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری، سینیٹر یعقوب خان ناصر اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے دعوت پر کوئٹہ کا دورہ کیا اور یہاں امن وامان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے تجویز کردہ پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔ دس سالہ پیکیج کیلئے آدھی رقم بلوچستان حکومت اور آدھی رقم وفاقی حکومت دے گی۔

اس پیکیج کے تحت یونین کونسل کی سطح پر ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے، سکول، صحت ، پانی، بجلی اور گیس سمیت وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو ملک کے دیگر علاقوں کو میسر ہیں۔اس منصوبے کو ایکولائزیشن (مساوی) پیکیج کا نام دیا گیا ہے جس کی معیاد دس سال ہوگی اور اس پر اس سال ہی کام شروع کردیا جائیگا۔ 

پیکیج کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کے میدان میں ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لایا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دورہ کوئٹہ کا مقصد سی پیک اور وفاقی حکومت کے بلوچستان میں جاری اسی ارب روپے کے منصوبوں کا جائزہ لینا تھا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر مہینے میں نہ ہو تو کم از کم ہر دو مہینے بعد کوئٹہ آکر ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائے۔

وفاقی حکومت کے تعاون سے بلوچستان کے ہر ضلع میں ایل پی جی گیس پلانٹ کی تنصیب کی جارہی ہے اور سوئی سدرن گیس کمپنی اس پر کام کررہی ہے اس منصوبے پر بیس ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں سیاسی طور پر صرف حکومت چل رہی ہے،سیاسی کچھ نہیں چل رہا۔

جون میں حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور اس کے دو مہینے بعد الیکشن ہوں گے۔ جمہوریت آگے بڑھے گی۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں آئین کے مطابق حکمرانی ہوتی ہے۔ ہمیشہ قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔

اس سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں گورنر، وزیراعلیٰ ، وفاقی وزیر ریاستی و سرحدی امور عبدالقادر بلوچ، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی دوستین ڈومکی، مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی،صوبائی وزراء ،اعلیٰ پولیس اور انتظامی آفیسران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات اور خودکش بم حملے میں شہید ہونیوالے پولیس آفیسران،اہلکاروں اور شہریوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ صوبائی سیکریٹری داخلہ محمد اکبر حریفال نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔ 

اجلاس میں ایران جانیوالے زائرین کیلئے سیکورٹی اقدامات پر بھی غور کیاگیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی میں سیکورٹی اداروں کی قربانیاں بے مثال اور قابل قدر ہیں۔ 

یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ امن وامان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرے گی دریں اثناء وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی جانب سے بلوچستان کی دیرپا ترقی کو یقینی بنانے کے لیے دس سالہ ترقیاتی منصوبہ کی پیش کی گئی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ وفاقی حکومت مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے بھرپور معاونت کرے گی۔

انہوں نے صوبائی حکومت کو اس حوالے سے لائحہ عمل مرتب کر کے وفاقی حکومت کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کو وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائیگا، جبکہ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کو ریکوڈک منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کرے گی۔

وزیراعظم سے منگل کے روز گورنر ہاؤس میں صوبائی کابینہ کے اراکین کی ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے تعلیم، صحت، آبنوشی ، بجلی، گیس اور آبپاشی کے شعبوں کی ترقی کے لیے دس سالہ ترقیاتی منصوبہ مرتب کرنے کی تجویز پیش کی، جس سے وزیراعظم نے اتفاق کیا اور طے پایا کہ ترقیاتی منصوبہ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت مشترکہ طور پر فنڈز فراہم کریں گی۔

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی ، وفاقی وزراء جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، میر دوستین ڈومکی، قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ ،سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر اور چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے حالیہ مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں بلوچستان صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا، وزیراعلیٰ نے گوادر کو پانی کی کمی کے مسئلے کے دیرپا بنیادوں پر حل کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب کے ساتھ ساتھ میرانی ڈیم سے پائپ لائن کے ذریعے گوادر کو پانی کی فراہمی کو بھی ناگزیر قرار دیا اور بتایا کہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے لیے فنڈز مختص کئے ہیں تاہم وفاقی حکومت کی مالی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے صوبے کے ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں گیس کی فراہمی کے لیے ایل پی جی پلانٹ کی تنصیب کے منصوبے کے آغاز پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے درخواست کی کہ اس منصوبے کو مزید توسیع دینے سے بلوچستان کے دوردراز کے پسماندہ علاقوں کے عوام کو بھی گیس کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی پلانٹ صوبے کے تمام علاقوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں اور اس منصوبے کی توسیع سے صوبے کے عوام کو گیس کی سہولت دستیاب ہو سکے گی، صوبائی حکومت ایل پی جی پلانٹ کی تنصیب کے لیے اراضی فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان غریب نہیں بلکہ اپنے قدرتی وسائل ، گوادر بندرگاہ اور منفرد جغرافیائی محل و قوع کے باعث امیر صوبہ ہے جس کے وسائل کو بروئے کار لا کر ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے تعاون اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت صوبے میں امن قائم ہو چکا ہے، شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا اور امن کو دیرپا بنیادوں پر قائم رکھا جائیگا، وزیراعلیٰ نے قلیل مدت کے دوران کوئٹہ کے تیسرے دورے پر وزیراعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم بلوچستان کو خصوصی توجہ دینے اور اس کی ترقی کے لیے معاونت کی فراہمی پر وہ صوبائی کابینہ اور اپنی جانب سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے بلوچستان کی ترقی ، امن و استحکام اور وسائل کے حوالے سے وزیراعلیٰ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو ترقی دے کر اسے دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے وزیراعظم کی توجہ کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں پانی کے سنگین مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے وفاقی پی ایس ڈی میں بلوچستان کے واٹر سیکٹر کے منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کی فوری فراہمی ، زیارت کے جنگلات کے تحفظ کے لیے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ایک ہزار ملین کی گرانٹ کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایل پی جی پلانٹ کی تنصیب کے منصوبے کو اہم پیش رفت قرار دیا تاہم انہوں نے بلوچستان کی ضروریات کے مطابق ایل پی جی پلانٹ کی استعداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی نے وزیراعظم کی توجہ دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں میں تاخیر کی جانب مبذول کراتے ہوئے ان کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کی درخواست کی، صوبائی وزیرمیر مجیب الرحمان محمد حسنی نے واشک اور آواران کو نیشنل ٹرانسمیشن لائن سے منسلک کرنے اور سریاب روڈ پر ریڈیو اسٹیشن کی غیر استعمال اراضی کو سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومت کو لیز پر دینے کی درخواست کی۔

صوبائی وزیر سردار مصطفی خان ترین نے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر جلد از جلد آغاز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، صوبائی مشیر سردار رضا محمد بڑیچ نے سی پیک کے تناظر میں صوبے میں صنعت کاری کے فروغ کے لیے ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ سمیت صنعت کاروں کو دیگر ضروری مراعات کی فراہمی کے لیے بھی خصوصی پیکج کی درخواست کی ۔

صوبائی مشیر محمد خان لہڑی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کچھی کینال فیزII اور پٹ فیڈر کینال کی ڈی سیلٹنگ اور توسیع کے منصوبے شروع کئے جائیں، صوبائی مشیر سردار در محمد ناصر نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ زیارت کو پنجاب سے بذریعہ این50اور این 70 منسلک کرنے کے لیے منصوبے کی منظوری دی جائے۔

رکن صوبائی اسمبلی میر عاصم کرد گیلو نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ان کے حلقہ انتخاب سنی، حاجی شہر اور ڈھاڈر میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے منصوبے عرصہ دراز سے تعطل کا شکار ہیں لہذا وزیراعظم خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ان منصوبوں پر عملدرآمد کی ہدایت کریں، وزیراعظم نے اراکین کابینہ کی جانب سے پیش کی گئی ۔

گزارشات اور تجاویز کو نہایت توجہ سے سنا اور یقین دلایا کہ اراکین کی جانب سے نشاندہی کئے گئے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا، انہوں نے کہا کہ بلا شبہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے پسماندہ ہے ، دس سالہ ترقیاتی منصوبے سے صوبوں میں ترقی کا توازن پیدا ہوگا اور بلوچستان سے پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔