|

وقتِ اشاعت :   November 21 – 2017

کراچی : کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کا 15 اراکین پر مشتمل وفد چین کے خیر سگالی دورہ مکمل کر کے واپس پاکستان پہنچ گیا۔سی پی این ای کے وفد نے چین کے دارالحکومت بیجنگ اور خودمختار علاقے سنکیانگ سمیت چین کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔

وفد کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل زنگ ای نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی 19 ویں پیپلز کانگریس کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لئے چین کے صدر شی پنگ کے منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ 

انہوں نے رشوت ستانی کے خلاف چینی کمیونسٹ پارٹی کی مہم کے بارے میں بھی وفد کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ سی پی این ای کے وفد کو چین کے دفتر خارجہ کے ایشیا ڈویژن کے ڈائریکٹر چین فینگ نے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال پر چین کے مؤقف کو بیان کیا۔

اس کے علاوہ سی پیک سمیت ون بیلٹ ون روڈ (اوبور)کے منصوبوں کے تحت اقتصادی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔وفد کو بیجنگ یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات میں بھی مدعو کیا گیا جہاں شعبہ اردو کے سربراہ نے چین میں اردو زبان اور اردو ادب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

قبل ازیں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد نے وفد کے اعزاز میں پاکستانی سفارتخانے میں عشائیہ دیا۔

سفیر نے سی پی این ای کے وفد کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی 19 ویں پیپلز کانگریس کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین مؤزے ڈینگ کے بعد صدر شی پنگ سب سے طاقتور رہنما بن کر ابھرے ہیں اور شی پنگ کو آئندہ پانچ سالوں کے لئے دوربارہ صدر مقرر کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ون بیلٹ ون روڈ (اوبور) پراجیکٹ میں چین کی تیاریاں پہلے سے جاری تھیں اب اصل تیاری پاکستان کو کرنی ہے جس کے لئے وسیع پیمانے پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

بیجنگ کے بعد سی پی این ای کا وفد خودمختار علاقے سنکیانگ کے دارالحکومت رومچی پہنچا جہاں کمیونسٹ پارٹی چائنا کے مقامی رہنماء غیر سلیف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سنکیانگ پاکستان کے رقبے سے تین گنا بڑا صوبہ ہے اور یہاں پر کپاس کی کاشت کی جاتی ہے جو ہمسایہ ممالک ازبکستان اور پاکستان کو برآمد کی جا رہی ہے۔

اپنے علاقے میں ٹیکسٹائل کی صنعت لگانے کے حوالے سے جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔بعدازاں وفد کو ہوا سے چلنے والے ونڈ مل ٹربائن تیار کرنے والے عظیم الشان کارخانے گولڈ ونڈ کا دورہ کرایا گیا۔ یہ ادارہ عالمی سطح پر ونڈ انرجی کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ 

بعدازاں وفد کو تیز ترین رفتار کی بلٹ ٹرینیں بنانے والے چائنا ریلوے ہیوی انڈسٹری کمپلیکس کا دورہ کرایا گیا جہاں پر تیز ترین بلٹ ٹرینیں بنانے کے تمام مراحل کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح زیر زمین سرنگیں بنانے کے لئے استعمال کی جانے والی ہیوی مشینری کے کارخانے کا دورہ بھی کرایا گیا۔ 

دورے کے آخری مرحلے میں ارومچی ڈرائی پورٹ لے جایا گیا جہاں سے یورپ کو ملانے والی کارگو ٹرینیں بروئے کار ہیں۔ وفد کو سامان تجارت کی رسد و ترسیل کے نظام سے بھی بخوبی آگاہ کیا گیا۔چین میں سی پی این ای کی جانب سے میڈیا کا دورہ کرنے والے ایڈیٹروں کا سب سے پہلا اور بڑا وفد تھا۔ 

دورے کی میزبانی چائنا اکنامک نیٹ ورک نے کی جو چین کے اکنامک ڈیلی گروپ کے زیر اہتمام کام کرتا ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ ورک نے وفد کے لئے بریفنگ کا اہتمام کیا جس میں شرکائے وفد کو چائنا کی اقتصادی و معاشی ترقی کے بارے میں اعداد و شمار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ 

واضح رہے کہ چائنا اکنامک نیٹ ورک انگریزی اور چینی زبانوں میں ویب سائٹ کا وسیع ادارہ ہے جس میں آڈیو اور ویڈیو مواد سمیت وسیع تر معلومات فرہم کی جاتی ہے۔ 

سی پی این ای کا 15 رکنی وفد سینئر نائب صدر شاہین قریشی اور سیکریٹری جنرل اعجازالحق کی سربراہی میں سینئر اراکین عارف نظامی، امتیاز عالم، ڈاکٹر جبار خٹک، رحمت علی رازی، مشتاق احمد قریشی، صدیق بلوچ، غلام نبی چانڈیو، کاظم خان، عبدالرحمان منگریو، وسیم احمد، عبدالخالق علی، محمد اسلم خان اور احمد اقبال بلوچ پر مشتمل تھا۔