|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ: کوئٹہ سمیت وسطی بلوچستان میں سردی کی شدت برقرار ہے،زیارت میں منفی 11،کوئٹہ میں منفی 10اور دالبندین میں درجہ حرارت منفی 5تک گرگیا۔ گوادر اور دکی میں دو افراد سردی سے ٹھٹھر ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے۔ 

گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے کے دوران سردی کی شدت میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ بارش و برفباری کی نوید بھی سنادی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور شدید خشک رہا۔ 

منگل کی صبح سب سے زیادہ سردی قلات میں منفی بارہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی۔ کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی دس اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت آٹھ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا۔ہوا میں نمی کا تناسب سولہ فیصد رہا۔ دالبندین میں بھی درجہ حرارت پانچ درجے نیچے گر گیا۔

ژوب میں منفی دو، نوکنڈی میں منفی ایک عشاریہ پانچ ریکارڈ کیاگیا۔ پنجگور میں کم سے کم درجہ حرارت صفر عشاریہ پانچ، خضدار میں ایک، بارکھان چار، گوادر نو، جیوانی میں بارہ، لسبیلہ میں چھ، پسنی بارہ، سبی آٹھ، تربت سات اور اورماڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت گیارہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا۔ محکمہ موسمیات کے کوئٹہ میں تعینات حکام کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقوں میں سردی کی شدت میں آئندہ ہفتے تک مزید اضافہ ہوگا۔ 

درجہ حرارت مزید دو سے تین درجے تک نیچے گرنے کا امکان ہے، کوئٹہ، زیارت اور دیگر بالائی علاقوں بھی میں بھی موسم شدید سرد اور خشک رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ دس دسمبر سے کوئٹہ سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سسٹم داخل ہوگا جس کے نتیجے میں چودہ دسمبر تک موسم آبر آلود رہے گا اور بارشوں کے ساتھ ساتھ برفباری بھی ہوسکتی ہے۔ 

پہاڑوں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ،زیارت، سنجاوی،خانوزئی،کان مہترزئی،مسلم باغ،پشین،مستونگ کے شہری علاقوں میں بھی برفباری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب سردی کی شدت کے باعث معلومات زندگی بدستور متاثر ہیں۔ گوادر کے میرین ڈرائیور کے قریب مغربی ساحل پر کھلے میں سویا ہوا ایک ذہنی معذور شخص سردی کی شدت کے باعث مرگیا۔ متوفی کی شناخت خضدار کے رہائشی عمر ولد جان محمد کے نام سے ہوئی۔

ادھر دکی کی ایک جامع مسجد میں بھی نوے سالہ بھکاری شخص سردی سے ٹھٹھر کر مر گیا۔ لاش کی شناخت نہ ہونے کے باعث سول ہسپتال دکھی میں رکھی گئی ہے۔ کوئٹہ میں سردی کے باعث پائپ لائنوں اور سڑکوں پر پانی جم گیا۔ موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں نے فریز ہونے کے باعث چلنے سے انکار کردیا۔ لوگ گاڑیوں کو دھکے لگاتے نظر آئے۔ اضافے کے باعث مارکیٹیں اور دکانیں صبح دیر سے کھلیں اور سرشام ہی بند ہوگئیں۔ 

لوگ سڑکوں اور تھڑوں پر لکڑیاں جلاکر آگ سینکتے ہوئے نظر آئے۔سڑکوں اور بازاروں میں ٹریفک معمول سے کم رہیں۔ سکولوں اور دفاتر میں بھی حاضری کم رہی۔ کوئٹہ میں بورڈ امتحان دینے والے پانچویں جماعت کے طلباء اور طالبات کو سردی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح گیس پریشر نہ ہونے کے باعث لوگوں کو حرارت حاصل کرنے کیلئے متبادل ذرائع پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں روٹی اور کھانا بنانا بھی مشکل ہوگیا۔ شہریوں نے تندوروں سے روٹیاں خریدیں یا بیکری کی اشیاء پر گزارا کیا۔ 

بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی بدستور جاری ہے صوبائی دار الحکومت کے نواحی علاقوں میں بجلی آٹھ سے دس گھنٹے بھی غائب رہتی ہے۔جبکہ دوسری جانب قلات اور گردنواح میں خون جماء دینے والی سردی جاری سائیبیریا سے آنے والے سرد اور یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے قلات میں درجہ حرارت ایک دم نیچے چلاگیا ہیں محکمہ موسمیات قلات کے مطابق قلات اور گردنواح میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت منفی -12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہیں ۔

محکمہ موسمیات قلات نے اگلے چوبیس گھنٹوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو نے کا امکان ظاہر کیا ہیں دوسری جانب قلات میں سوئی گیس کی مکمل بندش اور بجلی کی چودہ گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہیں ۔

شدید سردی میں سوئی گیس پریشر مکمل غائب ہو نے سے شہری ٹھٹھر نے پر مجبور ہیں گیس پریشر مکمل غائب ہونے سے شہریوں نے ایل پی جی گیس مہنگے داموں خرید نے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔

قلات میں سوئی گیس حکام کی جانب سے گیس کی مکمل بندش پر قلات کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہیں جبکہ کیسکو حکام کی جانب سے بھی قلات کے شہریوں پر ظلم زیادتی بھی جاری ہیں اور قلات شہر میں چوبیس گھنٹوں میں صرف دس گھنٹے بجلی فراہم کیا جارہا ہیں ۔

چوبیس گھنٹوں میں بجلی صرف دس گھنٹے کیسکو کی ظلم و زیادتی کا ثبوت ہیں جبکہ شدید سردی کی وجہ سے نزلہ زوکام گلے اور سینے کی بیماریا ں عام ہو گئے ہیں خصوصاََ بچے اور خواتین اور بڑے عمر کے لوگ ان بیماریوں سے تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں قلات کے عوامی حلقوں نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس کی مکمل بندش پر آعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہیں