|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ جب نواز شریف نے بلوچستان میں97 میں ایک جمہوری اور سیاسی حکومت کر کے اس وقت نوازشریف غلط نہیں تھا آج جب سپریم کورٹ نے کرپشن کے نام پر ان کو نا اہل قرار دیا تو یہ غلطی نہیں ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو ان کی اتحادی ہے وہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے نوازشریف کے دفاع میں بول رہا ہے ۔

محمود خان اچکزئی جس طرح سردار عطاء اللہ مینگل اور دیگر بلوچستان کے سیاسی جماعتوں کے اکابرین کے پاس میڑھ مرکہ لے کر ان سے بات کر نا چا ہتے ہیں پہلے تو وہ ضاحت کریں پونم جو کہ محکوم اقوام کے حقوق کے لئے بنایا گیا تھا کہ وہ زندہ ہے یا مردہ اور پونم میں شامل جماعتوں سے قوم پرست جماعت کے سربراہ فوری طور پر معاف مانگ کر فوری طور پر اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں پشتونوں کو بے غیرت کہنا پشتونوں کے ساتھ توہین ہے ۔

پشتون صرف سیاسی جماعتوں میں بلکہ بیورو کریسی ، عدلیہ اور دیگر اداروں میں بھی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’ آن لائن‘‘ سے خصوصی با ت چیت کر تے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جب نوازشریف ملک میں جا کر جلسے کر کے ہمیں کیوں نکالا گیا جب انہوں نے بلوچستان میں سردار اختر مینگل کی جمہوری حکومت کو ختم کیا تو کیا وہ جمہوری طریقہ تھا کہ ایک منتخب حکومت کو ختم کیا گیا تھا جو ان کو نا اہل کیا گیا تو آج وہ انصاف کی باتیں کر کے نکلے ہیں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیاہے وہ ہمارے لئے قابل قبول ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پشتون قوم پرست پارٹی کے سر براہ نے جس طرح نوازشریف کے سامنے دعویٰ کیا کہ وہ یہاں کے حقوق اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے سردار عطاء اللہ مینگل سے میڑھ مرکہ کر کے جو باتیں کر رہے ہیں جب پونم کے صدر کو بنایا تھا تو اس وقت پونم کو کیوں پارہ پارہ کیا وضاحت کریں کہ پونم زندہ ہے یا مردہ نوازشریف اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں جنہوں نے ماضی میں جو غلطیاں کی ہے ۔

اس پر قوم سے معافی مانگیں پشتون قوم پرست پارٹی کے سر براہ نے جس طرح جلسے میں نوازشریف کی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے پوری پشتون کو بے غیر ت سمجھ کر بات کی ہے ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ یہ القابات تقسیم کریں ہم کسی بھی صورت اس کی اجازت نہیں دیتے اگر وہ چند وزارتوں کے لئے ایسے حرکت کر تے ہیں تو ان سے کوئی گلہ نہیں کر تے ۔