|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ: ایس ایس پی چمن ساجد خان مہمند پر خودکش حملے کے دو سہولت کاروں کو چمن سے خودکش جیکٹ سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی، خودکش حملہ آور خودکش جیکٹ بھی وہی سے فراہم کئے گئے۔ 

سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ اور سیکٹر کمانڈر ایف سی بریگیڈیئر تصور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی پولیس نے سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر دو خطرناک دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے بہت گھناؤنے جرم کئے ہیں۔ 

ملزم محمود اچکزئی اور محمد سلیم اچکزئی چمن کے رہائشی ہیں۔ یہ دونوں دہشتگرد ایس ایس پی چمن ساجد مہمند کے حملے میں سہولت کار تھے۔ پریس کانفرنس میں گرفتار دہشتگردوں کے اعترافی بیانات بھی ملٹی میڈیا سکرین پر دکھائے گئے۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ساجد مہمند کو اس لئے نشانہ بنایا گیا انہوں نے دہشتگردوں کے فنڈنگ کے ذرائع یعنی اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں کی تھیں اور ان کارروائیوں میں ان دہشتگردوں کے کئی ساتھی بھی پکڑے گئے تھے۔ ساجد مہمند بڑے بہادر آفیسر تھے انہوں نے ملک کیلئے بڑی قربانیاں دیں۔ 

ہم نے مختصر عرصے میں اس حملے کے ہینڈلر اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ سہولت کار افغانستان سے خودکش حملہ آور کو لیکر آئے تھے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں افغانستان کی سرزمین اور ریاست کی تمام ترمدد پاکستان میں سرگرم دہشتگردوں کو حاصل ہے۔ یہ دہشتگرد بڑی آسانی سے وہاں نقل و حرکت کرتے ہیں اور ان کو پیسے بھی ملتے ہیں۔ 

سینئر صحافی حامد میر کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اب تو افغان پارلیمنٹرینز بھی اعتراف کررہے ہیں کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشتگردی کرارہا ہے۔ بلوچستان پولیس کے ڈی آئی جی حامد شکیل پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کو افغانستان میں انڈیا نے پچاس ہزار ڈالر دیئے۔ 

ہمارا یہ مؤقف درست ثابت ہورہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین او ریاست خاص طور پر افغان خفیہ ادارہ این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ادارہ را پاکستان میں حالات خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ 

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت ،سیکورٹی فورسز، خفیہ اداروں سب نے ملکر آج تک جتنی بھی ہائی پروفائلز کلنگ اور خودکش حملے ہوئے ہیں چاہے وہ بلوچ دہشتگردوں نے کئے ہوں یا یا مذہب کے نام پر ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ 

پولیس ٹریننگ کالج ، وکلاء پر خودکش حملے اور سریاب میں بس پر حملوں میں ملوث دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانا اس کی مثالیں ہیں۔ دہشتگردی کی حالیہ لہر میں ملوث دہشتگردوں کو بھی جلد بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ 

ڈی آئی جی حامد شکیل ، ایس پی محمد الیاس پر حملوں میں ملوث عناصر کی گرفتاری پر ایک ایک کروڑ روپے جبکہ ایف سی چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ پر خودکش حملے کے دہشتگردوں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کیلئے بلوچستان حکومت نے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ ہم بلوچستان کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی جنگ میں ہماری مدد کریں جیسا کہ ماضی میں وہ کرتے رہے ہیں۔ 

ہم دہشتگردی کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور معصوم لوگوں کا خون بہانے والوں سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ دہشتگرد حملوں کے خطرات سے متعلق سوال پر وزیرداخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خطرات سے متعلق اطلاعات آتی رہتی ہے ہم ان کی روشنی میں سیکورٹی اقدامات میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔

سانحہ تربت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئیسرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت، پولیس اور سیکورٹی ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور اس واقعہ کی ملکر تفتیش کررہے ہیں۔ ایف آئی اے کا اس میں بڑا کردار ہے جس نے پنجاب سے گرفتاریاں کی ہیں۔ ہم نے انہیں بلوچستان میں بھی ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ جو بھی مدد چاہے ہوگی اس کیلئے ہم تیار ہیں۔ 

ان دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے جو انسانی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور لوگوں کو سہانے خواب دیکھا کر غیرفطری راستوں کے ذریعے لے جاکر انہیں موت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد میں ہمارے دشمن ملوث ہیں جو ہمیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے اس لئے ہمارا واضح مؤقف ہے کہ کسی بلوچ نے کسی پنجابی کو نہیں مارا۔ یہ دہشتگردوں نے پاکستانی کو شہید کیا۔ یہ دہشتگرد ہمارا رد عمل بھی ضرور دیکھیں گے۔

افغان مہاجرین سے متعلق سوال کے جواب میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ اصولی طور پر یہ بات طے ہے کہ افغانستان سے آنیوالے افغان مہاجرین کو واپس جانا ہے۔ افغانستان میں افغان جمہوری حکومت موجود ہے اور اب تو ان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوگئے ہیں۔ 

افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا کا فیصلہ وفاقی حکومت نے افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ ملکر کرنا ہے۔ دسمبر تک ڈیڈلائن دی گئی ہے اب دیکھتے ہیں وفاقی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے تاہم اس میں بلوچستان حکومت کی رائے یہی ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس اپنے وطن بھیجا جائے۔ 

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں رجسٹرڈ اور غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین کی موجودگی ، بہتر بارڈر مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ دنیا میں کسی بھی سرحد پر روزانہ بارہ ہزار سے زائد افراد کی غیرقانونی آمدروفت کی مثال نہیں ملتی۔ 

ہم افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کرتے ہیں وہ پورس بارڈر کی وجہ سے واپس اآجاتے ہیں۔ اور جب ہم بارڈر مینجمنٹ کی بات کرتے ہیں تو افغان حکومت کو اس سے مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم بہت مشکل حالات میں یہ جنگ لڑرہے ہیں۔میری ذاتی رائے کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے ہمارا سارا سماج تباہ ہوا ہے، کاروبار کو نقصان ہوا ہے۔