|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے بالخصوص کوئٹہ میں گیس کی باقاعدہ ترسیل اورپریشرکویقینی بنانے،ژوب تابوستان ریلوے لائن کی بحالی اور گیس کمپنیوں کی آمدنی کا5 فیصدترقیاتی کاموں کیلئے مختص کر نے سے متعلق قراردادیں منظور کرلی گئیں جبکہ بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈہیلتھ سائنسزکامسودہ قانون ایوان میں پیش کردیاگیا۔

بلوچستان اسمبلی کااجلاس منگل کو دو روز کے وقفے کے بعد چیئرمین آف پینل آغا لیاقت علی کی زیرصدارت منعقد ہوااجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈہیلتھ سائنسز کامسودہ قانون ایوان میں پیش کیاگیامسودہ قانون صوبائی وزیر صحت میررحمت صالح بلوچ نے پیش کیا۔

اجلاس میں صوبہ بالخصوص کوئٹہ میں گیس کی باقاعدہ ترسیل اورپریشرکویقینی بنانے سے متعلق قرارداددرکن اسمبلی پشتونخوا میپ معصومہ حیات کی جانب سے پیش کی گئی۔قرارداد میں کہاگیاکہ شدیدسردی میں گیس پریشرمیں کمی کے باعث عوامی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوگیاہے ۔

لہذا بلوچستان حکومت گیس پریشر کے مسئلہ پروفاقی حکومت سے رجوع کرے۔قرارداد کے حوالے سے چیئرمین آف پینل نے رولنگ دیتے ہوئے جی ایم سوئی گیس کمپنی کو آٹھ دسمبرکوچیمبرمیں طلب بھی کرلیا۔

دوسری جانب ژوب تابوستان ریلوے ٹریک کی بحالی اور او جی ڈی سی ایل اور ماڑی گیس کمپنیوں کی آمدنی کا5 فیصدترقیاتی کاموں کیلئے مختص کرنے سے متعلق ترمیمی قراردادیں بھی ایوان میں پیش کی گئیں جنہیں کچھ بحث کے بعد اتفاق رائے سے منظور کرلیاگیا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز شروع ہوا تو گیس پریشر سے متعلق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال،نصراللہ زیرئے ‘ معصومہ حیات ،سپوژمئی اچکزئی اور عارفہ صدیق کی مشترکہ قرار داد معصومہ حیات نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی بلوچستان خصوصاًکوئٹہ شہر و گردونواح میں قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث شدید سردی میں عوامی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔

قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ قدرتی گیس کی صوبہ بلوچستان خصوصاؒ کوئٹہ اور گردونواح میں گیس کی باقاعدہ ترسیل و پریشر کو یقینی بنائے تاکہ عوامی مشکلات کا سدباب ہوسکے۔ 

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا ہے کوئٹہ سمیت پشین مستونگ زیارت اور قلات میں شدید سردی کے دوران گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے جس سے عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کراچی میں تو گیس کارخانوں میں استعمال ہوتی ہے یہاں ہم شدید سردی میں اس کا استعمال اپنی جان بچانے کے لئے کرتے ہیں پھر کیوں ہمیں گیس فراہم نہیں ہوتی گیس کے نرخوں میں بھی فرق ہے یہاں ہم قیمت زیادہ ادا کرتے ہیں مگر گیس نہیں مل رہی انہوں نے تجویز دی کہ کوئٹہ میں تعینات سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر کو طلب کیا جائے ۔

چیئر مین پی اے سی مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ قرار داد کی اہمیت اپنی جگہ مگر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہر سال جب سردی شروع ہوتی ہے تو ہم اس طرح کی قرار داد لاتے ہیں منظور کرتے ہیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوتا جس علاقے میں لوگ بہت زیادہ شور مچاتے ہیں وہ ایک ہفتہ دس دنوں کے لئے گیس پریشر کا مسئلہ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔

اس کے بعد پھر مسئلہ شروع ہوجاتا ہے ہمیں یہ بنیادی بات کرنی چاہئے کہ یہ گیس ہمارے صوبے کی ملکیت ہے 1954ء سے ہم پورے ملک کو گیس دے رہے ہیں یہاں سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی کو بلایا جائے اور مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل نکالاجائے ابھی تو مائنس ٹمپریچر کا پہلا ہفتہ چل رہا ہے آگے کیا ہوگا اس پر غور کریں جو موجودہ پائپ لائن ہے وہ ہماری ضروریات پوری نہیں کرسکتی ۔

ساڑھے چار سالوں میں ہمیں یہ تو کرلینا چاہئے تھا اب تو اٹھارہویں ترمیم بھی موجود ہے جس میں صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ پچاس فیصد شیئرز آپ کا ہے ہمیں اب اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پرحل کرناہوگا۔

نیشنل پارٹی کی میر خالد لانگو نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بلوچستان کے نصب میں رونا ہی لکھا ہے پچاس کے عشرے میں یہاں گیس دریافت ہوئی اب تک صوبے کے بمشکل پندرہ سے بیس فیصد حضے کو گیس فراہم کی گئی ہے مگر اس کی حالت بھی یہ ہے کہ قلات کو جو گیس دی گئی ہے وہ بالکل برائے نام ہے ۔

آج صبح سویرے سات بجے قلات میں درجہ حرارت مائنس 13ریکارڈ کیا گیا اس شدید سرد موسم میں تو گیس فراہم کی جائے انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کو بلا کر ان سے بریفنگ لی جائے کہ اصل مسئلہ کیا ہے ۔

اپوزیشن رکن حسن بانو نے قرار داد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قرار داد حکومتی اراکین لائے ہیں وہ حکومت میں ہوتے ہوئے کس طرح سے یہ کہتے ہیں کہ یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاق سے رجوع کرے یہ تواصل میں کابینہ کا معاملہ تھا جسے قرار داد میں لایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عبدالرحیم زیارتوال وزیراعلیٰ کے ساتھ والی نشست پر بیٹھتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ کابینہ کی بجائے وہ اس کو ایوان میں لائے ہیں حالانکہ اس حوالے سے پہلے بھی قرار دادیں پاس ہوتی رہی ہیں ۔

نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ صوبائی حکومت صرف سفارش ہی کرسکتی ہے یہاں پہلے بھی یہ مسئلہ بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے ایک سوال یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت کو ہم قرا رداد بھیجتے ہیں سفارش کرتے ہیں اور اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو پھر کیا کیا جائے۔

جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے عوام کو شدید سردی میں گیس پریشر میں کمی سے بہت زیادہ مشکلات درپیش ہیں مگر یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہم بھی رونا روتے ہیں حکومتی اراکین بھی رونا روتے ہیں ۔

انہوں نے تجویز دی کہ 8تاریخ کو سوئی سدرن گیس کمپنی کے جی ایم کو طلب کیا جائے تاکہ اس حوالے سے عملی پیشرفت ہو۔جے یوآئی کی شاہدہ رؤف نے کہا کہ صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال کو جو احساس آج ہوا ہے وہ ہم نے بہت پہلے انہیں دلانے کی کوشش کی انہوں نے کہا تھا کہ سرد علاقوں کے تمام سکول یکم جنوری تک کھلے رہیں گے ہم نے بچوں کو پڑھانا ہے میں کہتی ہوں کہ اس مائنس ٹمپریچر میں جب ہم گھروں میں بیٹھ کر روتے ہیں ۔

چھوٹے بچے کس طرح سے بغیر گیس کی سہولت کے سکول میں بیٹھ سکیں گے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پری پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے جے یوآئی کے مفتی گلاب کاکڑ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب ایم پی اے ہاسٹل میں گیس پریشر نہیں ہوتا تو باقی علاقوں کی کیا حالت ہوگی حالانکہ کوئٹہ صوبائی دارالحکومت ہے یہاں تو باقاعدگی سے گیس پریشر صحیح ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہورہا اس ح46الے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو جا کر کمپنی کے اعلیٰ حکام سے بات کرے اور مسئلے کا حل نکالے ۔ 

مسلم لیگ کی ثمینہ خان نے کہا کہ پہلے بھی ایوان میں اس طرح کی قرار دادیں آتی رہی ہیں انہوں نے کہا کہ خود میں ایک قرار داد اس حوالے سے لائی تھی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا ہیڈ آفس کوئٹہ میں ہونا چاہئے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اب تو یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ پروڈکشن کم ہے ہمیں چاہئے کہ ہم کمپنی کے حکام کو بلا کر ان سے اصل مسئلہ پوچھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے آیا واقعی پروڈکشن کم ہے ۔

گیس پائپ لائنوں کا مسئلہ ہے یاپھر کوئی اور مسئلہ ہے ۔ قرار داد کے محرکین میں سے ایک عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پندرہ بیس برسوں میں ہمارے ہاں جو عمارتیں بنیں ان میں ہیٹنگ کا کوئی سسٹم نہیں رکھا گیا گیس صوبے کی ملکیت ہے اور اس حوالے سے آئین میں واضح احکامات ہیں ۔

انہوں نے آئین کے آرٹیکل158کے مندرجات پڑھتے ہوئے کہا کہ آئین میں بالکل وضاحت کی گئی ہے جس پر عمل نہیں ہورہا 1980ء کی دہائی میں جو گیس پائپ لائنیں بچھائی گئیں اب ان کی کیپسٹی بہت کم ہے اور اس وقت گیس کی ترسیل اور اس کی ضرورت میں بہت زیادہ فرق ہے ۔

اراکین کے اظہار خیال کے بعد چیئر مین پینل کے رکن آغا سید لیاقت نے ایوان کی رائے کے بعد قرار داد کی منظوری کی رولنگ دیتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جی ایم کو 8دسمبر کو تین بجے بلوچستان اسمبلی طلب کیا جو ارکان کو گیس پریشر کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔

ژوب بوستان ریلوے لائن کی بحالی سے متعلق پشتونخوا میپ کے اراکین کی مشترکہ قرار داد نصراللہ زیرئے نے پیش کی انہوں نے کہا کہ ہرنائی تا سبی ریلوے لائن بحال کرنے کے لئے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں جسکی تکمیل جلد ہی مستقبل قریب میں متوقع ہے ۔

اس طرح ژوب بوستان ریلوے لائن کی بحالی بھی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ ژوب تا بوستان ریلوے لائن کی بحالی کے لئے بھی عملی اقدامات اٹھائے تاکہ عوام کا دیرینہ مطالبہ حل ہوسکے ۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے نسبتاآسان اور سستا ذریعہ سفر ہے ہمارے صوبے میں انگریزوں نے پہلے سکھر ،جیک آباد سبی اور سبی سے پہلے ہرنائی تک اور پھر ہرنائی سے کچ پھر کچ سے بوستان تک لائن بچائی گئی بوستان سے یہ لائن ژوب تک تھی سبی ہرنائی سیکشن کی طرح یہ لائن بھی ختم کی گئی اب سبی ہرنائی لائن تکمیل کے قریب ہے اس لئے ژوب بوستان لائن بھی بحال کی جائے۔

عبیداللہ بابت نے کہا کہ سبی ہرنائی لائن کی بحالی سے عوام کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اسی ژوب بوستان ریلوے لائن بھی بحال ہونی چاہئے تاکہ ہمارے لوگوں کو سفر کی بہتر سہولت میسر آئے اراکین کے اظہار خیال کے بعد قرار داد متفقہ طورپر منظور کرلی گئی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر میر اظہار کھوسہ نے گزشتہ نشست میں موخر شدہ ترمیمی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی اور نصیرآباد میں واقع اوچ پاور پلانٹ کے قیام سے اب تک او جی ڈی سی ایل تقریبا ؒ اربوں روپے کما چکا ہے ۔

اس کے علاوہ اوچ پاور پلانٹ کی اپنی انکم بھی کروڑوں روپے میں ہے لیکن اس کے باوجود علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایاگیا ہے جبکہ دیگر صوبوں کے جن علاقوں میں تیل و گیس کے پراجیکٹ یا بجلی پیدا ہوتی ہے ۔

اس کو باقاعدہ رائلٹی دی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس بلوچستان کو گیس رائلٹی کے نرخ1952ء میں فکس ہوئے تھے جو تاحال برقرار ہیں جبکہ صوبہ سندھ کو گیس کی رائلٹی کے نئے نرخ دیئے گئے ہیں جبکہ اب بھی بلوچستان کے پیر کوہ و دیگر آئل فیلڈز کو1952ء ریٹ پر ٹریٹ کررہے ہیں جو کہ صوبے کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے ۔

علاوہ ازیں چونکہ قدرتی گیس کی ویلیوبی ٹی یو کے حساب سے ہوتی ہے اور اس وقت ہماری گیس کی قیمت پورے ملک سے سستی ہے نیز زرغون غر سے نکلنے والی ماڑی گیس کمپنی نے بھی اب تک علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود ترقی کے لئے کوئی خاطرخواہ عملی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ۔

صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ او جی ڈی سی ایل اور ماڑی گیس کمپنی کو پابند کرے کہ وہ اپنی آمدنی سے نصیر آباد جعفرآباد اور صحبت پور کے علاوہ صوبہ کے جن اضلاع سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں آئین کے آرٹیکل157اور158کے تحت ان علاقوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے5فیصد ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کرنے کے ساتھ ساتھ گیس ویلیو کے نئے نرخ مقرر کرنے کو یقینی بنائے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ ساڑھے چار سال گزرنے اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہم ایسی قرار داد پیش کررہے ہیں کہ گیس اور تیل کی کمپنیا ں اپنے منافع کا پانچ فیصد منافع یہاں پر خرچ کریں ۔

اسی ایوان میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت پنجاب کے بعد سب سے زیادہ بلوچستان میں قانون سازی کی گئی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے میں مخلوط حکومت کا حصہ ہوں اور ہم نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ عوام کی تقدیر بدلے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا 1952ء سے گیس نکل رہی ہے مگر نہ تو ہمارے پاس کوئی معلومات ہیں کہ کتنی گیس نکل چکی ہے اور نہ ہی کوئی میکانزم ہے ۔

بلوچستان کے وسائل کو لوٹا جارہا ہے وفاق نے اٹھارہویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی کمپنی سے سیندک پر معاہدہ کیا ہم اب تک جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے کوئی میکانزم نہیں بنا سکے ۔

سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مشیر قانون سردار رضا محمد بڑیچ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت بلوچستان میں کافی قانون ساز ہوچکی ہے اور اس ح46الے سے ہم آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلات بھی پیش کرسکتے ہیں ۔سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ہمیں آئین کے تحت حقوق نہیں مل رہے گوادر کا معاہدہ چینی کمپنی سے ہوا ہے جس کے تحت بلوچستان کو کچھ نہیں ملے گا اس حوالے سے دیکھا جائے ۔

صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اگر چہ اب تک سی پیک کے تحت بلوچستان میں بڑے منصوبوں پر کام شروع نہیں ہوا مگر یہ منصوبہ جو پہلے چھیالیس ارب ڈالر کا تھا اس میں بلوچستان کے گیارہ ارب ڈالر کے منصوبوں کو شامل کرنے کے بعد اس کی مالیت ستاون ارب ڈالر ہوگئی ہے ۔

ژوب میں سی پیک کے تحت نہیں بلکہ این ایچ اے کے تحت سڑک کے منصوبے کا افتتاح ہو ا تھا جس پر کام جاری تھا۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ پر معاہدہ موجودہ دور حکومت میں نہیں بلکہ مشرف دور حکومت میں سنگا پور پورٹ اتھارٹی سے ہوا تھا جس کے تمام شیئرز چائینز کمپنی نے خرید لئے جس کے تحت گوادر پورٹ اب چینی کمپنی کے پاس ہے معاہدے پر ہمارے بھی تحفظات ہیں جن کا ہم بارہا اظہار کرچکے ہیں ۔

بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئرزمرک خان اچکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر جماعت کا اپنا آئین منشور اور نظریہ ہوتا ہے جس پر ہر جماعت عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے کوئٹہ میں دو دسمبر کو خان شہید کی چوالیسویں برسی پر جلسہ منعقد ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی ہماری ہمیشہ مرکز سے شکایت رہی ہے ۔

نواز شریف جب وزیراعظم تھے تب بھی انہوں نے ہمارے مسائل حل نہیں کئے نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر ہماری جماعت کے مسلم لیگ(ن) سے اختلافات ہیں مگر جلسے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے ساتھ دیتے رہیں گے اور وہ اور نواز شریف نظریاتی دوست ہیں سیاست میں ہر ایک کے نظریاتی دوست ہوتے ہیں ۔

مگر محمودخان اچکزئی کا یہ کہنا کہ جو نواز شریف کا ساتھ نہیں دیتا وہ پشتون غیرت مند نہیں اس پر افسوس ہوا ان کی جماعت کے ارکان یہاں موجود ہیں وہ اس بات کی وضاحت کریں ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اورجمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ۔

صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ دو دن سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے بعض لوگوں کو ہمارا جلسہ ناگوار گزرا ہے پارٹی چیئر مین محمودخان اچکزئی نے اپنے خطاب میں بلوچ سندھیوں کے حقوق پشتونوں کے اتحاد پشتون ملی تشخص اور پشتونوں کے حقوق کی باتیں رکھ کر اپنی بات کی ڈی چوک پر جو کچھ ہوا وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے ۔

جب اس ملک میں پہلی آئین ساز اسمبلی بنی تو ہم اس میں نہیں تھے مگر باچاخان اس کے ممبر تھے اور ان کا خطاب ریکارڈ پر موجود ہے ۔1954ء کافارمولا بنا سات سال بعد جب آئین بنا تو اس کو ختم کرکے 1958ء کا مارشل لاء لگایا گیا اور خان شہید اس مارشل لاء کے پہلے اور آخری قیدی تھے ۔

اس ملک میں ون یونٹ کے خاتمے کی جدوجہد میں خودمختار اکائیوں کی بات کی گئی تھی اور ہم آج بھی خود مختار اکائیوں کی بات کرتے ہیں ہم پشتونوں کے ملی اتحاد ان کے تشخص اور پشتون ملی وحدت اور صوبے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے میرے لئے تمام پشتون قابل احترام اور غیرت مند ہیں محمودخان اچکزئی بھی یہی بات کہہ چکے ہیں ۔

ہم نے ہر ڈکٹیٹر کا بھرپو رمقابلہ کیا اور کبھی کسی ڈکٹیٹر کے ساتھ نہیں رہے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری جدوجہد کا ساتھ دیا اور پارٹی چیئر مین محمودخان اچکزئی آج بھی بہت بڑے جمہوری رہنماء ہیں ہماری جدوجہد آئین جمہوریت پارلیمنٹ کی بالادستی صوبوں کی خودمختاری اور قومی حقوق کے لئے ہے ۔اور ہم نیپ کے منشور کے تحت اکائیوں کی تشکیل چاہتے ہیں ۔بعدازاں اجلاس کو 8دسمبر تک ملتوی کردیا گیا ۔