|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ: ایس ایس پی چمن پر خودکش حملے میں ملوث گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں خودکش حملے کے عیوض صرف سات ہزار روپے کے موبائل فون کارڈز ملے۔ 

گرفتار دہشتگردوں نے چمن میں شاہ محمد، تاج محمد اور ڈاکٹر اختر محمد کے بیٹے اسفند یار کے اغواء میں ملوث ہونے اور رہائی کے بدلے لاکھوں روپے وصول کرنے ،اور کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں بینک اسلامی اور کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں الائیڈ بینک میں ڈکیتی میں ملوث کا اعتراف بھی کیا۔ 

منگل کو سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے پریس کانفرنس میں گرفتار دہشتگردوں کے اعترافی ویڈیو بیانات ملٹی میڈیا سکرین پر دکھائے گئے اور ان کی کاپیاں بھی فراہم کی گئیں۔ 

اعترافی بیان میں دہشتگردوں نے اپنا تعارف محمد سلیم عرف جنداللہ عرف حافظ صاحب عرف حمیداللہ ولد عبدالرحیم قوم اچکزئی اور محمود خان عرف عمر عرف رضوان ولد عبدالوہاب اچکزئی کے نام سے کرایا۔ ملزم محمود خان نے بتایا کہ وہ حاجی حسن محلہ فیض محمد روڈ چمن کا رہائشی ہے۔ 

میٹرک پاس کرنے کے بعد کوئٹہ میں جان محمد روڈ پر موبائل سمز بیچنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد شارجہ مارکیٹ لیاقت بازار کوئٹہ میں اپنی دکان بھائی۔ کچھ عرصہ بعد یہ کاروبار چمن میں شروع کیا۔ ملزم نے بتایا کہ 2015ء میں اس کی ملاقات رحمت اللہ عرف سیف اللہ عرف حنظلہ نامی شخص سے ہوئی جس نے انہیں اغواء برائے تاوان میں ملوث ایک گروہ کے افراد سے ملوایا۔ 

ان افراد کے ساتھ ملزم کا یہ معاہدہ طے ہوا کہ اغواء کی ہر کارروائی سے ملنے والی رقم میں اس کا پانچواں حصہ ہوگا۔ ملزم نے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس نے غازی فورس کے نام سے اپنے گروپ کے ساتھ ملکر شاہ محمد نامی شخص کو چمن سے اغواء کیا اور اسے دس دن تک کرایے کے مکان میں رکھا اس کے بعد اسے افغانستان کے صوبے پککتیکا لے گئے۔ اس کی رہائی کے بدلے ستائیس لاکھ روپے وصول کئے جس میں اسے ایک لاکھ روپے حصہ ملا۔ 

دوسری واردات ڈاکٹر اختر محمد کے بیٹے اسفند یار کے اغواء کی کی جسے ایک ہفتے تک کرایے کے مکان میں رکھنے کے بعد افغان سرحدی علاقے سپین بولدک لے گئے۔ ان کی رہائی کے عیوض اڑتالیس لاکھ روپے تاوان وصول کیا جس میں سے چار لاکھ پچاس ہزار روپے حصہ انہیں ملا۔ 

اسی طرح تاج محمد ولد نیاز محمد شخص کو بھی چمن سے اغواء کرنے کی کوشش کی جس کے دوران مغوی کو گولی لگ گئی اور ہم مغوی کو خالی مکان میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ملزم محمود خان کچلاک کے بینک اسلامی میں 53 لاکھ روپے کی ڈکیتی کرنے اور اس میں ڈیڑھ لاکھ روپے حصہ لینے ، اور بعد ازاں کوئٹہ کے نواں کلی الائیڈ بینک میں نو لاکھ روپے کی ڈکیتی کا بھی اعتراف کیا جس میں اسے اسی ہزار روپے ملے۔ 

ملزم نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے بعد 2017ء میں ان کی ملاقات تحریک طالبان پاکستان کے عبداللہ نامی شخص سے افغان سرحدی علاقے سپین بولدک میں ہوئی۔ عبداللہ نے ڈپٹی کمشنر چمن اور ڈی پی او ساجد مہمند پر خودکش حملے کرنے کا کہا۔ 

اس حملے کی منصوبہ بندی کے تحت پہلے ڈی پی او ساجد مہمند کی ریکی کی اور اس کے بعد عبداللہ سے خودکش جیکٹ سے وصول کی جو سپین بولدک افغانستان سے لائی گئی تھی۔ ریکی کے بعد عبداللہ نامی دہشتگرد نے حمزہ نامی خودکش حملہ آور بھی فراہم کیا جسے سپین بولدک سے لایا گیا تھا۔ خودکش بمبار کو چمن میں چار دن کیلئے نیک محمد نامی شخص کے گھر ٹھہرای اگیا اور دس جولائی کو اسے خودکش حملے میں استعمال کیا گیا۔ 

اس حملے میں ڈی پی او ساجد مہمند شہید اور سترہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے بعد عبداللہ نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، پولیس ٹریننگ سینٹر، سیکورٹی فورسز، سینئر پولیس آفیسران ، میڈیا کے افراد اور تعلیمی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کیلئیبھی کہا اور اس مقصد کیلئیعبداللہ نے ایک عدد خودکش جیکٹس بھی فراہم کی جودوران گرفتاری سیکورٹی فورسز نے برآمد کرلی۔ 

دوسرے ملزم محمد سلیم عرف جنداللہ عرف حافظ صاحب عرف حمیداللہ نے اعترافی بیان میں بتایا کہ وہ سنزلہ کاریز چمن کا رہائشی ہے۔ ابتدائی دینی تعلیم بوگروہ روڈ چمن کے ایک مدرسے سے حاصل کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول سنزلہ کاریز سے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ 

ملزم نے بتایا کہ اس نے 2016ء میں تحریک طالبان پاکستان میں محمود خان کے ساتھ ملکر کام شروع کیا۔ ملزم نے بھی اسفند یار اور تاج محمد کے اغواء میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اسفند یار کی رہائی کے بدلے وصول کئے گئے 48 لاکھ روپے کے تاوان میں اسے ایک لاکھ 13ہزار روپے حصہ ملا۔ 

ملزم نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے بعد سپین بولدک میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردعبداللہ سے ہوئی جس نے ڈی پی او چمن پر حملے کا ہدف دیا اور اس کیلئے خودکش حملہ آور اور خودکش جیکٹ فراہم کیا۔ ملزم نے حیرانکن انکشاف یہ بھی کیا کہ ساجد مہمند پر حملے کے عیوض انہیں صرف سات ہزار روپے موبائل کارڈز کی مد میں ملے۔