|

وقتِ اشاعت :   December 6 – 2017

کوئٹہ :  سیندک معاہدہ توسیع کیس میں وفاقی اوربلوچستان حکومتوں نے جواب دائر کر نے کے لئے مزید وقت مانگ لیا ۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کا اہم نوعیت کے کیس میں تاخیر سے جواب دائر کر نے پر اظہار برہمی ، بلوچستان ہائی کورٹ میں سیند ک معاہدے میں توسیع کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست کی ۔

سماعت منگل کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی اور جسٹس اعظم سواتی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،سماعت کے دوران وفاقی و صوبائی حکو مت اور سیندک میٹلز لمیٹیڈ کے وکلاء پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے خود اپنے کیس کی پیروی کی ۔

دوران سماعت درخواست گزار ثناء بلوچ نے عدالت میں دلائل دئیے کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے 2017کے حکمنا مے کی توہین کی ہے جس میں یہ واضع طور پر لکھا گیا ہے کہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں توسیع ،رائلٹی اور دیگر معاملات شفاف اور اخبارات میں مشتہر کئے بغیر نہ کئے جائیں ۔

واضع آئینی احکامات اور عدالت اعلی کے فیصلے کے بعد کسی صوبائی محکمے ،وزیر یا وفاقی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بلوچستان کے قومی وسائل کا فیصلہ بند کمروں میں اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق کرے انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں اور سیندک حکا م کو کئی بار درخواست دی کہ وہ 2003،2013اور حال ہی (اکتوبر2017)میں ہونے والے معاہدوں کی نقول اخبارات میں مشتہر کریں اور عدالت کو فراہم کریں ۔

لیکن سیند ک میٹلز نے اس سلسلے میں مسلسل خاموشی اور نظر انداز کر نے کی پا لیسی اپنائی ہے ،عدالت کی جانب سے گزشتہ سماعت پر وفاقی ،صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے طلب کردہ جواب سے متعلق استفسار پر وفاق،صوبے اور سیندک میٹلز کے وکلاء نے عدالت سے مزید وقت ما نگنے کی درخواست کی ۔

جبکہ درخواست گزار ثناء بلوچ نے اکتوبر 2017میں ہونیوالے توسیع معاہدے کو معطل کرنے کی استدعا کی ،دوران سماعت چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی نے ریمارکس دئیے کہ سیندک کیس اہم نوعیت کا ہے اور یہ بلوچستان میں معدنیات سے متعلق معاہدوں میں پائے جانے والے ابہام کو دور کر نے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے ۔

چیف جسٹس پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار کو کیس میں ترمیمی درخواست دائر کر نے بھی کہا کہ تا کہ کیس سے متعلق معاہدات کی کابیاں عدالت کو فراہم کی جاسکیں ،جبکہ عدالت نے تمام اداروں اور متعلقہ فریقین کو آئند سماعت پرپیش ہوکر جواب داخل کر نے کے احکامات جاری کردئیے اور کیس کی سماعت 21دسمبر تک ملتوی کردی