|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2017

کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک عظیم معاشی منصوبہ ہے جو پورے خطے میں سماجی واقتصادی ترقی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اس میگا پروجیکٹ کے تناظر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وسائل اور افرادی قوت کو بروئے کار لانے کے لئے نئی نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ علم وہنر سے روشناس کرائیں تاکہ خطے میں رونما ہونے والی اقتصادی تبدیلیوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے قابل ہوسکیں۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز کے ساتویں سینٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور ان کی ڈگریوں کو دنیا بھر میں قبولیت حاصل ہوسکے۔ 

گورنر نے موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب تک صوبہ کے 43 ڈگری کالجوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کا اجراء خوش آئند ہے جس سے مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر ہمارے تعلیمی اداروں اور ان کی ڈگریوں کی تصدیق ہوسکے گی۔ 

گورنر نے آئی ٹی یونیورسٹی کے ارکان پرزور دیا کہ وہ یونیورسٹی کی مزید بہتری اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد نہ صرف نوجوان نسل کو جدید علمی جہاں بینی سے منور کرنا ہے بلکہ انہیں معاشرے کو کچھ کنٹری بیوٹ بھی کرنا ہوتا ہے۔ 

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی ملک میں تعلیم کی شرح 54فیصد ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقریباً ہماری نصف آبادی آج بھی ناخواندہ ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ ہماری موجودہ پڑھی لکھی آبادی بھی بیروزگاری کا شکار ہے جس میں ڈاکٹرز اور انجینئرز جیسے پیشہ ور تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل ہیں۔ 

گورنر نے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ معاشرے سے ناخواندگی کی لعنت کا خاتمہ کرنے اور علم وشعور کے چراغ روشن کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کریں۔ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے زیرانتظام ایک نئے اسکول کے قیام سے متعلق ڈاکٹر حقداد ترین نے ایک رپورٹ پیش کی جس کو شرکاء نے سراہا۔