|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2017

مچھ: بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ ہماری سیاست کا محور بلوچ اور بلوچستان ہے بلوچ سرزمین تشخص اور بقاء پر سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں سابقہ جنرل الیکشن میں پارٹی کے مینڈیٹ چراکر مختلف پارٹیوں کو دی گئی بعض قوتیں پارٹی کو دیوار سے لگانے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں ۔

انہیں یہ تواقع نہیں رکھنا چائیے کہ بی این پی بلوچ قوم کی جملہ مسائل پر سودے بازی کریگی چترال سے ہمیں کوئی سروکار نہیں بولان کی دعوی صرف لفاظی باتیں ہیں بولان بلوچوں کا مسکن ہیں اور بلوچوں کے تاریخی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے مچھ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ان کے ہمراہ بی این پی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری موسی بلوچ بی این پی مچھ کے بلال احمد سمالانی حسن راہیجہ ملک آماچ سمالانی بھی تھے انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ حقیقی سیاسی لیڈروں کو دیوار سے لگایا گیا ہے جس کیوجہ سے بلوچ وطن تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

جعلی نمائندوں کوعوام پر مسلط کیا گیا ہے بلوچ وطن معدنیات سے مالا مال ہے لیکن بلوچ عوام دووقت کی روٹی کیلئے محتاج ہیں بلوچستان میں 40لاکھ افغان مہاجرین آباد کاری سی پیک لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں بلوچ مسئلہ پر کھبی سمجھوتہ نہیں کیا جس کیوجہ سے بعض قوتیں پارٹی کو دیوار سے لگانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ۔

جو ہنوز جاری ہے جس کی واضح مثال سابقہ دور الیکشن ہے پارٹی کے مینڈیٹ چراکر مختلف پارٹیوں میں بندر بانٹ دیے گئے بلوچستان کے سائل وسائل پر سودے بازی کرنے والے اسمبلیوں میں بیٹھ کر وزارتوں کا مزہ لے رہے ہیں ۔

پارٹی 2018کے الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اس بار ہماری مینڈیٹ چراگیا تو بلوچ عوام کی اعتماد اسمبلیوں سے اٹھ جائے گیا۔

انھوں نے کہا کہ نام نہاد قوم پرستوں نے کرپشن کی تاریخ رقم کردی پارٹی قائدسردار آختر جان مینگل نے چھ نکات سپریم کورٹ میں پیش کی اور بلوچستان کے اہم ایشوز پر ملکی سطح پر کانفرنس کا انعقاد کیا بی این پی کا سیاست اور جہدوجہد کا محور بلوچ اور بلوچستان ہے بلوچ قوم کی تشخص و بقاء کیلئے ہماری جہدوجہد جاری رئیگی ۔