|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2017

لورالائی:  پورے ملک بالخصوص بلوچستان میں اس وقت بجلی کا شدید بحران ہے جس کی بڑی وجہ کیسکو میں بے تحا شہ کرپشن اور مس منیجمٹ ہے ۔کیسکو کی جانب سے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے زراعت اور لائیو سٹاک کو تباہ کر دیااور زمیندار نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں۔ 

بلوچستان کی معیشت کا دارومدار زراعت اور لائیو سٹاک پر منحصر ہے رہی سہی کسر 2001تا2012 کی خشک سالی نے پوری کر دی اگر کیسکو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی کارکردگی کتنی ناقص ہے ،کیسکو کی جانب سے زراعت کو فروغ دینے کے لیے زمینداروں کے لیے زرعی ٹیوب ویل ا سکیم کا اعلان کیا گیا۔

جس میں 4000 روپے فی ٹیوب ویل فکس بل کی مد میں صارف کو ادا کرنے تھے۔اس اسکیم سے ہزاروں زمینداروں نے فائدہ اٹھایا۔

کچھ عرصے بعد یہ رقم 4000ہزار روپے سے بڑھا کر ماہانہ 6ہزار روپے کر دیا گیا۔کیسکو کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کے آپریشن ڈویژن لورالائی میں زرعی ٹیوب ویلز کی کل4128 ہیں جن میں 2384 ٹیوب ویلز کا سرکاری ریکاڈ موجود باقی1744 زرعی ٹیوب ویلز مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور کوئی بل ادا نہیں کر رہے ہیں۔

سب ڈویژن لورالائی میں ٹوٹل1363 ٹیوب ویلز ہیں جن میں سے810 کیسکو ریکارڈ میں موجود ہیں جن میں سے اکتوبر کے مہینے تک صرف 253ٹیوب یلز نے بل کی مد میں17 لاکھ 32ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوئے اور باقی 557 جوکہ کیسکو ریکارڈ میں موجود ہے جنہو ں نے کوئی بل ادا نہیں کیا اورباقی 553 ٹیوب ویلز کا تو سرکاری کھاتے میں ایک پائی تک جمع نہیں ہوئی۔

اگر ہم آپریشن ڈویژن لورالائی کے غیر قانونی ٹیوب ویلز جن کی تعداد1744 غیر قانونی ٹیوب ویلز کے ایک مہینے کا حساب لگائیں تو یہ ایک کروڑ46 چار ہزار بنتی ہے اور سالانہ12 کروڑ55لاکھ 68ہزار روپے بنتی ہے اوریہ سکیم 6سال سے زرعی ٹیوبویلز کے لیے شروع کی گئی اگر چھ سالوں کا حساب لگائیں تو یہ رقم75 کروڑ34لاکھ8 ہزاربنتی ہے اور یہ رقم مبینہ طور پر کیسکوحکام کے جیبوں میں جاتی ہے اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگا ۔

اس کے علاوہ اگر آپریشن ڈویژن کیسکو لورالائی کے دیگر سب ڈویژنز پرنظر ڈالیں تو کوہلو سب ڈویژن 855 ٹیوب ویل قانونی اور1100غیر قانونی،سب ڈویژن دکی میں239 قانونی اور 45غیر قانونی،سب ڈویژن زیارت میں423 قانونی اور30 غیر قانونی،سب ڈویژن موسی خیل میں38قانونی اور16غیر قانونی ہیں اور اس کا تمام بوجھ ان صارٖفین پر ڈالا جاتا ہے اس کے علاوہ لوڈشیڈنگ کر کے یہ رقم پوری کی جاتی ہے۔

غیر قانونی ٹیوب ویل کنکشنز کی اصل تعداد کیسکو کی جانب سے دی گئی معلومات سے کئی گنا ذیادہ ہے جس کے ثبوت موجود ہیں۔دوسری جانب غیر قانونی ٹیوب ویل کنکشنز استعمال کرنے والے افراد میں سے اکثریت نے ہمیں ویڈیو انٹریوز دیتے ہوئے کیسکوحکام پر الزام لگایا کہ کیسکو کے اہلکار ہر ماہ ہم سے ٹیوب ویلز کنکشنز کی مد میں مقرر شدہ رقم کی وصولی کرتے ہیں اور اگر ہم یہ رقم ادا نہ کریں تو ہمارے علاقوں میں ذیادہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے اور کہیں طریقوں سے تنگ کیا جاتا ہے۔

کیسکو کے سپر ڈنڈنٹ انجنیئر رسد خان نے بتایا کہ محکمہ نے ان غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کہیں بار ایکشن لیا گیا ہے جس میں ٖبہت سارے چوری کے کنکشنز استعمال کرنے والوں کے خلاف FIRsکا ٹے گئے،بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور سینکڑوں غیر قانونی کنکشنز کاٹے گئے ہیں۔

جب ہم نے ان ایف آئی ار اور کاٹے گئے کنکشنز کی تفصیل(ڈاکومینٹس )بذریعہ RTI ایکٹ بلوچستان کے تحت طلب کی تو ہمیں اس کی کوئی ڈاکومینٹ فراہم نہیں کی گئی ۔