|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2017

کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ لیگی حکومت کا پہیہ مکمل جام ہوگیا ہے،نواز شریف کا آخری ٹھکانہ جیل ہے، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفے اور ماڈل ٹاؤن متاثرین کیلئے تحریک چلائیں گے۔

محمود خان اچکزئی کی باتوں سے پشتونوں کو دکھ ہو اہے ، وہ پشتونوں سمیت کسی کے رہنماء نہیں صرف نواز شریف کے حواری ہیں۔ عام انتخابات میں خیبر پشتونخوا میں کلین سوئپ اور بلوچستان میں بھی حکومت بنائیں گے ، ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ تحریک انصاف کا جمعیت علمائے اسلام سے کبھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔ 

یہ باتیں انہوں نے کوئٹہ پہنچنے کے بعد ایئر پورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو، میلاک ہال کوئٹہ میں ورکرز کنونشن اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر سردار یار محمد رند اور دیگر پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔ 

ایئر پورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھاکہ نواز شریف کی نا اہلی اور عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد سے مسلم لیگ ن کی حکومت کا پہیہ رکھا ہوا ہے ، اب سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق نجی رپورٹ کے بعد ان کی حکومت کا پہیہ مکمل جام ہوگیا ہے۔ 

اب ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت کی جانب سے دو ڈھائی سال سے چھپائی گئی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے ، اس رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالے قتل عام کے ذمہ دار دو افراد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔ 

ہمارا مطالبہ ہے کہ ان دو افراد کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔ شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ اگر ان پر کوئی انگلی تک اٹھائی گئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے اب انکو اپنا وہ پرانا بیان دیکھنا چاہیے نہیں تو ہم اس کی ویڈیو کلپ لیکرانہیں دکھائیں گے۔ 

جہانگیر ترین نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ پہلے سے کاٹا گیا ہے اب اس مقدمے کو عدالت میں چلنا چاہیے اور ان پولیس والوں کو عدالت کو بلاکر پوچھنا چاہیے کہ ماڈل ٹاؤن آپریشن کا حکم کس نے دیا تھا۔ باقر نجفی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جس سے بھی پوچھا گیا کہ آپریشن کا حکم کس نے دیا اس نے بتانے سے انکار کردیا تھا۔ 

عدالتی فیصلے پر نواز شریف کی تنقید سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور جب الیکشن لڑنا ہوتا ہے تو ووٹر کے پاس جاتے ہیں اور جب انصاف چاہیے ہوتا ہے تو وہ عدالت دیتی ہے۔ اس کیس میں عدالت نے تمام ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ دیا ہے جو انصاف پر مبنی ہے۔ 

اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم عوام کے پاس جارہے ہیں۔ تو اگلی دفعہ اگر کوئی چوری کرے گا اس کو بھی کہوں تم جتنی مرضی چوری کرو اور ڈاکے مارو پھر جاکر الیکشن لڑوں اور جیتنے کے بعد کہوں کہ عوام نے مجھے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اب میں چور نہیں ایم این اے ہوں۔ یہ قسم کی باتیں کی جارہی ہیں۔ عدالتیں انصاف کیلئے ہیں اور ووٹرز الیکشن کیلئے ہیں۔ 

اپنی نااہلی سے متعلق فیصلہ سنائے جانے میں تاخیر سے متعلق سوال پر پی ٹی آئی رہنماء4 کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور ہمارے کیس کا کوئی موازانہ نہیں۔ ان پر عدالت نے فرد جرم عائد کی ہے جبکہ ہمارے کیس کا جائزہ سپریم کورٹ لے گی ،اپنی بھی اتنی ہی پیشیاں ہوئیں جتنی نواز شریف کی۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے اور انشاء4 اللہ انصاف پر مبنی فیصلہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک سے باہر پیسہ کما کر پاکستان لایا اور منی ٹریل دی۔ 

میں نے جائز اور حق حلال کی کمائی کے تمام کاغذات اور منی ٹریل عدالت میں پیش کی۔ ٹیکس ادا کرکے رقم بیرون ملک بینکوں کے ذریعے بھیجی خدانخواستہ کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی۔

ہماری تمام منی ٹریل موجود ہیں جبکہ نواز شریف کی منی ٹریل صفر ہے۔ ان کی تمام تر منی ٹریل ایک قطری خط پر مبنی تھی لیکن احتساب عدالت میں کیس چلنے سے لیکر اب تک وہ کوئی گواہ اپنے حق میں پیش نہیں کرسکے۔ 

پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی جانب سے نوازشریف کا ساتھ نہ دینے والے پشتونوں کو بے غیرت قرار دینے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ یہ بیان سن کر حیرانگی ہوئی، اچکزئی صاحب کی بات سن کر نہ صرف بلوچستان کے پشتون بلکہ خیبر پشتونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے پشتونوں کو بھی دکھ ہوا ہوگا۔ 

وہ بہت عرصے سے خود کو پشتونوں کا رہنماء قرار دے رہے تھے اب ان کے بیان سے ثابت ہوگیا کہ وہ کسی کے رہنماء نہیں اور پشتونوں کے تو بالکل بھی رہنماء نہیں بلکہ صرف نواز شریف کے حامی ہیں۔ 

ایک اور سوال پر جہانگیر ترین نے کہا کہ خیبر پشتونخوا کی عوام پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی، گڈ گورننس سے مطمئن ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں ہم خیبرپشتونخوا سے کم از کم ساٹھ فیصد نشستیں جیتیں گے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے چار کے ضمنی انتخاب میں تمام جماعتیں ہمارے خلاف کھڑی تھیں اس کے باوجود ہم نے بائیس ہزار ووٹ کی برتری سے یہ الیکشن جیتا۔ 

دریں اثناء پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی بلوچستان میں منظم ہورہی ہے جس میں سردار یار محمد رند کا بڑا ہاتھ ہے، ہمارے ساتھ سیاستدان، وکلاء ،نوجوان اور خواتین شامل ہورہے ہیں۔ 

میرٹ کے بغیر ہمیں کہیں بھی کامیابی نہیں مل سکتی ۔پی ٹی آئی سے لوگوں کا لگاؤ بڑھ گیا ہے اس لئے 2013اور اب کی پی ٹی آئی میں بہت فرق ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمارے آنکھوں کے سامنے اس امیر ملک کو غریب بنایاجارہاہے ووٹ لینے والے ووٹ لیکر اپنی ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں جس سے واضح ہوتاہے کہ حکمرانوں کے دلوں میں غریب کا کوئی درد نہیں ۔حکمرانوں کی اولین ترجیح عوام کی خدمت نہیں ہے بلکہ اپنی مفادات ہے ۔بلوچستان کے لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔

ملک میں صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ ملک میں محل،میٹرو اور پل بن سکتے ہیں لیکن انسانوں پر خرچ نہیں کیا جاسکتا۔

ان کاکہناتھاکہ کرپشن کے خلاف تحریک انصاف نے جدوجہد کی جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم نوازشریف نااہل بلکہ میاں نوازشریف اور ان کے بیٹوں کو نیب قانون کے مطابق بھی سزا ہوگی ۔

میاں نوازشریف اپنی دفاع کیلئے ایک گواہ تک پیش نہیں کرسکے اور دوسری جانب بے گناہی کا رونا رورہے ہیں ۔پاکستان میں صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں،کبھی لوگ مسلم لیگ اورکبھی وہی لوگ پیپلزپارٹی میں ہوتے ہیں۔اس وقت پاکستانی عوام کے امیدوں کی آخری کرن عمران خان ہی ہے جو وزیراعظم بن کر ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرینگے۔ نوازشریف کا آخری ٹھکانہ جیل ہے۔ 

جب تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا اس وقت تک غریب کو اس کا حق نہیں مل سکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کے بعد شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ فوری مستعفی ہو جائے۔ ماڈل ٹاؤن متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے طاہر القادری کیساتھ ملکر تحریک چلائیں گے۔ 

جہانگیر ترین نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور عمران خان کا پیغام گھرگھر پہنچا۔بلوچستان میں آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگی جس کے بعد ہم ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ اگر انہوں نے قومی سلامتی کو قبول کیا تو انہیں ساتھ لیکر چلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں سیاست میں سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن واضح کہتا ہوں تحریک انصاف کا جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم ملک کو نقصان پہنچانیوالوں سے انتخابی اتحاد نہیں کرینگے۔