|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2017

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔

امریکی صدر نے اپنے متنازع فیصلے کے اعلان کے دوران کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔

انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ‘یہ ایک حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے’ جس کو کر گزرنا تھا اور یہ امریکا کے بہترین مفاد میں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ صہیونی ریاست کے مطالبے پر 1995 سے امریکا کا قانون تھا کہ واشنگٹن کے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) منتقل کردیا جائے تاہم قانون کی منظوری کے بعد ہر 6 مہینے میں اس قانون پر عمل درآمد روک دی جاتی تھی۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا کے دہائیوں پر مشتمل فیصلے پر عمل درآمد کرلیا ہے جس کے حوالے سے خلیجی ممالک کی جانب سے بھرپور غصے کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل میں دنیا بھر کے سفارت خانے تل ابیب میں واقع ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں قونصل خانے قائم ہیں کیونکہ عالمی برادری بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں مانتی تھی اور مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس حیثیت رکھنے والے اس شہر کی حیثیت کو متازع تسلیم کرتی ہے۔

خیال رہے کہ اس فیصلے سے قبل فلسطینی حکام کے علاوہ ترکی، پاکستان، ایرانی سمیت مسلم دنیا کی جانب سے امریکا کے ممکنہ متنازع فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘امریکا کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی’۔

بیت المقدس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ ‘مقدس شہر القدس الشریف کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کردے گا’۔

امریکی متنازع فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس کا کہنا تھا کہ ‘اس اقدام سے مسئلے پر دہائیوں سے موجود عالمی اتفاق رائے کو نقصان پہنچائے گا اور خطے میں پائیدار امن کے کسی بھی عمل کو ختم کرنے سمیت خطے کی سلامتی کو بھی زک پہنچائے گا’۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے خبروں کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان اس معاملے پر او آئی سی کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے حتمی فیصلے کی توثیق کرتا ہے’۔

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے گفت وشنید کا مطالبہ کیا تھا اور امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم اس طرح کے اقدام کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں کہ اگر بیت المقدس سے متعلق کوئی ظالمانہ فیصلہ اپنایا گیا تو فلسطینی عوام سے انتفاضہ بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

بعد ازاں صدرمحمود عباس نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالخلافے کے طور پر قبول کرنا یا بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے حوالے سے کوئی قدم سے ‘خطے میں امن کے مستقبل کے لیے خطرات بڑھیں گی اور یہ ناقابل قبول ہے’۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’یروشلم‘ یا بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی یا دباؤ اور طاقت کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے اور اس سے گریز کرنے کے حوالے سے اسرائیل مخالف قرار داد پیش کی گئی تھی۔

یہ قرار داد ان رپورٹس کے بعد ہی پیش کی گئی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اس قرار داد کے حق میں سب سے زیادہ 151 ریاستوں نے ووٹ دیا جبکہ 6 ریاستوں امریکا، کینیڈا، مائیکرونیزیا کی وفاقی ریاستوں، اسرائیل، جزائر مارشل، ناورو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

اس کے علاوہ 9 ریاستوں آسٹریلیا، کیمرون، وسطی جمہوری افریقہ، ہونڈراس، پاناما، پاپوا نیو گنی، پیراگوائے، جنوبی سوڈان اور ٹوگو نے قرارداد پر ووٹ دینے سے گریز کیا تھا۔