|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2017

کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی نے بیت المقدس کے حوالے سے امریکی پالیسی کو افسوسناک اور مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو مذہبی جنگ میں دھکیلنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ۔

ہمارے خطے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے، ہم روز اول سے مذہب کے نام پر انتہاء پسندی اور تشدد کے خلاف رہے ہیں ہمارے علمائے کرام کو باچاخان کی اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ امریکہ کی دوستی بھی مفاد کی ہے اور دشمنی بھی ۔

مسلم ممالک فوری طور پر اسلامی ممالک کی تنظیم (ا و آئی سی ) کا اجلاس بلا کر لائحہ عمل طے کریں اور پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو امریکہ کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی اور امداد کے معاہدے معطل کرکے اس وقت تک امریکہ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جب تک ٹرمپ اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی نہیں کرتے ۔

مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی پالیسی کے خلاف فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے عوامی نیشنل پارٹی 11دسمبر کو صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرے منعقد کرے گی جبکہ12دسمبر کوکوئٹہ میں احتجاج کیا جائے گا او ریوم سیاہ منایا جائے گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی سہ پہر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ 

اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ ، نوابزادہ ارباب عمر فاروق کاسی ، سید امیر علی آغا، جمال الدین رشتیا ، مابت کاکا اور یاسین آغاسمیت اے این پی کے دیگر صوبائی قائدین بھی موجود تھے ۔

اے این پی کے صوبائی صد ر اصغرخان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ روز اسرائیل کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جو پالیسی بیان سامنے آیا ہے اور مقبوضہ بیت القدس کے حوالے سے جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔

جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی ہے اور ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں مقبوضہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اورمقدس شہر ہے جس کے ساتھ فلسطین ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے اس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی فیصلہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو ایک نئی مذہبی جنگ میں دھکیلنے کی نئی سازش ہے جس سے ہمیں خبردار رہنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ دنیا بھر میں جاری محکوم اقوام کی تحریکوں کی حمایت کی ہے فخر افغان باچاخان نے 1926ء میں بیت المقدس کا دورہ کیا تھاوہ 1926ء سے1928ء تک وہاں رہے باچاخان کی اہلیہ کا انتقال بھی بیت المقدس میں ہوا فخر افغان باچاخان نے اس وقت خبر دار کیا تھا ہم آج بھی فلسطینیوں کی مظلومیت پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر امریکہ نے گزشتہ روز جو فیصلہ کیا ہے ۔

اس سے اس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ جارح قوت کی پشت پر کھڑی ہے بیت المقدس سے متعلق اس کا حالیہ فیصلہ ہمارے اس خطے اور مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کے لئے نیک شگون نہیں امریکہ کا یہ فیصلہ ایک نئی جنگ کا محرک بن سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں ۔

اگر ان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات ہیں تو فوری طو رپر ختم کردینے چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں جو امریکہ سے امداد اور خیرات لیتے ہیں یا ان کے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی معاہدے ہیں فوری طور پر ان معاہدوں کو معطل کرکے امریکہ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور فی الفور اسلامی ممالک تنظیم ( او آئی سی ) کا اجلاس بلا کر لائحہ عمل بنانا چاہئے تاکہ امریکہ اپنے اس فیصلے پرنظرثانی پر مجبور ہو ۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ اس خطے کے حوالے سے فخر افغان باچاخان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے جو باتیں کہی تھیں آج وہ ایک ایک کرکے سچ ثابت ہورہی ہیں ہماری قیادت نے اسی وقت بتادیا تھا کہ امریکہ کا کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی دشمن ۔

امریکہ کی دوستی بھی مفادات کے لئے ہوتی ہے اور اس کی دشمنی بھی مفادات کے لئے ہوتی ہے مگر تب ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ہمارے اس پورے خطے میں مسلح لوگوں کو ابھارا گیا اور یہاں ایسا خونی کھیل کھیلا گیا جس کی وجہ سے یہاں یتیموں اور بیواؤں کی تعدا د بڑھی علمائے کرام سے ہم نے پہلے بھی اپیل کی تھی آ ج بھی اپیل کرتے ہیں کہ خدا راہ مذہبی قوتیں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں ۔

یہاں ہمارے اس خطے میں جن لوگوں نے بندوق اٹھائی وہ کس کے کہنے پر اٹھائی وہ کس کے اتحادی رہے وہ امریکہ کے اتحادی تھے اور امریکہ اسرائیل کا اتحادی تھا آج امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرکے اپنا چہرہ بھی دکھادیا ہے اور خدشہ ہے کہ اب پھر سے ایک نئی مذہبی جنگ کی بنیاد ڈالی جائے گی جس سے ہمارا یہ خطہ بھی محفوظ نہیں رہ پائے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 11دسمبر کو صوبہ بھر میں پارٹی کے زیراہتمام احتجاجی مظاہر ے کئے جائیں گے اور12دسمبر کو کوئٹہ میں احتجاج کیا جائے گا اور یوم سیاہ منایا جائے گا جس کے دوران پارٹی دفاتر پر سیاہ جھنڈے لہرائے جائینگے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں تمام اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ ہر طرح کے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اس حوالے سے اپنا ایک مشترکہ لائحہ عمل بنائیں ہمیں متحد ہو کر یکجہتی سے فیصلے کرنے ہوں گے جن کے نتیجے میں مشکلات ضرور پیش آسکتی ہیں مگر یہ مشکلات وقت مشکلات ہوں گی ۔