|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2017

کوئٹہ : ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفورحیدری،وفاقی وصوبائی وزراء، اراکین قومی اسمبلی نے کہاہے کہ بلوچستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن صوبے کے نوجوانوں کو درست سمت دیکھانے کی ضرورت ہے ۔

بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے حکومت کی ذمہ د اری ہے کہ وہ صوبے کی معدنیات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ثمرات سے بلوچستان کو مستفید کرے سی پیک سے آنے والی معاشی ترقی کا صرف اس صورت میں فائدہ ہوگا جب بلوچستان کے نوجوان ہنر اور تعلیم یافتہ ہونگے ۔

یہ با ت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری ، وفاقی وزراء میر حاصل بزنجو ،میر جام کمال ،رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین ،صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے جمعرات کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں وائس آف بلوچستان کے زیراہتمام بلوچستان کے نوجوانوں میں افرادی قوت کی بہتری کے حوالے سے منعقدہ انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفوری حیدری نے کہاکہ کالج او ریونیوسٹیوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کے پاس روز گار کے موقع میسر نہیں ہیں بلوچستان میں چپڑاسی اور چوکیدار کی آسامیاں بھی بک گئی ہے جب نوکری نہیں ملتی تو نوجوان مایوس ہوکر چند ہزار روپیوں کیلئے دھماکے کرتے ہیں نوجوانوں کی فلاح وبہبو د کیلئے ٹیکنیکل ادارے بنانے چاہیے تاکہ وہ ہنر مند ہوں اور اپنے لئے خود روزگار کے مواقع پیدا کریں ۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے کی تجویز مولانا فضل الرحمن نے 1997ء میں دی تھی سی پیک سے فائدہ اٹھانا ہے تو اکنامک زون بنانے ہونگے تاکہ چین کیساتھ کیساتھ ہم اپنے مفاد کا بھی دفاع کرسکے بھار ت اور دیگر ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان معاشی طورپر مستحکم ہوں اس لئے وہ بلوچستان میں بد امنی پید ا کررہے ہیں بلوچستان کی ترقی کیلئے یہاں ایک منظم ترقیاتی پیکج دینا چاہیے ۔

وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ میر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ بلوچستان میں نوجوانوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے وہ ہیں جو سکول نہیں جاتے دوسرے وہ جو مدرسے جاتے ہیں اور تیسرے سکول او رکالج جانے والے بلوچستان میں 50فیصد خواتین ہیں جن میں سے صرف 2یا 3فیصد سکول جاتی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ نان سکول گوئنگ بچوں کیلئے الگ اسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے مدرسے کے بچے جدید تعلیم سے محروم ہیں اس لئے وہ عملی میدان میں ڈیلیور نہیں کرپاتے حکومت میں یہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ عملی طورپر نوجوانوں کو ان بورڈ لے سکیں بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ بھی انتہائی قلیل ہے ۔

صوبے میں 25ہزار پرائمری سکولوں کی ضرورت ہے موجودہ بجٹ میں رہتے ہوئے اس ہدف تک پہنچنے کیلئے 45سال درکا رہیں بلوچستان کو ایک خصوصی پلان کی ضرورت ہے جس سے یہاں تیز ترقی ممکن ہوسکیں۔

وفاقی وزیر میر جام کمال نے کہاکہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے مگر اسے درست سمت دینے کی ضرورت ہے ہمارے یہاں نوجوانوں سے متعلق منظم ڈیٹا موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے میں مشکلات آتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے نوجوانوں کو بہتر مستقبل دینا ہے تو انفر سٹرکچر کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان میں شہری آبادی کم ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ہمیں سی پیک کے علاوہ بھی اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا کیونکہ یہ واحد منصوبہ نہیں ہے جس سے ترقی ہوسکے ۔

انہوں نے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو سیاسی اور انتظامی امور میں شامل کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان میں جس دن صوبے کے عوا م نے اپنی صحیح تعداد میں ووٹ کا استعمال کیا اس دن تبدیلی آجائے گی ۔

رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین نے کہاکہ اگر ہم نے پاکستان کو عظیم اور نامور ملک بنانا ہے تو ہر طبقے او رہر علاقے کو برابر ترقی دینی چاہیے ریاست کی ذمہد اری ہے کہ وہ تمام علاقوں کو انکی ضروریات کے مطابق برابر ترجیح دیں ملک میں ہر بچے کے پاس برابری کے ہنر ہوں کالج ،یونیورسٹیوں او رہائی سکول کے بچوں پر زیادہ سے زیادہ وسائل خرچ کئے جائیں اس سے پاکستان میں تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی اور اگر ہم نے پاکستان کو ورلڈ کلاس ملک بناناہے تو اپنی یونیورسٹیوں کو آزاد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ مسائل مثبت سوچ سے حل ہونگے سیاستدان اگر چاہیے تو ملک تبدیل ہوسکتا ہے حکومت بنانے کا مقصد طاقت کے حصول کے بجائے گوڈ گورننس اور ملک کی بہتری ہونا چاہیے دیر پا ترقی کیلئے ہمیں لانگ ٹرم منصوبوں پر کام کرنا ہوگا ۔

صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہاکہ صوبائی حکومت نے تعلیمی بجٹ 2فیصد سے بڑھا کر 24فیصد کیا ہے صوبے میں 8یونیورسٹیاں بنائی گئی ہے بلوچستان کیلئے چینی حکومت نے گیارہ ارب ڈالر منظور کئے ہیں پہلے امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب تھی لیکن ہم نے امن قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم سی پیک کے خلاف اس لئے نہیں بولتے کیونکہ اسکے خلاف بیرونی سازشیں ہورہی ہیں مگر ہم اندرونی کسی سازش کو نہیں ہونے دینگے ۔سی پیک کے مغربی روٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے ہمیں جمہوریت عزیز ہے ۔

ون مین ون ووٹ کیلئے ہم نے جیلیں کاٹی ہیں بلوچستان ناانصافیوں کی وجہ سے آج اس حال میں ہے سی پیک میں اب تک نا گوادر نہ ہی بلوچستان کے کسی اور علاقے میں پیسہ خرچ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج تک جتنی پالیسیاں بنائی گئی ہے وہ ریسرچ بیسڈ نہیں تھیں ہمیں مستقبل کیلئے واضح پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہیں۔