|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ زراعت میں گریجویٹ فیلڈ اسسٹنٹ ملازمین جو عرصہ دراز سے ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔

ان کو ترقی نہ دینا اور لورالائی ، تربت ، خضدار کے میڈیکل کالجز میں ایڈمنسٹریٹرز سمیت دیگر آسامیوں پر دیگر صوبوں کے لوگوں کو میرٹ کی آڑ میں تعینات کرنے کا عمل قابل مذمت ہے ۔

صوبائی حکومت کے وزیر محکمے میں اپنے من پسند اور سیاسی جیالوں کو بھرتی کر رہے ہیں جبکہ کئی سالوں سے گریجویٹ فیلڈ اسسٹنٹ اور دیگر ملازمین جو ایمانداری سے ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں تاکہ ان کی ترقی ہو سکے لیکن سرکاری محکمے میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتی کا عمل تو جاری ہے جبکہ ملازمین جن کی عرصہ دراز سے اپ گریڈیشن اور ترقی نہیں ہوئی ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہاپ گریڈیشن اور ترقیوں میں پہلے سے بھرتی ملازمین کو ترجیح دی جائے پہلے ہی بلوچستان کے مرکزی محکموں میں جعلی ڈومیسائل اور لوکل کے ذریعے بلوچستانیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اب رہی سہی کسر میڈیکلز کالج پر میرٹ کی آڑ میں بلوچستانیوں کی حق تلفی کی جا رہی ہے جو کسی بھی صورت درست نہیں پارٹی میرٹ پر تعیناتیوں کے خلاف نہیں میرٹ ہونی چاہئے ۔

ڈویژن اور ضلع کوٹہ کی سطح پر یہ نہ ہو کہ دیگر صوبوں کے بے روزگاروں کو بلوچستان میں کھپایا جائے حکومت بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ می مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اب رہی سہی کسر ایسے ناانصافیوں سے پوری کی جا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد قوم پرست بھی اس حوالے سے خاموش ہیں موجودہ دور حکومت میں تو بلوچستان کے ہر طبقہ فکر کے ساتھ ناانصافیاں کی جا رہی ہے اور تمام سرکاری امور اپنے مرضی و منشاء کے مطابق چلا رہے ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں پہلے ہی بے روزگار ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے باصلاحیت اور قابل ڈاکٹرز جن کے تعلق بلوچستان سے ہے نئے میڈیکل کالجز میں پہلی ترجیح بلوچ ، پشتون ، آباد کار اور ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے بلوچستان کے نوجوان بے روزگاری کمسپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں یہاں پر بھی دیگر صوبوں کے لوگوں کو میڈیکل کالجز میں تعینات کرنا باعث مذمت عمل ہے ۔