|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2017

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے وسائل کو ترقی دے کر وفاق پر انحصار ختم کرنا ہوگا، ہم بے پناہ وسائل کے مالک ہیں اور اٹھارویں ترمیم کے تحت اپنے وسائل پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔

بلوچستان غریب صوبہ نہیں ہمارے پاس ریکوڈک ،سیندک سمیت بے پناہ معدنی وسائل ہیں، وفاق سے ہمیں نہایت کم حصہ ملتا ہے، جس سے ترقی نہیں ہو سکتی۔ ہم جب تک اپنے وسائل بروئے کار نہیں لائیں گے ترقی نہیں کر سکیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی حکومت کے زیر اہتمام وائس آف بلوچستان کے اشتراک سے منعقدہ یوتھ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

سیمینار کے مہمان خصوصی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جبکہ وفاقی و صوبائی وزراء ، اراکین صوبائی اسمبلی و سینیٹ ، اینکر پرسنز، چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق، یونیورسٹیوں، کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کی بہت بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی اور اپنی نالائقی کی وجہ سے ہم ناتو اپنے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے مناسب منصوبہ بندی کر سکے اور نا ہی اپنے وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لا سکے، حالانکہ خوش قسمتی سے ہماری آبادی کم اور وسائل بے پناہ ہیں جنہیں صحیح معنوں میں استعمال کیاجائے تو ہر بے روزگار خاندان کو ماہانہ 15سے 20ہزار روپے دئیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 1.5ملین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے اگر ہمارے پاس وسائل ہوں تو ہم ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، جس سے صوبہ زرعی طور پر خود کفیل ہو گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل سے منگی ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا ہے جبکہ حلک ڈیم ، برج عزیز خان ڈیم اور بابر کچھ ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے جبکہ کوئٹہ کو پٹ فیڈر کے ذریعے پانی کی فراہمی کے منصوبے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی کاوشوں اور عوام کے تعاون سے امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مثبت تبدیلی کا عوام خود مشاہدہ کر رہے ہیں، ہم نے نام ونہاد آزادی کے دعویداروں کی کمر توڑ دی ہے، باقی رہ جانے والے راہ راست پر آجائیں ورنہ انہیں بھی کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔

ہمیں مذہبی دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہے تاہم پاک فوج، ایف سی ، پولیس، لیویز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مذہبی دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بھرپور کام کر رہے ہیں اور اس پر بھی جلد قابو پا لیا جائیگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں تھا ، گوادر پورے ملک کے لیے ایک بڑی نعمت ہے اور اگر گوادرنہ ہوتا تو ناہی سی پیک بنتا اور ناہی چینی سرمایہ کاری آتی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا 45فیصد حصہ ہے اور اگر ہماری سمندری حدود کو بھی شامل کیا جائے تو ہم پاکستان کا نصف سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی زمین پر ہوتی ہے ہمیں اپنے وسیع رقبے کے باعث زیادہ ترقیاتی فنڈز کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ نے کہاکہ جہاں ارادے پختہ ہوں وہاں آگے بڑھنے کے راستے نکلتے ہیں ہمارے ارادے اور عزم مضبوط ہیں اور ہم ایک پڑھا لکھا اور پرامن بلوچستان دے کر جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنی اننگز کھیل چکے ہیں بلوچستان کا مستقبل ہماری نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے، یوتھ کو موبلائز کئے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے ہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی کا تقریباً نصف 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے ،یوتھ کا ایک حصہ پڑھا لکھا جبکہ ایک حصہ غیر تعلیم یافتہ ہے۔ 

بد قسمتی سے اور ماضی کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں شرح تعلیم دیگر صوبوں سے نہایت کم ہے لیکن خوش قسمتی سے ہماری نوجوان نسل تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود باشعور ضرور ہے اور اچھے اور برے میں فرق کو سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی صحیح سمت میں راہنمائی کریں، پڑھے لکھے نوجوانوں کو مزید اعلیٰ تعلیم کے مواقعوں جبکہ کم پڑھے لکھے اور غیر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تربیت کی فراہمی کے ذریعے کارآمد اور ہنر مند بنا کر یوتھ کی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت ایسی پالیسیوں پر کام کر رہی ہے جن پر عملدرآمد سے ہماری نوجوان نسل ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت کے طور پر ابھرکر سامنے آئے گی۔ جو معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے لیے باعزت اور باوقار روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ آج کا یہ سیمینار جس میں ہم سب ملکر بیٹھے ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں یوتھ کی ترقی کے حوالے سے ایک دوسرے کے خیالات اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے نئے تصورات سامنے آئے ہیں جو مستقبل کی پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ 

سیمینار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنما اور معاشرے کے مختلف حلقوں کے بااثر افراد شریک ہیں۔ جن کی قیمتی آراء ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی، جبکہ میڈیا کے نمائندگان جن کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوتا ہے پالیسی و فیصلہ سازی کے عمل میں عوامی رائے کے مطابق حکومت کی راہنمائی کریں گے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کی صورت میں ہمیں ترقی کا بہت بڑا موقع مل رہا ہے، جس سے صحیح معنوں میں استفادہ کر کے تعمیر و ترقی کے ایک عظیم سفر کا آغاز ہو سکتا ہے اور اس سفر میں یقیناًیوتھ کا بہت بڑا کردار ہوگا۔ 

انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری صرف ایک گزرگاہ ہی نہیں بلکہ صنعتی اور تجارتی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، راہداری سے منسلک دیگر ترقیاتی منصوبے خاص طور سے صنعتی زونز کے قیام سے ناصرف صوبے کی معدنیات اور دیگر خام پیداوار کو استعمال میں لایا جا سکے گا بلکہ صنعتی کاری کے عمل سے روزگار کے بے پناہ مواقع بھی پیدا ہونگے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو وکیشنل ٹریننگ دے کر مستقبل قریب میں صوبے میں قائم ہونے والی صنعتوں کے لیے بہترین ہنر مند افرادی قوت فراہم کر سکتے ہیں، جو صحیح معنوں میں انسانی وسائل کی ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔

وزیراعلیٰ اسکیم کے تحت میرٹ پر طالب علموں کو میرٹ پر 10 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے جا رہے ہیں جبکہ گوادر سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم اور فعال کئے جا رہے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم اپنی یوتھ کی راہنمائی نہ کر سکے تو معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور خدانخواستہ یہ نوجوان ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں استعمال ہونگے اور عمومی جرائم میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ثابت ہوگی جو ناصرف حکومت بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے بہتر انداز میں نمٹنا حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام بااثر حلقوں بالخصوص نجی شعبہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ 

انہوں نے کہاکہ حکومت اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور میرٹ پر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کی پالیسی پر کاربند ہے اور موجودہ حکومت نے مختلف محکموں میں 25ہزار سے زائد آسامیاں پیدا کی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نجی شعبہ میں کام کرنے والے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بے روزگار ی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ہاتھ بٹائیں اور اپنے اداروں میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے۔ 

وزیراعلیٰ نے نوجوانوں اور معاشرے کے تمام حلقوں پر زور دیا کہ وہ ترقی کے عمل میں حکومت کی راہنمائی اور تعاون کریں اور اس حوالے سے اپنی آراء دیں کیونکہ حکومت اور سول سوسائٹی مل کر ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ 

اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے سیمینار میں شریک مہمانوں میں یادگاری شیلڈ تقسیم کیں۔