|

وقتِ اشاعت :   December 8 – 2017

اسلام آباد :  پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کی اووربلنگ کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے وزارت توانائی اور نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے جامع اقدامات ضروری ہیں ،بل دینے والے صارفین اب تک اس مد میں 200ارب روپے دے چکے ہیں۔

جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے اراکین راجہ محمد جاوید اخلاص، شیخ رشید احمد ، میاں عبدالمنان، صاحبزادہ محمد نذیر سلطان،شیخ روحیل اصغر، شفقت محمود، ڈاکٹر عارف علوی، رانا افضل حسین ، چوہدری نذیراحمد، سعید احمد خان، سردار محمد جعفر لغاری، سردارعاشق حسین گوپانگ، عذرا فضل پیچوہو، سید غلام مصطفیٰ شاہ، سید کاظم علی شاہ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سید نوید قمر، عبدالرشید گوڈیل،محمود خان اچکزئی، شاہدہ اختر علی، تنویر خان، اعظم خان سواتی اور سینیٹر ہدایت اللہ کے علاوہ چئیرمین نیپرا ، وزارت کے اعلیٰ افسران اوردیگرمتعلقہ افراد نے شرکت کی۔ 

اجلاس میں پاورڈویژن کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیاگیا۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ بجلی کی تمام تقسیم کارکمپنیاں اپنے نقصان کو پورا کرنے کیلئے صارفین سے زیادہ بل وصول کررہی ہیں۔ 

انہوں نے چئیرمین نیپرا اور وزارت کے سیکرٹری سے کہا کہ تکنیکی نقصانات اوربجلی چوری کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ صارفین پراضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے جو ناانصافی ہے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن یوسف نسیم کھوکھرنے کہا کہ اووربلنگ کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، زیادہ بل بھیجنے کے ذمہ دار افسران کو تین سال قید کی سزا دی جائیگی۔ 

آڈٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سال 2016-17 میں پاور پلانٹس کے استعداد سے کم استعال کی وجہ سے 28.183 ارب روپے کے نقصانات ہوئے ہیں۔ تمام آئی پی پیز اور جنکوز ’’بجلی دو اورقیمت ادا کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کو بجلی فراہم کرتی ہے، اس اصول کے تحت سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی پلانٹس سے فراہم کردہ تمام بجلی کی ادائیگی کی پابندہے۔ 

آڈٹ حکام نے بتایا کہ سسٹم میں بجلی کی طلب کے باوجود آئی پی پیز اور جنکوز کے پاور پلانٹس بجلی استعدادکے مطابق فراہم نہیں کرتے، استعداد سے کم بجلی کی پیداوارسے ایک طرف تو صارفین کو8 سے 12گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف پیداوری استعداد سے کم بجلی کے نقصانات کو بجلی کی قیمت میں اضافے سے پورا کیاجارہاہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ آئی پی پیز اورجنکوز کے پاور پلانٹس سے پوری استعدادکے مطابق بجلی حاصل نہیں کی جارہی، ’’ٹیک آر پے ایگریمنٹ‘‘ کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ کا بوجھ عام صارفین پرپڑتاہے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن یوسف نسیم کھوکھرنے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت نے لائن لاسز کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے فعال حکمت عملی اپنائی ہے۔

اسی طرح اوور بلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے کئی اہم انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں زیادہ بجلی بل بھیجنے والے افسران کو تین سال جیل کی سزا شامل ہے۔ سید خورشید شاہ نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں 20 دسمبرکو ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں کے الیکٹرک کے آڈٹ اعتراضات کو20دسمبرتک موخرکردیاگیا۔