|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2018

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پاکستان میں نیٹو سپلائی کی ممکنہ بندش کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں افغانستان میں اس کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کے اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان میں زمینی و فضائی راستوں سے نیٹو سپلائی بند ہونے سے امریکا کے لیے افغانستان میں شدید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی، امریکی حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے استعمال کرنے پر غور کررہی ہے، جن میں شمالی راستے بھی ہوسکتے ہیں لیکن وہ روٹ بہت طویل اور دشوار گزار ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ امریکا کی جانب سے امداد کی بندش امریکی تحفظات سے پاکستان کو آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم شاید صرف مالی امداد کی بندش کافی نہ ہو بلکہ امریکی حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر اقدامات  پر بھی غور کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف مالی نہیں بلکہ دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، ہم امداد بند کرنے کے بعد پاکستان کے ردعمل اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ باہمی تعلقات متاثر نہ ہونے پائیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ تاحال تشویش کی کوئی بات نہیں کیونکہ پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

امریکا کا الزام ہے کہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں پر حملوں میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک ملوث ہے جن کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں، لہذا افغانستان میں کامیابی کے لیے ان محفوظ پناہ گاہوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے پاکستان کی ہر طرح کی مالی و فوجی امداد روکتے ہوئے تمام تر سیکیورٹی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔