|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

کوئٹہ: گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے کہا کہ پانچ برسوں کے دوران گوادر پورٹ جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا ۔

جہاں سالانہ 13 ملین ٹن سامان ہینڈ ل کرنے کی صلاحیت ہو گی اور2030 تک بند رگاہ 400 ملین ٹک تک سامان ہینڈل کر سکے گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا اکہ گہرے پانیوں کی بندر گاہ گوادر تجارتی اعتبار سے دنیا کے تین انتہائی اہم علاقے، تیل سے مالا مال مشرق وسطی، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔

چین کی جانب سے بے مثال مالی اور تعمیری کوشش بحیرہ عرب پر واقع حکمت عملی کے اعتبار سے پاکستان کی اہم بندر گاہ، گوادر کو تیزی سے ترقی دے کر اسے دنیا کی ایک سب سے بڑی سفری اور مال سباب کی منتقلی کی ایک تنصیب میں تبدیل کر رہی ہے ۔

دونوں فریق بندر گاہ کے اس شہر کو اربوں ڈالر کی ایک دو طرفہ اقتصادی راہداری کے ایک راستے کی شکل دینے کی توقع کر رہے ہیں، جسے دونوں اتحادی ملکوں کو باہم منسلک کرنے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

گہرے پانیوں کی بندر گاہ گوادر تجارتی اعتبار سے دنیا کے تین انتہائی اہم علاقوں، تیل سے مالا مال مشرق وسطی، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔بیجنگ، گوادر کو، سی پیک کے طور پر معروف چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری کے حصے کے طور پر ترقی دے رہا ہے ۔

دونوں ملکوں نے 2015 میں ا س پراجیکٹ کو چین کی ابتدا ئی طور پر لگ بھگ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان میں، مشترکہ طور پر شاہراہیں، ریلویز، پاور پلانٹس، کمیونیکیشنز اور صنعتی زونز کی تعمیر کے لیے شروع کیا تھا ۔

اس کا مقصد گوادر کو مغربی چین کے خشکی سے گھرے علاقے سے منسلک کرنا ہے تاکہ اسے پاکستان کے راستے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک نسبتا چھوٹا اور محفوظ راستہ مل سکے۔

پاکستان کے کچھ لوگوں کو فکر ہے کہ پاکستان چین کے ماہر ین، کارکنوں اور کاروباری افراد سے بھر جائے گا اور اس سے ملکی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا ۔

انہوں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ تصور درست نہیں ہے جو بندر گاہ پر اعلی ترین پاکستانی منتظم ہیں، کہتے ہیں کہ گوادر کے تعمیراتی اور دوسرے پراجیکٹس پر لگ بھگ 65 فیصد لیبر فورس پاکستانی ہے اور چینیوں کی تعداد صرف تین سو سے کچھ ہی زیادہ ہے۔

انہوں نے ایک عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت جو آپ دیکھ سکتے ہیں، جو زیر تعمیر ہے، پہلے سے تیار چینی ٹکنالوجی سے تیار کی گئی ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت اتنی بڑی عمارت کو دو یا تین ماہ میں تعمیر کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کام کے ساتھ ٹکنالوجی بتدریج پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے اور اس سے پاکستان میں چینیوں کی موجودگی مزید کم ہو جائے گی۔

عہدے دار توقع کر رہے ہیں کہ گوادر5 برسوں کے اندر اندر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا جہاں سالانہ 13 ملین ٹن سامان کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہو گی ۔

اور ان کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ بندر گاہ 400 ملین ٹن تک کا سامان ہینڈل کر سکے گی۔

سیکیورٹی کے خدشات اوراس پراجیکٹ کے راستے میں آنے والے کچھ علاقوں پر بھارت کے دعوے گوادر کے لیے مسلسل اہم اور سی پیک کے لیے عمومی چیلنج ہیں۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں جن فوری مسائل کا سامنا ہے وہ ہیں روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کا جانا اور پانی کی کمی ہے ان مسائل کے حل کے لئے حکومت اپنے وسائل قابل استعمال لا رہی ہے۔