|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق صوبائی وزیر حامد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نواب ثناء اللہ زہری کو وزیراعظم اور نہ ہی بلوچستان کی اتحادی جماعتوں نے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کی اندرونی رسہ کشی کے دوران بیرونی قوتوں کے دباؤ میں آکر استعفیٰ دیا۔ غیر جمہوری حکومت کا حصہ بننے سے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔

تحریک عدم اعتماد کے گناہ کبیرہ میں 400ووٹ والے لوگ شریک ہوئے۔چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ نیا وزیراعلیٰ صوبے کی اسمبلی توڑدے گا۔

وزارت اعلیٰ کے لئے امیدوار لانے سے متعلق تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے والے لیگی ارکان اور نیشنل پارٹی سے مشاورت کررہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں بی ڈی اے کے آفیسران اور عملے کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی تقریب کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

سابق صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ، بی ڈی اے اور کیو ڈی اے حامد خان اچکزئی نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال ہے ، کسی ہمسائیہ ملک سے ہمارے تعلقات درست نہیں، امریکہ دھمیاں دے رہا ہے کہ دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔

ان حالات میں بلوچستان میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی لگتا ہے کہ یہ لوگ وزیراعلیٰ یا حکومت سے ناراض نہیں تھے بلکہ اس حکومت کو سینیٹ انتخابات کی نذر کرنا چاہتے تھے تاکہ بعد میں دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں کو توڑ کر غیر جمہوری اور غیر آئینی ٹیکنوکریٹ کی حکومت کی تشکیل دے سکیں۔

تحریک عدم اعتماد ملک میں جمہوریت کی بساط کیلئے پہلا اقدام تھا ۔ ہم نے جمہوری نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت نہیں کی۔

جنہوں نے یہ تحریک پیش کی یہ ان کا جمہوری حق تھا لیکن اگر اس جمہوری عمل کے نتائج غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ پہنچائے یا ملک میں جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتر جائے تو اس کی ذمہ داری انہی لوگوں پر عائد ہوگی۔

ایک سوال پر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے ابھی تک وزارت اعلیٰ کا امیدوار لانے کا فیصلہ نہیں کیا تاہم اس سلسلے میں جمعہ کو اتحادی جماعت نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن ان ارکان جو عدم اعتماد کا حصہ نہیں تھے سے مشاورت کرکے حتمی فیصلہ کرینگے۔

آئندہ سیاسی مستقبل سے متعلق حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوامیپ ہمیشہ سے اپوزیشن کا حصہ رہی ہے انیس سو ستر کے بعد سے ہم دو مرتبہ جمہوری قوت کے ذریعے حکومت کا حصہ بنے ہیں اور غیر جمہوری قوتوں کامقابلہ کیا ہے ۔

ہم غیر جمہوری طریقے سے کسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کرینگے۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حامد خان اچکزئی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے گناہ کبیرہ میں ہمارا ہاتھ نہیں ۔ یہ ان کا جمہوری حق تھا لیکن جن لوگوں نے یہ تحریک پیش کی ان میں 65اور400ووٹ والے لوگ بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری اقداماات کا سلسلہ ہمارے صوبے سے شروع کیا گیا ۔ بلوچ پشتون زعماء کو محض اس چیز کی سزا دی گئی کہ انہوں نے کیوں خان عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پر جلسہ میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان قوتوں کی جانب سے جمہوریت کی بساط لپٹنے کی کوشش ہے جو ہمیں نظر نہیں آتیں۔ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ جو وزیراعلیٰ آئے گا وہ اسمبلی توڑ دے گا۔

اگر اسمبلیوں کو توڑنا ہی ہے تو قادری کے ساتھی زرداری پانچ منٹ میں یہ کام اپنے صوبے کی اسمبلی توڑ کر کرسکتا ہے اور خیبر پشتونخوا والا کھلاڑی بھی یہی کام پانچ منٹ میں کرسکتا ہے تو یہ بے عزتی اور سبکی ہمارے صوبے کے حصے میں کیوں آئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایسے حالات میں استعفیٰ دیا کہ انہیں نہ وزیراعظم نے مشورہ دیا اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو اور نہ ہی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ۔

مسلم لیگ ن کی اندرونی رسہ کشی میں بیرونی قوتوں نے مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ یہ تاریخ کا اتار چڑھاؤ ہے لیکن ہم اپنی بساط کے مطابق پشتونوں اور بلوچوں کی عزت و وقار اور آزادی کی تحریک کی سنہری تاریخ کا دفاع کرینگے ۔

تقریب سے خطاب میں حامد خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دور میں بی ڈی اے کو فعال اور مستحکم ادارہ بنانے کی ہر ممکن کوششیں کیں اور ملازمین کے مسائل کے حل پر بھی توجہ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے بی ڈی ا ے حکام اور ملازمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔