|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی کمانڈر کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی امداد نہ بھی ہوتو دہشت گردی کے خلاف مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف اور ایک امریکی سینیٹر نے فون کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل جوزف ووٹل نے آرمی چیف کو کولیشن سپورٹ فنڈ سے متعلق امریکی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار کو سراہتے ہیں اور موجودہ صورتحال عارضی مرحلہ ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل جوزف نے کہا کہ امریکا پاکستان کے اندر کسی یکطرفہ کارروائی کا نہیں سوچ رہا، افغانستان کے خلاف پاکستانی سرزمین استعمال کرنے والوں سے نمٹنا میں تعاون چاہتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ امریکی سینیٹر نے بھی آرمی چیف کو سیکیورٹی امداد سے متعلق امریکی فیصلے سےآگاہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی جنرل کے سامنے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان امریکی امداد کی بحالی کے لیے نہیں کہے گا، امریکی امداد نہ بھی ہوتو دہشت گردی کے خلاف مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے اور دہشت گردی  کے خلاف کوششوں کو اسٹیک ہولڈرز سے مل کر منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم آپریشن ردالفساد کے ذریعے پہلے ہی کئی کارروائیاں کررہے ہیں، پاکستان میں ہررنگ و نسل کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ دہائیوں سے تعاون کے باوجود حالیہ بیانات سے دھوکا دیا گیا، اسی طرح متفقہ قومی رد عمل ایسے ہی جذبات کا مظہر ہے۔

امریکی کمانڈر نے افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو سراہا، اس موقع پر آرمی چیف نے افغان مہاجرین کی واپسی انتہائی ضروری قرار دی۔