|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

کوئٹہ : جعلی حکمرانوں نے چار سالوں میں لوٹ کھسوٹ ، تاریخی کرپشن ، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم ، تعصب پر مبنی تنگ نظری کی سیاست کو فروغ دیا بلوچستان کو مزید پسماندگی و بدحالی کی جانب دھکیلا ۔

ان خیالات کا اظہار بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، مرکزی رہنماء غلام نبی مری ، جاوید بلوچ ، یونس بلوچ ، ملک محی الدین لہڑی ، حاجی منور علی ہزارہ ، ملا مہدی ہزارہ ، حاجی فاروق شاہوانی ، مہدی تاج ہزارہ ،سخی داد محمد ہزارہ ، حاجی عالمگیر مینگل ، میر محمد اسلم بنگلزئی ، کاول خان مری ، علی محمد رئیسانی ، نعمت بہادری ، ابرار ، ذاکر حسین ہزارہ نے ہزارہ ٹاؤن میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ملاقات کرنے والوں سے بی این پی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013ء کے جعلی حکمرانوں نے اقتدار پر براجمان ہو کر بلوچستان میں لوٹ کھسوٹ ، کرپشن ، اقرباء پروری ، تاریخی کرپشن کر کے بلوچستان کے عوام کو مزید پسماندگی و بدحالی ، غربت ، افلاس ، جہالت کی جانب دھکیلا حکمران بلوچستان میں حقیقی ترقی و خوشحالی تو درکنار اپنے ذاتی گروہی مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرداں رہے ۔

انہی کی وجہ سے بلوچستان کے مقامی عوام بیروزگاری ، کسمپرسی کا شکار ہوئے جیالوں کو نوکریاں دی گئیں تعصب کے ذریعے نفرتوں کو ہوا دی گئی حکمران اپنے پارٹیوں تک محدود رہے اور عوام کی خدمت کی بجائے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرداں رہے

عوام 2018ء کے عام انتخابات میں حکمران کا احتساب کریں حکمران نے ترقی کی تو کرپشن میں بی این پی وطن دوست ، قوم دوست سیاسی قوت ہے ۔

جو بلوچوں کے حقوق کی ضامن اور یہاں پر آباد تمام اقوام کو مسائل سے نجات دہندہ پارٹی ہے

آئندہ انتخابات ہماری کامیابیوں کی نوید لے کر آئے گا ہم تعصب ، نفرت سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کریں گے اور تمام اقوام کے حقوق کا احترام کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ آج ہزارہ قوم کے پاس آنے کا مقصد یہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہزارہ قوم سمیت دیگر اقوام جو پارٹی میں شمولیت کریں گے

ان تک اپنے منشور کو پہنچائیں گے ہم نے ہمیشہ سیاست میں ترقی پسند خیالات کو اہمیت دی ہے ہم روزگاری کی فراہمی ، عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے ۔

پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل آج بلوچستان کے تمام اقوام کے ہردلعزیز لیڈر بن چکے ہیں اسی وجہ سے تمام اقوام کے افراد جوق در جوق پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جس سے پارٹی مضبوط و منظم بن چکی ہے

عوام نے جعلی حکمرانوں کو رد کر دیا ہے اب ان کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں وہ اخلاقی طور پر اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں ۔

دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بزرگ قوم وطن دوست رہنماء مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ نے بلوچ ‘ پشتون اور اس خطے میں بسنے والے مظلوم و محکوم انسانوں کے غضب شدہ حقوق کے حصول حقیقی جمہوریت کی بحالی اور قومی سوال کے لئے طویل ترین جدوجہد اور قربانیوں سے دریغ نہیں کیا اور وہ آخردم تک اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ کی ناقابل فراموش قربانیاں اور جدوجہد محکوم اقوام اور سیاسی کارکنوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔

مرحوم رہنماء کی قربانیوں اور جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مرحوم کی 8 ویں برسی کے موقع پر بروز جمعہ 19 جنوری سہ پہر دو بجے پریس کلب کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا جس میں قوم وطن دوست جماعتیں سول سوسائٹی ‘انسانی حقوق کے علمبردار تنظیمیں ‘ طلباء ‘ محنت کشوں کی تحریکوں سے وابستہ اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد روشنی ڈالیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیراہتمام کوئٹہ میں جاری یونٹ سازی مہم کے سلسلہ میں کلی رجب سبزل روڈ پر منعقدہ کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و ضلعی جنرل سیکرٹری غلام نبی مری ‘ سینئر نائب صدر یونس بلوچ ‘ ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک محئی الدین لہڑی ‘ لیبرسیکرٹری ڈاکٹرعلی احمد قمبرانی ‘ ملک صلاح الدین شاہوانی ‘ گنیش لعل راجپوت اور کامریڈ خدائے رحیم لہڑی نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس خطے کی محکوم و مظلوم عوام کے قومی حقوق ساحل ووسائل پر حق حاکمیت و اختیار تہذیب و تمدن زبان قومی تشخص انسانی حقوق کی بحالی حقیقی جمہوریت اورملک میں جاری ناانصافیوں سماجی انصاف کے لئے مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ نے انگریز کے دور سے لیکر ہر آنے والے آمر اور نام نہاد جمہوری دور حکومتوں میں موثر انداز میں آواز بلند کی جس کی پاداش میں ملک عبدالعلی کاکڑ کو جیل زندان کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں جلدوطنی اور دیگر اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا ۔

لیکن انہوں نے آخر دم تک اس صوبہ میں بلوچ ‘ پشتون اتحاد کے لئے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے استحصالی قوتوں کی استعماری پالیسیوں کا ہر فورم پر ڈٹ کر مقابلہ کرکے یہ ثابت کیا کہ یہاں کے محکوم مظلوم عوام متحد و منظم ہو کر اپنی قومی تحریک کو بہترین انداز میں آگے بڑھا سکیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ کی قربانیاں ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں جو کہ سیاسی کارکنوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ کے آرمانوں و جذبات کو عملی طورپر آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے مشن اور ایمانداری ‘ مخلصی ‘ نظریاتی اور قوم وطن دوستی کی فکر و فلسفہ سے لیس ہو کر آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور استعماری قوتوں کی محکوم قوموں کے خلاف ناروا پالیسیوں استحصال لوٹ و کھسوٹ پر مبنی آمرانہ طرز حکمرانی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے پارٹی کے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ کی 8 ویں برسی کے موقع پر بلوچستان بھر میں منعقدہ ہونے والے تعزیتی ریفرنسز میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بناکر مرحوم ملک عبدالعلی کاکڑ کی جدوجہد اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کریں ۔

اس موقع پر یونٹ کے قیام عمل کے لئے ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک محئی الدین لہڑی کی قیادت میں گنیش لعل راجپوت اور میر کاول خان مری نے یونٹ کے نئے عہدیداروں کا چناؤ قیام عمل میں لایا امجد حسین بلوچ یونٹ سیکرٹری ‘ قدیر بلوچ ڈپٹی یونٹ سیکرٹری اور کامریڈ خدائے رحیم لہڑی ضلعی کونسلر منتخب ہوئے۔