|

وقتِ اشاعت :   5 days پہلے

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو کو صوبے کا نیا قائد ایوان منتخب کرلیا۔

 

 نواب ثناء اللہ زہری نے اپنی ہی جماعت کے ناراض اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے سے قبل ہی 9 جنوری کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ثناءاللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد صوبے میں وزارت اعلیٰ کے لیے سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوئی اور سرفراز بگٹی سمیت اکثریتی اراکین نے میر عبدالقدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کردیا۔

صوبائی اسمبلی کے نئے قائد ایوان کے لیے اسمبلی کا اجلاس آج طلب کیا گیا جو اسپیکر راحیلہ درانی کی سربراہی میں ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں قصور میں قتل ہونے والی کمسن زینب اور ایئرمارشل (ر) اصغر خان سمیت کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس کے بعد اسپیکر نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا اور  وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے شماری کی گئی۔

اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے و الے میر عبدالقدوس بزنجو کے حمایتی ارکان کے لیے اے لابی اور پشتونخوا میپ کے لیاقت علی کے حمایتی اراکن کے لیے بی لابی بنائی گئی  جب کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا گیا۔

قدوس بزنجو نے 41 ووٹ لیے

اسپیکر اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے جس میں سے عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کیے۔

اسپیکر اسمبلی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

اسمبلی اجلاس سے کچھ دیر قبل ہی پشتونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال وزارت اعلیٰ کے دوسرے امیدوار سید لیاقت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے جس کی تحریری درخواست انہوں نے سیکریٹری اسمبلی کو جمع کرائی۔

نومنتخب وزیراعلیٰ کا ایوان میں اظہار خیال

نو منتخب وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقے سے تحریک عدم اعتماد لائے اور اب کوئی طاقت جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ثناءاللہ زہری جمہوری انداز میں مستعفی ہوئے جو قابل تحسین ہے، میں ان کا احترام کرتا ہوں اور ان سے ملنے جاؤں گا’۔

عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اراکین نے فنڈز اور مختلف آفرز ٹھکرا کر ہمارا ساتھ دیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں ان تمام ارکان کا شکرگزار ہوں، جنہوں نے پارٹی سے بالاتر ہو کر میرا ساتھ دیا’۔

عبدالقدوس بزنجو کون ہیں؟

عبدالقدوس بزنجو یکم جنوی 1974 کو بلوچستان کے ضلع آواران کے گاوں شنڈی جھو میں پیدا ہوئے۔ 

انہوں نے پہلی بار 2002ء میں پرویز مشرف دور میں صوبائی حلقے پی بی 41 سے کامیابی حاصل کی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو نے مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے کم یعنی 544 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 

اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب ایک اعشاریہ ایک 8 فی صد رہا۔ عبدالقدوس بزنجو 2013 سے 2015 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جو بعد میں مستعفی ہو گئے۔

 عبدالقدوس بزنجو تاریخ میں سب سے کم 544 ووٹ حاصل کرنے والے پہلے رکن اسمبلی ہیں جو ملک کے کسی صوبے کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔