|

وقتِ اشاعت :   5 days پہلے

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ق) کے میر عبدالقدوس بزنجو بھاری اکثریت سے لیکر موجودہ صوبائی اسمبلی کے تیسرے قائد ایوان اور صوبے کے16ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ۔

عبدالقدوس بزنجوکو41ووٹ ،مد مقابل پشتونخواملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت علی کو13ووٹ ملے۔ نومنتخب وزیراعلیٰ نے نومنتخب14رکنی کابینہ کے ہمراہ حلف بھی اٹھالیا۔

عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کریگی سینٹ اور عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے ، صوبے میں دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔

مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق چلیں گے ۔تعلیم ، صحت اور پانی کے مسائل کا حل ترجیحات میں شامل ہوں گی۔

تفصیلا ت کے مطابق جمعرات کو نئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے بلوچستان اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونیوالے اجلاس کی صدارت اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے کیا۔

اجلاس سے قبل پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے اپنے پارٹی کے امیدوار آغا سید لیاقت علی کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا۔

اس طرح صوبے کے نئے قائد ایوان کے لئے مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ اورمتحدہ اپوزیشن کے حمایت یافتہ امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت علی کے درمیان مقابلہ ہوا۔

میر عبدالقدوس بزنجو کوجمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، عوامی نیشنل پارٹی ، مجلس وحدت مسلمین اور آزاد امید وار طارق مگسی کی حمایت حاصل تھی۔

نیشنل پارٹی نے انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس کے آغاز کے موقع پرقصور میں قتل ہونے والی کمسن بچی زینب ،ایئرمارشل(ر)اصغر خان سمیت کوئٹہ کے جی پی او چوک پردھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

جس کے بعداسپیکر راحیلہ حمیددرانی نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا۔نئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے دو لابی بنائی گئی ۔

اسمبلی میں عبدالقدوس بزنجو کے حمایتی ارکان کے لیے لابی (اے )اور سید لیاقت آغاکے حمایتی اراکن کے لیے لابی (بی )بنائی گئی ہے۔

ووٹ ڈالنے کے بعد ارکان ایوان سے باہر نکل گئے۔65 رکنی ایوان میں قائد ایوان کی کامیابی کیلئے33ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ن لیگ کے منحرف ارکان ، مسلم لیگ اور اپوزیشن اتحاد کے حمایت یافتہ عبدالقدوس بزنجو کو 41 ووٹ ملے۔ سابق حکمران جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی کے امیدوار آغا سید لیاقت علی کو13ووٹ ملے۔

ان کی جماعت کے منظور احمد کاکڑ نے پارٹی کے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے امیدوار کی بجائے ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔

نیشنل پارٹی کی جانب سے نئے قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے برعکس ارکان اسمبلی میر مجیب الرحمن محمد حسنی ،میر خالد لانگو اور میر فتح محمد بلیدی نے بھی میر عبدالقدوس بزنجو کے حق ووٹ دیا ۔

اسپیکر اسمبلی راحیلہ درانی نے عبدالقدوس بزنجو کی باضابطہ کامیابی کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے عبدالقدوس بزنجو کے حق میں41اور انکے مخالف امیدوار آغا لیاقت علی کے حق میں13ووٹ ڈالے گئے۔

11ارکان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کیا۔ووٹ استعمال نہ کرنے والوں میں اسپیکر راحیلہ درانی، ثناء اللہ زہری، ن لیگ کی ثمینہ خان اورنیشنل پارٹی کے 8ارکان شامل ہیں۔

میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے سولہویں اور2013 کے عام انتخابات میں قائم ہونے والی موجودہ صوبائی اسمبلی کے وہ تیسرے قائد ایوان ہیں۔

ان سے قبل نواب ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

بلوچستان اراکین اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 21، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے 14، نیشنل پارٹی کے 11 ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8، مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی ،بی این پی عوامی، مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن موجود ہیں جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی طارق مگسی بھی ایوان کا حصہ ہیں.

اس سے قبل بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے میر کریم نوشیروانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہوچکا اب نئے قائد ایوان کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کا جائزہ لیں جن کا ہم نے سامنا کیا .

سابق دور حکومت میں ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ مسائل کا سامنا رہا میرے حلقے میں ترقیاتی فنڈز بروقت ریلیز نہیں کئے گئے ابھی تک صوبائی ترقیاتی پروگرام میں رکھے گئے منصوبوں کے لئے فنڈز ریلیز نہیں کئے گئے

صوبے میں اس وقت35ہزار آسامیاں خالی ہیں میں نومنتخب وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ تمام محکموں کے سیکرٹری صاحبان کو کہہ کر تفصیلات طلب کرلیں اور ان آسامیوں پر تعیناتیاں عمل میں لائیں۔

جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میں اپنی جانب سے اپنی جماعت، اپوزیشن اور اس پورے ایوان کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور آغا لیاقت کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے خوش اسلوبی سے جمہوری عمل آگے بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے کیونکہ 2013ء میں جو حکومت بنی تھی اس سے ہمیں سب سے بڑا گلہ اور شکوہ یہی تھا کہ یہ اپنے فیصلے یہاں نہیں کرتی او راس کے اکثر فیصلے رائیونڈ اور مری میں ہوتے ہیں۔

حالانکہ رائیونڈ اور مری والوں کی اپنی اقدار ، اپنی روایات اور اپنی ترجیحات ہیں جو ہماری ترجیحات سے الگ ہیں

وہ ہمیں کچھ نہیں سمجھتے ہم نے ہمیشہ یہ بات کی کہ آپ اس سرزمین کے فرزند ہواور فیصلہ بھی اسی سرزمین کے فرزند مل کر کریں ہمارے صوبے میں انتہائی قابل اہل اور ملک کے دیگر حصوں سے نسبتا بہتر لیڈرشپ موجود ہے ۔

دو سال تک چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ حکومت کسی معاہدے کے تحت بنی ہے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس معاہدے کو چھپانے اور اپنے دور اقتدار کو آگے بڑھانے کے لئے کام کرتے رہے انہوں نے اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بلوچستان کے اہم مسائل پر کمپرومائز کیا ۔

جب حکومت میں شامل لوگوں کی اپنے درمیان کھینچا تانی ہوگی تو پھر صوبے کے مسائل پر کون توجہ دے گا اور یہاں 2013ء سے یہی ہوتا رہا حکومتی جماعتیں آپس میں کھینچا تانی کرتی رہیں جس کی وجہ سے اس صوبے اور اس صوبے کے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت چلے گئے ۔

این ایف سی ، سی پیک اور دیگر مسائل کو پس پشت ڈال کر یہ لوگ آپس میں لگے رہے ہم اپوزیشن والے پہلے دن سے اس حکومت کے ان اقدامات کی نشاندہی کرتے آئے ہیں ۔

انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میر صاحب یہ بہت ظالم کرسی ہے یہ آپ کو وہاں تک پہنچادے گی جہاں بعد میں آپ دیکھیں گے تو اکیلے ہوں گے ساتھ کوئی نہیں ہوگا اس لئے آپ شروع دن سے تمام مسائل کو سمجھ کر ان کے حل کے لئے اقدامات اٹھائیں ۔

انہوں نے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ نون کے اراکین نے انتہائی وسیع النظر ی کا مظاہرہ کیا ہم سب نے جمہوریت کے لئے آپ کا ساتھ دیا ہے اگر آپ نے ان اراکین کی لاج نہیں رکھی تو یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اس لئے آپ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔

مسلم لیگ(ن) کے میر جان محمد جمالی نے قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینے والے دونوں امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اپنی روایات ہیں ہم باقی لوگوں کی طرح نہیں جو ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو یہاں دہرائی نہیں جاسکتی ۔

وہ اراکین جنہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ووٹ دیا ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان اراکین کا بھی جنہوں نے آغا لیاقت کو ووٹ دیا آغا لیاقت نے جمہوریت اور جمہوری عمل کے تحت مخالفت کی ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو پر اعتماد کا اظہار کرنے پر اپوزیشن اراکین اور مسلم لیگ(ن) کے اراکین کے ساتھ ساتھ پشتونخوا میپ ، نیشنل پارٹی ، مجلس وحدت المسلمین اور آزار اراکین کا نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ چار سال سات ماہ تک ہم جس حکومت کا حصہ رہے وہ بتائے کہ کیا ہم نے صوبے کے لئے کام کیا یا ہم محدود ہو کر رہ گئے صوبے کو پسماندہ رکھنے میں افسر شاہی بھی شریک رہی ہے

میر عبدالقدوس بزنجو قلیل مدت میں گڈ گورننس پر توجہ دیں ماضی کی غلطیوں کا تدارک کریں سی پیک جیسے اہم منصوبے پر عملدرآمد کرائیں انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک گوادر کو پینے کا پانی نہیں د ے سکے ۔

وہاں ڈی سلینیشن پلانٹ فعال نہیں کراسکے اس پر توجہ دی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ریکوڈک اور سیندک کے معاملات کو بھی دیکھیں کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ سب اب ہمارے اختیار میں ہے

انہوں نے قائد ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد جائیں تو ٹیم بنا کر جائیں کیونکہ وہاں اگر اکیلے جائیں گے تو اکیلے رہ جائیں گے ۔

اسلام آباد کو پیغام دیں کہ بلوچستان کے پارلیمنٹرین باعزت ہیں ہم اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں اور ایسے لیڈر لاسکتے ہیں

جو صوبے کے مفاد میں کام کریں مجلس وحدت المسلمین کے آغا رضا نے کہا کہ میں جمہوری عمل کے نتیجے میں قائد ایوان منتخب ہونے پر میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت قوت برداشت ، جمہورکی بات کرنے کانام ہے نہ کہ اپنا فیصلہ دوسروں پر مسلط کرنے ۔

ہمیں دھمکیاں ملیں پیسوں کی آفرز ہوئیں مگر ہم نے جمہوری سلسلے کو آگے بڑھانے کے لئے پیش قدمی کی ساتھیوں سے رابطے کئے اور ہم کامیاب ہوئے ہم نے پہلے کہا تھا کہ ہم 41ارکان یکجا ہیں یہ کوئی ہوا میں تیر نہیں مارا تھا

ہمارا ہوم ورک پورا تھا ہم نے جس آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے اسی کے تحت تحریک عدم اعتماد لائے ہیں تو یہ کیسے غیر جمہوری عمل ہوسکتا ہے ۔

ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے ہم تبدیلی کے لئے آگے بڑھے ہیں وزیراعلیٰ سینئر ز کے مشورے اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں مسائل کے حل کے لئے کوششیں کریں ۔

نیشنل پارٹی کے رکن میر خالد لانگو نے اپنے خطاب کا آغا بلوچی زبان میں کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دی اور اس امید کااظہار کیا کہ وہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لئے اقدامات کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میں جب نیب کی حراست میں تھا تو ان 71دنوں میں بہت اچھے اور برے تجربات ہوئے ۔انہوں نے معروف شاعر عطا شاد کی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری زمین پر ایک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے ۔

میرا ساتھ کسی نے نہیں دیا میں آج یہاں اس ایوان میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی کرپشن سے پاک نہیں یہاں پر لوگوں نے کرپشن کی اور این آراو کئے دبئی بھاگ گئے ۔

انہوں نے کہا کہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد میں کراچی کے ایک کافی شاپ میں اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا کافی پی رہا تھا اور ٹی وی والے خبر دے رہے تھے کہ خالد لانگو افغانستان بھاگ گئے میں کیوں بھاگوں گا مجھے تکلیف اس وقت ہوئی جب میرے اپنے کیپٹن نے بھی نجی محفلوں میں یہ بات کہنی شروع کردی کہ خالد نے پانچ ارب روپے کما لئے ہیں ۔

خالد لانگو نے تین کروڑ کی گھڑی پہنی ہے ان باتوں سے مجھے بہت تکلیف ہوئی اگر میں164(A)کرلیتا تو آج بہت سے لوگ جیل میں ہوتے 60۔

میر خالد لانگو نے کہا کہ اگرچہ میں اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف گیا اور میں نے نہ صرف تحریک عدم اعتماد لانے والے محرکین کا ساتھ دیا بلکہ اپنی پارٹی کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے آج بھی میں نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا مگر میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میں جب مشکل میں تھا میرے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا ۔

خود میرے کیپٹن نے بھی کچھ نہیں کیا صرف یہ ( قدوس بزنجو ، میر سرفراز بگٹی )تھے جنہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی کے دباؤ میں آکر یہ سب نہیں کررہا بلکہ یہ میری اپنی سوچ ہے اور مجھے کوئی دباؤ میں نہیں لاسکتا ۔

مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی بلوچ نے نو منتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کے بڑھنے کی وجہ سے سابقہ قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اگر وہ تمام علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے تو یہ تبدیلی نہ آتے امید کرتا ہوں کہ بلوچستان کے بے شمار مسائل اور اس کی فلاح و بہبود نئے قائدا یوان کے ایجنڈے میں شامل ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ نئے قائد ایوان ریکوڈک ، تعلیم ، صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی نئی روایت قائم کریں ۔

مسلم لیگ (ن)کے میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں اور ساتھ ہی لیاقت آغا جنہوں نے جمہوری طریقے سے ان کا مقابلہ کیا وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

جب سابق وزیراعلیٰ نے دیکھا کہ اراکان کی اکثریت ان سے الگ ہورہی ہے تو انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہم اس جمہوری روایت کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ دوستوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی قدر کرتے ہیں نئے قائد ایوان کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ 2017-18ء کے دو سہ ماہی گزر چکے ہیں اب تک صرف22ارب روپے ریلیز ہوئے ہیں جن میں صرف4ارب استعمال ہوپائے ہیں صوبے کی ترقی کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی ، قومی برابری اور جمہوریت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا شیوہ ہے ۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ نئے قائد ایوان تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور وہ اسمبلی کو مدت پوری کرنے دیں گے اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہم اس کی نوبت نہیں آنے دیں گے کہ اسمبلی تحلیل ہو ہم نے تحریک عدم اعتماد کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمودخان اچکزئی ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر نواز شریف یا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کسی نے بھی نواب ثناء اللہ زہری کو استعفے کا مشورہ نہیں دیا ہم چاہتے تھے کہ وہ مقابلہ کریں اور اس تمام سازش کو بے نقاب کریں یہ انوکھی قسم کی تحریک عدم اعتماد تاریخ کا حصہ رہے گی ۔

لیاقت آغا کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے پارٹی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے قائدا یوان کے انتخاب میں حصہ لیا

انہوں نے کہا کہ تمام ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں جیسے کہ چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حق میں ہیں اور سیاست سے ان کا تعلق نہیں اسی طرح ان کے تمام ماتحت افسران کو بھی اسی بات پر عمل کرنا چاہئے ۔

ہم نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر صوبے میں امن قائم کیا شاہراہوں کو محفوظ اور تعمیر کیا عوام کو تحفظ دینے میں کامیاب رہے ہم نئے قائدا یوان سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ اس کو برقرار رکھیں ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ملک اور صوبے میں امن بحال کرنے کے لئے شہادتیں دی ہیں

2013ء میں جو حکومت بنی اس کے بعد ہم نے دونوں وزرائے اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دیا کہ وہ صوبے میں امن قائم کریں اور ترقی لائیں لیکن جس طرح کی انتقامی کارروائیاں گزشتہ ساڑھے چار سال میں ہوئی ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔

ہم اپنے حلقے میں ایک سپاہی بھی تبدیل نہیں کرسکتے تھے جبکہ جاتے جاتے ہمارے ضلع میں پوری انتظامیہ تبدیل کردی گئی

میں شیخ جعفرخان مندوخیل کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے کہنے پر ایک نائب تحصیلدار تبدیل کیا تھا اس کے علاوہ ہمارے حلقے میں کوئی کام نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی میں بھی غبن اور کرپشن ہورہی ہے کونسا میگا منصوبہ ہے جو ان چار سالوں میں بلوچستان کو دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز عوام کی امانت ہوتے ہیں لیکن ان میں خیانت ہوئی ہمیں انصاف چاہئے اس اسمبلی میں تمام ارکان برابر ہیں لیکن پھر بھی فرق کیا گیااور کسی حلقے کو بہت زیادہ نوازا گیا تو کسی کو بالکل ہی محروم رکھا گیا آج تک پرانی تاریخوں میں بھرتیاں کی گئیں تقرریاں اور تبادلے ہوئے کیا ۔

حکومت نے جمہوریت اور آئین کے تقاضے پورے کئے جو یہ تمام اقدامات کئے گئے ۔

مسلم لیگ(ن) کے رکن سابق نگران وزیراعلیٰ سردار صالح بھوتانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو اپنے دور میں ایسے اقدامات اٹھائیں کہ بلوچستان کے عوام تبدیلی محسوس کرسکیں اور انہیں احساس ہو کہ حکومت عوام کے لئے درد رکھتی ہے ۔

مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ بلوچستان کے منتخب ارکان اسمبلی اپنی حکومت منتخب کی ہے جبکہ ماضی میں یہاں حکومتیں مری یا اسلام آبادمیں بنی ہیں ہم نے اپنی مرضی سے حکومت بنانے کی روایت قائم کی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

سابق وزیراعلیٰ نے اپنے دور کی 24فیصدمدت صوبے میں گزاری جبکہ وہ 76فیصد صوبے سے باہر رہے جس کی وجہ سے وہ صوبے کو توجہ نہیں دے پاتے تھے

انہوں نے چند مخصوص علاقوں کے دورے کئے اربوں روپے کے فنڈز بغیر استعمال ہوئے سرنڈرکردیئے گئے اب بلوچستان کے عوام مزید اس رویے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔

نئے وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ وہ صوبے کو وقت دیں فنڈز کا استعمال کریں اور کرپشن کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں ۔

یہاں بیورو کریسی بھی ترقی کی رفتار میں رخنہ ڈالتی ہے ان سے بھی درخواست ہے کہ وہ صوبے کی ترقی کی رفتار کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھائیں ۔

انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے میں امن وامان کو ترجیح دیں تاکہ صوبے میں عوام کی جان ومال کو محفوظ کیا جاسکے

انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں مگر یہ تعاون صرف صحیح کاموں تک محدود ہوگا۔

مسلم لیگ(ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکبا د دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ گڈ گورننس پر توجہ دیں گے

سید لیاقت آغا بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو مضبوط کیا ہمیں پرانی باتوں کو دہرانے کی بجائے مستقبل کے چیلنجزپر توجہ دینا ہوگی ۔

گڈ گورننس کو بہتر بنانا ہوگا امن وامان کا قیام وفاق سے صوبے کے حقوق ، سی پیک کے تحت بلوچستان کے منصوبوں پرعملدرآمد کرانا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو ریکوڈک پر بریفنگ دی جائے سیندک پر فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے ہونا چاہئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کو غیر جمہوری قرار دینا درست نہیں بلکہ یہ جمہوریت کاحصہ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سردار در محمد ناصر نے میر عبدالقدوس بزنجو کو منتخب اور سید لیاقت آغا کو جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے پر مبارکباد دی ۔

انہوں نے نواب ثناء اللہ زہری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک سے قبل مستعفی ہوکر دوستوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا مجھ پر اور میرے حلقے پر ان کے بڑے احسانات ہیں ۔

مسلم لیگ(ن) کی انیتا عرفان ، کشور احمد جتک، عبدالماجد ابڑو، غلام دستگیر بادینی اور جے یوآئی کے مفتی معاذ اللہ ،حاجی عبدالمالک کاکڑ ، میر اظہار حسین کھوسو ،محمدخان لہڑی ،مفتی گلاب خان کاکڑ نے بھی نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔

پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا واقعہ کس طرح ہوا یہ سب کو معلوم ہے ہم نے 2013ء میں کامیابی کے بعد اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود صوبے کے وسیع مفاد میں مری معاہدے کے تحت اپنی وزارت اعلیٰ کی قربانی دی تحریک عدم اعتماد اسی منصوبے کی کڑی ہے ۔

جو تین سال پہلے ڈی چوک سے شروع ہوا تھا جو لوگ اقتدار میں تھے اور وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ساتھ تھے جب انہیں حکم ہوا کہ کروٹ بدل لو تو انہوں نے کروٹ بدل لی وزیراعلیٰ اور رحیم زیارتوال میں خامیاں ہوسکتی ہیں تاہم اس تمام مسئلے پر بیٹھ کر بھی بات ہوسکتی تھی ۔

پاکستان میں اندرونی اور بیرونی صورتحال سب کو معلوم ہے سینٹ کے گزشتہ انتخابات میں جوکچھ ہوا اس کے بعد لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب بکاؤ مال ہیں انہیں خرید لیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے والوں کے قول اور فعل میں تضاد ہے پاکستان فیڈریشن ہے جس کی بلوچستان ایک اکائی ہے ہم تمام اکائیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں صوبے میں فنڈز لیپس نہیں بلکہ سرینڈر کئے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساڑھے چار سالہ دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے وہ گزشتہ ستر سال میں نہیں ہوئے صوبے میں اب بھی ناکافی ترقی ہوئی ہے جس کی وجہ فنڈز کی کمی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں چھ نئی یونیورسٹیز ، 14کالجز ، سینکڑوں مڈل اور ہائی سکول بنائے ہیں ۔

اگر عوام کے خزانے سے کرپشن کی ایک پائی بھی ثابت ہوجائے تو ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ کردار شاید کچھ لوگوں کو قابل قبول نہیں تھا انہیں وہ لوگ قابل قبول ہیں

جو کرپشن کریں مجھے نہ 2002ء میں اور نہ 2013ء میں کسی کی جانب سے کوئی پیغام ملا کہ آپ کامیاب ہیں اور نہ ہی میں نے الیکشن میں پیسے خرچ کئے ہیں اسی عوامی لیڈرشپ کہتے ہیں ہم اپوزیشن بینچوں پر جائیں گے اور ہمیں پتہ ہے کہ جولوگ اب اقتدار میں ہیں ۔

وہ ہمارے حقوق غصب کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمارے واحد محافظ وزیراعلیٰ ہیں ہم نے اپنے اربوں روپے کے ڈیمز بنائے کوئٹہ میں پانی کے مسئلے کے حل کے لئے منصوبے پر کام شروع کیا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے صرف ایک حلقے میں کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ فلور کراسنگ کرنے والے رکن اسمبلی منظور کاکڑ کو 163اے کے تحت ڈی سیٹ کریں گے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے جو لوگ کھلاڑی اور مداری کے چکر میں پھنس گئے ہیں اور یہاں پیسہ لگانا چاہ رہے ہیں تو ہم ان کا بھی مقابلہ کریں گے ۔

پاکستان اور بلوچستان کسی کی میراث نہیں ،گورنر ہاؤس میں ہفتہ کے روز ایک سادہ مگر پروقار تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں میرعبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان سے حلف لیا۔ اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ حمید خان درانی، اراکین صوبائی اسمبلی، مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، چیف سیکریٹری بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان اور اعلیٰ سول حکام بھی موجود تھے۔

بعدازاں بلوچستان کی نئی صوبائی کابینہ کے 14اراکین نے بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جن میں طاہر محمود خان، سردار سرفراز ڈومکی، نواب جنگیز خان مری، میرسرفراز بگٹی، راحت بی بی جمالی، عبدالماجد ابڑو، میرعاصم کرد گیلو، میرعامر رند، غلام دستگیر بادینی، محمد اکبر آسکانی، شیخ جعفرخان مندوخیل، سید آغا رضا، منظور احمد کاکڑ اور پرنس احمد علی شامل ہیں۔