|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2018

کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس پیر کے روز یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایجنڈے میں شامل مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے صوبے کے دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی کمی کور فوری طور پر دور کرنے کے لئے کنٹریکٹ بنیادوں پر اساتذہ کی تعیناتی کی منظوری دی اور صوبائی کابینہ نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ بھرتی کے نظام میں میرٹ اور شفافیت کو مقدم رکھا جائے۔ جبکہ کابینہ نے ہدایت کی کے ایم پی اے فنڈز سے تعمیر شدہ پرائمری سکولوں کے ایس این ایز کو بھی فوری طور پرمنظور کیاجائے تاکہ تعمیرہونے کے فوراً بعد وہاں تدریسی عمل شروع ہو کیا جاسکے۔

صوبائی کابینہ نے صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے پہلی بار پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ایکٹ کی منظوری بھی دی جس سے صوبے میں مختلف شعبوں میں سرکاری اور نجی شراکت داری سے صوبے میں ترقی آئیگی۔

صوبائی کابینہ نے سوئی ٹاؤن میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی تاکہ سوئی ٹاؤن کے ایک لاکھ سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہو۔ کابینہ نے صوبے میں معذور افراد کو خود کفیل اور کار آمد شہری بنانے کے لئے خصوصی فنڈز قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ نے شہری دفاع کو ڈویژنل سطح پر پھیلانے اور ان کے دفاتر قائم کرنے کی منظوری بھی دی ۔

کابینہ کو متعلقہ سیکرٹری نے صوبے میں گندم کی موجودہ اسٹاک کے حوالے سے بریفنگ دی اور موجود ہ اسٹاک کو فوری طوپر سبسڈی ریٹ پر فلور ملز کو دینے کی منظوری دے دی ۔ کابینہ نے گوادر جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے پی سی ون کی منظوری دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی بہت وقت ضائع کیا ہے ، ہمیں تیزی سے کام کرنا ہوگا تب جاکے ہم عوام کے مشکلات کو کم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ اور وسائل عوام پر خرچ ہونے چائیں اس سلسلے میں تمام محکمے اپنی کارکردگی میں بہتری لاکر عوام کو تبدیلی کاا حساس دلائیں۔

اجلاس میں صوبائی وزراء میر سرفراز بگٹی، میر عاصم کرد گیلو، سید رضا آغا،سردار سرفراز چاکر ڈومکی، شیخ جعفر خان مندوخیل، عبدالماجد ابڑو، طاہر محمود خان، میرعامر رند، حاجی غلام دستگیربادینی، محمد آکبر آسکانی، منظو ر کاکڑ،پرنس احمد علی ،میر ضیاء لانگو ، ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی ،محتر مہ راحت جمالی، وزیر اعلیٰ کے مشیر کہدہ بابر، اراکین اسمبلی ، میر حمل کلمتی چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (منصوبہ بندی و ترقیات) نصیب اللہ بازئی ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری مواصلات اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا کوئی امکان نہیں ان کی حمایت یافتہ امید واران آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں انہیں 41اسمبلی ممبران کی حمایت حاصل ہے اس لئے ان کے گروپ کے 8سے9سینیٹرز کامیابی حاصل کریں گے ،ہمارے گروپ میں ہم خیال لوگ شامل ہیں سب کے باہمی مشاورت سے فیصلے کئے جائینگے ۔

حکومت عوامی فلاح وبہبود کیلئے کام کررہی ہے ،میڈیا کسی بھی خبر کو تصدیق کے بعد چلائیں ۔عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کو عوام کی سہولیات پر خرچ ہوناچاہیے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز سینٹ امیدوار شمع پروین مگسی کے کاغذات نامزدگی فارم کی تائید کے بعد الیکشن کمیشن آفس میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی ،پشتونخوامیپ کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی منظور خان کاکڑ بھی موجود تھے ۔میر عبدالقدوس بزنجو کاکہناتھاکہ وہ شمع پروین مگسی کی کاغذات نامزدگی کے لیے تائید کنندہ جبکہ منظور احمد کاکڑ تجویز کنندہ کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں ،انہیں 41اراکین کی حمایت حاصل ہے ان کی حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور 8سے9سینیٹرز کامیابی حاصل کرینگے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے گروپ میں ہم خیال لوگ شامل ہیں ،سب کی باہمی مشاورت سے ہی فیصلے کئے جائینگے انہوں نے کہاکہ سینٹ انتخابات کے حوالے سے وہ جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر سے رابطے کرینگے امید ہے کہ وہ سینٹ انتخابات میں اچھے نتائج ملیں گے۔

انہوں نے کہاکہ میڈیا کو بلا تصدیق کوئی بھی خبر نہیں چلانی چاہیے بلکہ میڈیا نمائندے کسی بھی خبر کو تصدیق کے بعد چلائیں ان کاکہناتھاکہ حکومت عوامی فلاح وبہبود کیلئے کام کررہی ہے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان گزشتہ روز سریاب روڈ ،موسیٰ کالونی اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے مختلف علاقوں کے دورے کے موقع پرپہنچے اور وہاں گاڑی سے اتر کر لوگوں سے ان کے مسائل سے متعلق بات چیت کی بلکہ ایک شہری کے گیس 10ہزار گیس بل کو اپنے جیب سے ادا کیا ۔

انہوں نے سیٹلائٹ ٹاؤن میں چوراہے پر ٹریفک بلڈنگ کی تعمیر کا نوٹس لیا اور کہاکہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے تاکہ مین چوک کے بیچو بیچ پلازہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے انہوں نے سیٹلائٹ ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں واٹر سپلائی سکیموں کی بندش اور صفائی کی مخدوش صورتحال پر برہمی کااظہار کیا ۔اور کہاکہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام کی ہی سہولیات پر خرچ ہونی چاہیے ۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سینٹ انتخابات کے سلسلے میں مختلف امیدواروں کے تائید اور تجویز کنندگان کے حوالے سے کروڑوں روپے لینے کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔

اگر الزامات لگانے والوں کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہیں تو اپنی الزامات کو ثابت کرنے کیلئے انہیں پیش کرے ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتاناچاہتے ہیں کہ کوئی بھی ممبر پیسے نہیں لے رہا نہ ہی صوبائی وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے اراکین کسی قسم کے اختلافات ہے ۔ہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا ہر دم ساتھ ہے اور رہینگے۔