|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2018

کوئٹہ، 13 فوریہ، ارنا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان دو برادر اور ہمسایہ ملک ہیں جن کے درمیان بہت مشترکات ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت باہمی تجارتی سطح کو سالانہ 5 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پْرعزم ہیں.

ایران اور پاکستان تجارت کی سطح کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پْرعزم

اسلامی انقلاب کی 39ویں سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان کے صوبائی دارالحکومت ‘کوئٹہ’ کے پریس کلب میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایرانی قونصلر جنرل ‘محمد رفیعی’ نے شرکت کی.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد رفیعی نے کہا کہ اس وقت پاک ایران سالانہ تجارتی حجم 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جلد یہ حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا.

اس موقع پر انہوں نے پاک ایران سیاسی تعلقات پر روشنی ڈالی اور مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات دیرینہ ہیں جن کو بہت اہمیت بھی حاصل ہے.

انہوں نے پاکستانی صوبے بلوچستان کو دونوں ممالک کی تجارتی سرگرمیوں کے لئے گیٹ وے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کی حالیہ تجارتی کمیٹی کی نشست زاہدان میں منعقد ہوئی جس میں فریقین نے باہمی تعاون کی توسیع کے لئے اہم دستاویزات پر دستخط کردئے.

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں گزشتہ 9 مہینوں کے دوران 49 فیصد اضافہ ہوا ہے.

رواں ایرانی سال کے 9 مہینوں میں ایران اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں میں 49 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.

اس دوران ایران نے پاکستان کو 634 ملین ڈالر کی مصنوعات برآمد کی ہیں جبکہ پاکستان نے بھی 348 ڈالر کی مالیت مصنوعات ایران کو برآمد کیں.

ماہرین کے مطابق، ایران اور پاکستان کے درمیان مذہبی اور تاریخی مشترکات بالخصوص سیاسی اور سیکورٹی شعبوں میں قریبی تعاون کو دیکھتے ہوئے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے.

گزشتہ سال اسلام آباد میں پاک ایران تجارتی حکام کی دو روزہ نشست کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان پانج سال میں تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران کو آزاد تجارتی معاہدی کی پیشکش بھی کی گئی تھی.

سرکاری ذرائع کے مطابق، ایران اور پاکستان نے آئندہ پانچ سال میں دوطرفہ تجارتی حجم موجودہ دس کروڑ ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے.

ہمسایہ ملک پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑی مارکیٹ کا مالک ہے مگر یہاں ایران کی معیاری اور قابل دستیاب مصنوعات کے بجائے مغربی اور عربی اشیاء4 زیادہ تر پائی جاتی ہیں جبکہ ایران کے ہمسایہ ملک کے ناتے میں پاکستانی مارکیٹ ایرانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لئے ایک سنہری موقع ہے.

پاکستان اپنی زرعی اور لائیوسٹاک کے مصنوعات کو ایران کے کلئے برآمد کرسکتا ہے جبکہ ایرانی مصنوعات بالخصوص تعمیراتی سازوسامان، ٹائل، سیرامکس اور سیمنٹ کے لئے پاکستان کی مارکیٹ اچھی منزل ہے.