|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2018

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب میں عوام نے موروثی سیاست پر پی ٹی آئی کو شکست دی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں صرف 3 ماہ باقی ہیں، اب نگران وزیراعظم کے لئے مشاورتی عمل شروع ہو جانا چاہیے لیکن تاحال وزیراعظم کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نا ہی کوئی مشاورتی عمل شروع ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگراں وزیراعظم بنایا جائے اور اس کے لئے عوام کو بھی چاہئے کہ ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں تاکہ مشاورت میں ان پر غور کیا جاسکے۔

این اے 154 لودھراں میں تحریک انصاف کی شکست پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کا مؤقف تھا کہ موروثی سیاست ختم ہونی چاہیے لیکن انہوں نے اپنے کہے کے برعکس خود موروثی سیاست پر عمل کیا اور شائد اسی وجہ سے عوام نے بھی اپنے ووٹ کے ذریعے منفی جواب دیا اور موروثی سیاست کو شکست ہوگئی۔

سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے ایم کیوایم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق نہیں، نا ہی میں نے کسی کو ایک روپیہ دیا، ایم کیوایم خود سینیٹ کی لڑائی میں پڑی ہے اور یہ لڑائی پیسوں پر کی جارہی ہے جب کہ بدنام ہم ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ پاکستان کے بہت سے بڑے نام ہمارے رابطے میں ہیں کیوں کہ انہیں بھی پتہ ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔