|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2018

کوئٹہ: ایچ ای سی کے ٹیسٹ میں پاس طلباء نے ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کردیا ۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء عتیق الرحمن، شریف اللہ، سنگین خان ،عبدالرحمن، محمد طاہر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ حال ہی میں ایچ ای سی کی جانب سے ہونے والی بے ضابطگیوں کے ہم عینی شاہد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ روز سے جاری احتجاج میں ٹیسٹ کے ٹاپرزطلباء بھی شریک ہیں جن کا مقصد میڈیکل ٹیسٹ میں ہونے والے زیادتیوں کیخلاف آواز بلند کرنا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی اور ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم نے ٹیسٹ میں نقل اور بے ضابطگیوں کی تصدیق کی ہے ۔

15سال بعد اس لئے ٹیسٹ ایچ ای سی کے حوالے کیا گیا کیونکہ ڈاکٹ سے سوال پرنٹ ہوکر آتے تھے کیونکہ ہمیں کسی ٹیسٹنگ سروس سے مسئلہ نہیں اگر یہ ٹیسٹ صاف شفاف ہوتا ہمیں کیا مسائل ان کیخلاف ہوتے اور گزشتہ 20سالوں میں بولان میڈیکل کالج کی ٹیسٹ 1دفعہ منسوخ ہوئے تھے جوآپ لوگوں کو پتا نہیں اور ٹیسٹ میں دو موبائل فون پکڑے گئے تھے جن کی تصدیق ڈپٹی کمشنر نے اپنی رپورٹ میں دیا تھا اب کورٹ ان سے نہیں پوچھے گا ۔

کیونکہ وہ ان کے اپنے بندے تھے اور وہاں بدنظمی کے خلاف جب اسٹوڈنٹس نے انتظامیہ کو بتایا تھا تو انہوں نے اسٹوڈنٹس کو دھمکی دی تھی اگر زیادہ شور مچایا ہم آپ کو 5سال تک نا اہل قراردینگے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ بند کرکے دوبارہ سے ایچ ای سی صاف شفاف بنیادوں پر ٹیسٹ کا انعقاد کرے اور طلبہ کو ان کا حق دیا جائے ۔

دوسری جانب اٹھویں روز بھی ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کیخلاف طلباء و طالبات کوئٹہ پریس کلب کے باہرسراپا احتجاج رہے ۔ مظاہرین کا شر کاء کا کہنا تھا کہ گزشتہ روزبے ضابطگیوں اور نا انصافی کیخلا سراپا احتجاج طلباء پر فیل اور نالائقی ونااہلی کا الزام عائد کیا تھا جس کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔

ٹیسٹ میں کامیاب طلبہ وطالبات 370ہے مگر جنہوں نے پریس کانفرنس کیا تھا ان میں صرف دو منتخب طلبہ تھے اور باقی 3طلبہ کا ٹیسٹ سے کوئی سروکار نہ تھا ۔جبکہ ہمارے احتجاج میں مذکورہ ٹیسٹ میں ٹاپ کرنے والے طلباء بھی ناانصافیوں کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔