|

وقتِ اشاعت :   February 14 – 2018

اسلام آباد:  سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور اصلاحات کے کنوینرسینیٹر آغا شاہ زیب خان درانی کی زیرصدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں گوادر میں صاف پانی کی فراہمی اور آکڑا ڈیم کی تکمیل نہ ہو نے کا ایجنڈا زیر بحث آیا ۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود کیطرف سے ایوان بالا کے اجلا س میں پوچھے گئے سوال پر متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ لی گئی۔

چیف سیکرٹری بلوچستان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان ڈویلپمنٹ کی اجلاس میں عدم شرکت پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کنوینر کمیٹی سینیٹر آغاشاہ زیب خان درانی نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی شروع کیے گئے منصوبہ جات پر قومی خزانے کی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں اور منصوبے تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آکڑا ڈیم کی فزبلٹی، پی سی ون بنانے اور منظورکرنے والے ذمہ دار سرکاری افسران کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔15 کروڑ روپے کا منصوبہ ایک ارب لاگت تک پہنچا گیا۔آکڑاڈیم میں پانی ذخیرا کرنے کی گنجائش بھی کم ہے اور گوادر کو پانی بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پلانٹ کے لیے ایک ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے۔وفاقی حکومت نے 2012 میں مکمل فنڈنگ فراہم کی۔2016 میں پلانٹ صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا۔پلانٹ 20 روز تک چلا اور اس کے بعد بند ہوگیا ۔گوادر واٹر فلٹریشن پلانٹ کا ڈیزائن غلط کیا گیا۔

ڈی سیلیٹنیشن پلانٹ کے فلٹر ناکارہ ہوگئے عمارت خستہ حالی کا شکار ہے ۔گوادر میں ڈی سیلی ٹیشن پلانٹ کو چھ ماہ میں بحال کیا جائے گا ۔اس منصوبے پر 80کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔گوادر میں ڈی سیلی ٹیشن پلانٹ چین اور ایف ڈبلیو اوچلانا چاہتے ہیں ۔

فی گیلن پانی کی قیمت کم کی پیش کش کی گئی ہے۔ پاکستان کے پاس یہ منصوبہ چلانے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اخبار میں ٹینڈر کا اشتہار مشتہر کیا گیا ہے۔ جس پر کمیٹی نے سفارش کی کہ بین الاقوامی سطح کی مشہور کمپنیوں کو بھی ٹھیکے میں شامل کیا جائے۔

سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ160بلوچستان حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پلانٹ بند ہوا ۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ گوادر میں صاف پانی کی قلت ہے عوام سراپا احتجاج ہیں ۔کمیٹی ممبران نے کہا کہ پلانٹ کی مرمت پر دس لاکھ روپے لگتے تھے وہ نہیں لگائے گئے ۔ غیر ذمہ داران افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔کمیٹی نے گوادر کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیلی ٹیشن پلانٹ بند پڑا ہے۔ فلٹر خراب ہوچکے ہیں ، عمارت میں دراڑیں پڑیں ہیں۔ ذمہ داران کیخلاف خواہ وہ ملازمت میں ہیں یا ریٹائرڈ ہوں کارروائی کی جائے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ گوادر شہر میں پانی فراہمی پر ماہانہ 18سے 22کروڑ خر چ ہوتا ہے۔

پورے ضلعے کو 18لاکھ گیلن سے زائد پانی فراہم کرتے ہیں۔ میرانی ڈیم کے پانی میں ٹی ڈی ایس 467ہے ۔ پانی کا معائنہ پی سی ایس آر سے کروایا گیا ۔ اجلاس میں سینیٹرز محسن خان لغار ی ،عثمان خان کاکڑکے علاوہ وفاقی وزارت منصوبہ بندی ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔