|

وقتِ اشاعت :   February 15 – 2018

 اسلام آباد /  لاہور: پاکستان میں اقوم متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں پرپابندی کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ اورفلاحِ انسانیت فائونڈیشن کے انسانی وسائل پرپابندی، منقولہ، غیرمنقولہ اثاثے منجمد کرنے اور انھیں سرکاری تحویل میں لینے کی منظوری دیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو کارروائی کے احکام جاری کردیے ہیں۔

اسلام آباد میں جماعت الدعوۃ سمیت تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے دفعہ 144نافذکردی گئی۔

ڈپٹی کمشنرکی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کسی قسم کی فنڈ ریزنگ، سڑکوں پر بینرزآویزاںیاکسی قسم کی کوئی تقریبات منعقد نہیں کر سکیں گی، پابندی کا اطلاق فوری طورپر نافذالعمل اوردوماہ تک موثر رہے گا۔

ڈپٹی کمشنر نے 71 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی اسسٹنٹ کمشنرز کو ارسال کردی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے حکم جاری کیاکہ دو روز میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں کاجائزہ لے کررپورٹس جمع کرائیںجبکہ تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظررکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ضلع راولپنڈی میں انتظامیہ نے کریک ڈائون شروع کرتے ہوئے فلاحِ انسانیت فائونڈیشن کے زیر انتظام 4 ڈسپنسریوں اور ایک مدرسے کواپنے کنٹرول میں لے لیاہے۔

پاکستان کی جانب سے شدت پسندتنظیموں کے خلاف کارروائی ایسے موقع پرسامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے پیرس میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کوواچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے تحریک پیش کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل اتوارکوحکومت نے صدارتی حکمنامے کے ذریعے اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قراردی گئی تنظیموں کوپاکستان میں بھی کالعدم قراردیا تھا۔

ادھر وزیرمملکت برائے خزانہ راناافضل نے بی بی سی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ فلاحِ انسانیت فائونڈیشن کی سرگرمیوں پرپابندی عائدکردی گئی ہے۔

یاد رہے فلاح انسانیت فائونڈیشن2012ء سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے۔