|

وقتِ اشاعت :   February 15 – 2018

کوئٹہ:  سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگی ناگزیر ہے ۔موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے کو ترجیح بنیادوں پر اہمیت دے گی۔

نصاب میں تبدیلی اور اصلاحات لاکر ہی صوبے میں شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم کو فروغ دیا جاسکتا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز یو این ڈی پی کے زیر اہتمام قانون ساز پالیسی اورایس ڈی جیز فور16کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی انجینئر زمر ک خان،ڈاکٹر شمع اسحاق بلوچ ،یاسمین لہڑی ،ثمینہ خان ،عارفہ صدیق ،ولیم جان برکت ،یو این ڈی پی بلوچستان کے نمائندے داؤد ننگیال سمیت محکمہ تعلیم،سول سوسائٹی ،میڈیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مزید کہنا تھا کہ عوام آئندہ انتخابات میں ایسے نمائندوں کو منتخب کریں جو ان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے بہتر انداز میں کام کرسکیں اور صوبے میں کے لیے بہترین پالیسی اور قانون سازی کرسکے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اراکین اسمبلی انجینئر زمرک خان،ڈاکٹر شمع اسحاق ،یاسمین لہڑی،ثمینہ خان ،ولیم جان برکت اور عارفہ صدیق کا کہنا تھا کہ صوبے کی ترقی خاص کر تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ہمیں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی فروغ کے لیے طویل مدتی پروگرام مرتب کرنے ہونے گے کیونکہ کسی بھی ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی ہی معیاری تعلیم کے اصول اہمیت کا حامل ہے ۔

مقررین کا کہنا تھا کہ صوبے میں کوالٹی ایجوکیشن،نصاب میں جدید حالات کے مطابق تبدیلی لائی جائے جس کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹرین ،اسٹیک ہولڈرز ،سول سوسائٹی اور میڈیا کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی مادری زبانوں اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اپنے بچوں کو مادری زبانوں میں تعلیم دینی چاہیے تاہم دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ہمیں انگریزی زبان پر بھی توجہ دینی ہوگی ۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے معذور افراد اور اقلیتی برادری کے حوالے سے بھی قانون سازی کی ہے جس پر عمل درآمد ہورہا ہے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یواین ڈی پی کی جانب سے کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے جو فائندنگ رپورٹ کی شکل میں سامنے آئی ہے اس پر ہنگامی بنیادوں پر ایک مضبوط میکنزم کا آغاز کیا جائے تاکہ اس کے مثبت نتائج سے عوام مستفید ہوسکے ۔

تقریب کے آخر میں یو این ڈی پی کے نمائندے قریش خٹک نے تمام شرکاء کے آراء اور تجاویز پران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گڈ گورننس اور تعلیم کے وسیع تر بہتری کے لیے محض ایک رپورٹ میں احاطہ نہیں کیا جاسکتا تعلیم کے شعبے میں بحث ومباحثے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ ایک نقطے پر پہنچ کر اس شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکے۔