بلوچستان کے اخبارات زیرِ عتاب

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

اٹھارہ اگست 2009 کا سورج جیسے ہی طلوع ہوا, روزنامہ آساپ صحافت کی آبیاری کرتا ہوا غروب ہو چکا تھا۔ سورج نے دوبارہ طلوع ہونا تھا۔ پر آساپ کی کرنیں مدھم پڑ چکی تھیں. بلوچستان ایک حقیقی صحافتی ترجمان سے محروم ہونے والا تھا۔ آساپ کی بندش سے قبل اخبار کے مالک کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ جان تو بچ گئی پر آساپ کو نہ بچا سکے ۔ یوں یہ اخبار صرف سترہ سال جی کر اٹھارہ اگست 2009 کو خالق حقیقی سے جا ملا۔۔ (انا للہ وان الیہ راجعون)۔ جان محمد دشتی لندن کو پیارے ہو گئے۔ آساپ کی جگہ ہسپتال نے لے لی۔ آساپ سے وابسطہ سو سے زائد ورکر بے روزگار ہو گئے۔

بلوچستان ءِ پُلانی ھدوناک (آسٹریلیائے بینگ مکسکٌ)

Posted by & filed under بلوچی.

پہ زیارت ءِ ترو تاب ءَ ما دراتکگ اِتاں کہ مئے چم زیارت ءِ روڑ ءِ لمب ءَ بازیں پیٹی ہانی سرا کپت اَنت۔ پیٹیانی لمب ءِ مردءَ یک بنگوے جتگ ءُُ آئی تہا نشتگ ات ایشانی پانگی ءَ کنگ ات۔ من وتی سنگت ءَ را جست کرت کہ واجہ ادا چے کنگ ءَ اِنت؟۔ تو آئی منا گوشت کہ اے پیٹیانی تہا بینگ مکسک بینگ بندگاہاں۔

موجودہ بجٹ پہلے سے بہتر، لیکن منصوبہ بندی نیم خواندہ لوگوں کے پاس ہے، صدیق بلوچ

Posted by & filed under کوئٹہ.

صدیق بلوچ روزنامہ ’آزادی‘ اور انگریزی اخبار ’بلوچستان ایکسپریس ‘کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ 40سال سے زائد صحافتی کیریئر رکھنے والے صدیق بلوچ بلوچستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔بلوچستانی سیاست اور معیشت پر ان کی ایک کتاب “Balochistan Its Politics and Economics” نام سے ہے۔ ’حال حوال‘ نے بلوچستان کے موجودہ بجٹ اور بلوچستان کی معیشت پر ان سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ آئیے ملاحظہ کرتے ہیں۔

بلوچی زبان ءِ دیمروئی المی اِنت

Posted by & filed under بلوچی.

یک ھبرے ہمے اتک کہ آوکیں وھد ءَ بازیں زبانے گار بیگواہ بیت اے ھرب ءِ دیم ءَ آہگ ءَ رند ہلک ءُُ دمگاں جار جنگ بوت کہ بیاکہ زبان ءِ سراکا ر کنیں کہ زبان گار بیگواہ مہ بیت۔ بلوچی زبان ءِ بازیں دروشم ار ہر دمگ ءِ گالور یکے دومی ءَ چہ جتا درابنت آواران ءِ

آئیے حال حوال کرتے ہیں!

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

کیا انسان کو ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا چاہیے کہ نہیں۔ وہ مکالمہ ہی بہتر ہوگا جو دلائل کی بنیاد پر ہو جو منطقی انجام تک پہنچانے کا راستہ فراہم کر سکے۔ جب تک مکالمہ نہیں ہوگا،ایک دوسرے کو سمجھیں گے کیسے، جانیں گے کیسے ،پھر ایک راستہ کیسے نکلے گا،

یہ ضمیر اور فتوے بازیاں

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

میرا ضمیر کبھی کبھار ایسے جاگ جاتا ہے بس میں سمجھتا ہوں کہ میں ہی ہوں کوئی اور تو ہے ہی نہیں اس دنیا میں ۔۔ میں اپنے من ہی من میں سوچتا ہوں کہ میں بہت اچھا کر رہا ہوں۔ اس دنیا کے باقی جتنے بھی لوگ ہیں ان سے بڑھ کر کوئی غلیظ نہیں۔

بلوچستان میں ہنرمندی کا شعبہ غیر فعال کیوں؟؟؟

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

ان دنوں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا چرچا عام و خاص کی زبان پر ہے۔تعلیمی تباہی سے دوچار صوبہ بلوچستان جہاں سے اس کوریڈور کی گزرگاہیں ہوں گی۔ اکنامک زون لگائے جائیں گے۔ گوادر پورٹ بنے گی۔ اس کوریڈور کے لئے ہنرمند افراد کی ضرورت ہوگی جو اکنامک کوریڈور کی ضروریات پر پورے اترتے ہوں۔

روفن فرانسس اور ٹیلی گرام

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

جونہی آپ مین پوسٹ آفس کوئٹہ کے اندر داخل ہوتے ہیں پوسٹ آفس کی چاردیواری کے اندر عمارت کے سامنے بنا ہوا ایک سٹینڈ نظر آتا ہے اس اسٹینڈ کو پانچ خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے ہر خانے میں ایک رائٹر (یعنی منشی) بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب کوئی خط لکھوانا یا پڑھوانا ہوتا تھا تو منشی کی خدمات حاصل کی جاتی تھی۔

پی بی 50کا معمہ

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

پی بی 50 کے حالیہ ضمنی الیکشن اس حلقے میں 2013سے لیکر اب تک ہونے والی تیسری انتخابات تھے جس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اکبر آسکانی کو 3477ووٹ لینے پر الیکشن کمیشن نے کامیاب قرار دیا ۔ جبکہ اسکے سخت حریف نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر کہدہ اکرم دشتی کو 2260ووٹ ملے۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد 8تھی۔ اسی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 58699تھی۔

بلوچستان کا واحد ٹیکنیکل سکول حکومتی عدم توجہی کا شکار

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

1954کو قائم کی گئی میکانگی روڑ کوئٹہ پر واقع گورنمنٹ ماڑل ٹیکنیکل اسکول بلوچستان کا وہ واحد اسکول ہے جہاں ہنرمندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکول میں اس وقت 700کے لگ بھگ بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ ٹیچنگ اسٹاف کی تعداد 34ہے ۔ اسکول باہر سے انتہائی پرکشش معلوم ہوتی ہے لیکن اندر داخل ہونے پر اسکی کھوکھلے پن کے تمام راز کھل جاتے ہیں ۔