شام پر ترکی، سعودی عرب حملے کا خطرہ

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق شامی افواج داعش کے ہیڈ کوارٹر رقاء کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ رقاء صوبے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی کارروائیاں کررہی ہیں۔ اس کو روسی ہوائی حملوں کی زبردست حمایت حاصل ہے اور یہ خطرہ شدید ہوگیا ہے کہ شامی افواج اور اس کے شیعہ اتحادی رقاء صوبے پر قبضہ کرکے ترکی کے ساتھ شام کی سرحدیں سیل کردیں گے

حکومت کی ملک میں افغان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع سے انکار ،مدت 31 دسمبر کو ختم ہو گیا تھا

Posted by & filed under پاکستان.

کراچی: حکومت پاکستان نے بالآخر افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام میں توسیع دینے سے انکار کردیا ہے۔ ان کے قیام کی مدت گزشتہ سال 31دسمبر کو ختم ہوگئی تھی اور اس میں کسی قسم کی توسیع کا اعلان تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی اعلان نہیں کیا گیا۔

سردار اختر مینگل کی زیر صدارت اسلام آباد میں اے پی سی ،گوادر میگا پراجیکٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے ،آل پارٹیزکانفرنس

Posted by & filed under لیڈ اسٹوری.

اسلام آباد: اقتصادی راہداری اور گوادر کے حوالے سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا ء نے اقتصادی راہداری کے حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کو مسترد کرتے ہوئے

پاکستان افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں مزید توسیع نہیں کریگا، وفاقی کابینہ میں فیصلہ چند روز میں متوقع

Posted by & filed under لیڈ اسٹوری.

کوئٹہ: حکومت پاکستان نے غیررسمی طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ افغان مہاجرین اور تارکین وطن کی پاکستان میں مزید قیام کیلئے توسیع نہ کی جائے۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کے قیام میں گزشتہ دور میں توسیع کی تھی جواب 31دسمبر2015ء کو ختم ہورہی ہے۔ جن میں غیر قانونی تارکین وطن بھی شامل ہیں جن کے خلاف ریاست پاکستان نے سفارتی وجوہات کی بناء پر کارروائی نہیں کی اور ان کی موجودگی کو’’نظرانداز ‘‘کردیاتھا۔ واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں کابل میں ایک سہ فریقی کانفرنس اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا۔

مکران کے لوگو واپڈا افسر کے رحم و کرم پر ،بلوچستان میں بجلی لائنیں بوسیدہ ہیں مزید لوڈ برداشت نہیں کرسکتے‘کیسکو ذرائع

Posted by & filed under لیڈ اسٹوری.

کوئٹہ: وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ افسر اور وزیراعظم کے مشیر نے حال ہی میں کوئٹہ کا دورہ کیا تاجروں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بلوچستان میں بجلی کی ترسیل کا نظام پرانا اور بوسیدہ ہے اور یہ 700 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس افسر اعلیٰ نے بلوچستان کے عوام کو صاف الفاظ میں بتای دیا

گوادر کو ملک بھر سے ریل کے ذریعے منسلک کرنے کیلئے ایک ارب 33کروڑ روپے مختص

Posted by & filed under لیڈ اسٹوری.

کوئٹہ : رواں سال کے وفاقی بجٹ میں گوادرپورٹ سٹی کو پاکستان بھر کے ریل لنک سے منسلک کرنے کیلئے اراضی خریدنے کیلئے ایک ارب 33کروڑ20لاکھ روپے رقم مختص کردیئے گئے ہیں گوادر پورٹ سٹی کو کراچی یاجیک آباد ریلوے لائن سے کنکیٹ کیا جائے گا ‘ مالی سال 2015-16ء میں وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ کے قریب ریلوے کنٹینر یارڈ کیلئے 88کروڑ20لاکھ روپے مختص کیے ہیں

وفاقی بجٹ میں گوادر کیلئے بڑے پیمانے پر وسائل مختص ،ایئرپورٹ کی تعمیر سمیت پورٹ سے متعلق ترقیاتی منصوبے شامل

Posted by & filed under بلوچستان.

اسلام آباد: کئی دہائی بعد پہلی بار فاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں گوادر کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کیے گئے ہیں جس میں گوادر ڈیپ سی پورٹ اور اس سے منسلک منصوبے شامل ہیں ، وفاقی بجٹ 2015-16ء میں گوادر میں بین الاقوامی معیار کے ائیر پورٹ کی تعمیر کیلئے تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

گوادر نہیں ‘ روٹ زیادہ اہم ہے

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ملک کے بڑے بڑے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ گوادر بندر گاہ تک پہنچنے والی گزر گاہ کہاں کہاں سے گزرے گی۔ جیسا کہ پہلے خیال تھا کہ یہ ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب ‘ کوئٹہ اور پھر گوادر کی بندر گاہ تک پہنچے گی۔ اس سے قبل پختون رہنماؤں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کو ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب شاہراہ سے نہیں گزارا گیا تووہ اس روٹ کو بننے نہیں دیں گے

گوادر کا شغر کے نام پر پنجاب میں سرمایہ کاری

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

پورے ملک میں یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ گوادر کی بندر گا ہ کو راہداری یا گزر گاہ کی ضرورت ہے اکثر سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں نے اس خیال کو نہ صرف اپنا لیا ہے بلکہ خرید لیا ہے اور وہ اس خیال کو آگے فروخت کرنا چاہتے ہیں

بلوچستان کے وزراء کو اب ہیلی کاپٹرز دیئے جائیں

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

حاکمیت اور اقتدار کے نمائش بہت ضرروی ہے خصوصاًاس کااظہار شان و شوکت سے ہو اس میں دو رائے نہیں کہ حکمران اور اقتدار لوگ پورے پاکستان میں یکساں طرز عمل کے حامی ہیں اور اس پر عمل در آمد کرتے ہیں اکثر معاملات سے معلوم ہوجاتا ہے