|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2016

پاکستان کے تمام حکمرانوں نے اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے اور وفاقی اکائیاں دراصل پورے ملک کے وسائل کے مالک ہیں۔ ان کا کوئی سرکاری اہلکار یا سیاسی رہنماء شریک نہیں ہے۔ ملک غلام محمد گورنر جنرل پاکستان سے لے کر نواز شریف تک تمام حکمران پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے رہے ہیں، من مانی کارروائی کرتے رہے ہیں اور اس کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں۔ آج تک ان کا ہاتھ کسی نے نہیں روکا۔ بلوچوں نے صرف اسی بنیاد پر 1973کے آئین کو ویٹو کیا تھا جس میں وفاقی اکائیوں کے جائز مفادات کا تحفظ نہیں کیا گیا تھا۔ میر غوث بخش بزنجو نے 1973کے آئین کو صرف اس لئے ووٹ دیا تھا جس کے بغیر پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوتے اور شک یہ تھا کہ 1971کی جنگ کے بعد یہ قائم ہی نہیں رہتا۔ یہ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی بردباری تھی کہ انہوں نے ملکی اور قومی مفادات کو ترجیح دی اور ملک کو مزید ٹکڑے ہونے سے بچالیا۔ جس دن 1973کا آئین نافذ ہوا۔ وزیراعظم بھٹو نے اسی دن نیپ کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے پاکستان کو شکست وریخت سے بچانے کا کام کیا تھا پاکستان میں ہمیشہ مرکزیت پر زیادہ زور دیا گیا بلکہ ہر اس آواز کو کچل دیا گیا جس نے صوبائی اختیارات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وجہ سے ون یونٹ بنایا گیا تھا کہ چھوٹے صوبوں کے حقوق سلب کئے جائیں اور مشرقی بنگال کو اکثریت سے محروم کردیا جائے۔ روز اول سے ملک میں جتنے ادارے بنائے گئے ان میں وفاقی اکائیوں کے وسائل کو استعمال میں لایا گیا۔ وفاق کے پاس اپنے وسائل نہیں تھے، تمام ٹیکس اور وسائل صوبوں سے اکھٹے کئے گئے اور وہ ادارے قائم ہوئے ان میں بینک، صنعتیں اور سرکاری خصوصاً حکومت کے کنٹرول میں تجارتی ادارے قائم ہوئے۔ ان میں پی آئی اے، گیس اور تیل کی کمپنیاں، پی پی ایل اور بینک شامل تھے۔ جب کبھی بھی اس ملک میں تاجروں کی حکومت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے سرکاری اور قومی اثاثوں کو اپنے من پسند اور چہیتے لوگوں کو فروخت کیا۔ آج کل شاید حکمران پی آئی اے کو خود خریدنے کے چکر میں ہیں اور اس کو اپنے من پسند لوگوں کو فروخت کرکے اس پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا انکشاف نامور وکیل چوہدری اعتزاز احسن اور عمران خان نے کردیا ہے۔ اس لئے اس کی بھرپور مزاحمت ہورہی ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کو روکنے کے لئے ایک طرح سے قومی اتحاد قائم ہوچکا ہے۔ امید ہے یہ قومی اتحاد بلوچستان کے جائز مفادات کا ضرور تحفظ کرے گا۔ امید ہے کہ پی آئی اے بلوچستان کے دور دراز رہنے والوں کو ہوائی سفر کی سہولیات ماضی کی طرح فراہم کرتا رہے گا۔ حکومت اور حکمرانوں نے جان بوجھ کر پی آئی اے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تاکہ اس کو خود خریدسکیں۔ اس لئے بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے پی آئی اے کی پروازیں بند ہوگئیں۔ بہانہ نقصان ہے حکومت 100نئے طیارے دے کر پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنائے تاکہ وہ اربوں ڈالر منافع کمائے بعض حکمران، خصوصاً وزراء صاحبان ترکش ائرلائن کی مثال دیتے ہیں کہ وہ سالانہ 8ارب ڈالر منافع کمارہا ہے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اس کے پاس کتنے جہاز ہیں اور کتنے جہاز نئے ہیں اور کتنا ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ ترکش ائیرلائن کے پاس 320سے زیادہ جہاز ہیں اور زیادہ تر نئے ہیں اور دنیا بھر میں اڑتے پھرتے ہیں۔ مگر پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 38جہاز ہیں اور ان سے 13جہاز آدھار پر یعنی لیز پر لئے گئے ہیں۔ حکمرانوں نے پی آئی اے میں اپنے کارکن اور کارندوں کو بھرتی پر لگادیا ہے۔ پھر خود حکومت اور حکمران پی آئی اے کے خلاف زبردست سازشیں بھی کرتے رہے تاکہ یہ ناکام ہو اور وہ خود اس کو خریدلیں۔ انہوں نے پی آئی اے کو لوٹ مار کا ذریعہ بنایا اور اس کے اسٹاف کو ذاتی نوکر تاکہ وہ حکمرانوں کی خدمت سرانجام دیں۔ جنرل ضیاء الحق جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے جارہے تھے تو پی آئی اے کے 13جہاز اس کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ چار جہاز تو صرف مختلف ملکوں میں اسٹینڈ بائی (Standby)کے طور پر کھڑے تھے کہ صدر پاکستان شاید ان کو استعمال میں لائیں۔