|

وقتِ اشاعت :   May 4 – 2016

 اسلام آباد: سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے تلاشی لینے پر عدالت کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو تھپڑ رسید کردیا اور زبردستی کچہری میں گھس گئے۔ سابق چیرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری آج ایف ایٹ کچہری پہنچے تو اسلام آباد میں شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث عدالت کے مرکری دروازے پر کھڑے ہیڈ کانسٹیبل ریاض نے نے انھیں تلاشی دینے کا کہا جس پر نیئر حسین بخاری غصے میں آ گئے اور اہلکار کو تھپڑ رسید کردیا۔ سابق چیرمین سینیٹ نے پولیس اہلکار کو بھرا بھلا بھی کہا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے زبردستی کچہری میں گھس گئے۔ دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ مارگلہ کا کہنا ہے کہ نیئر حسین بخاری کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اس لئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر 3 سال قید اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ آئی جی اسلام آباد طارق مسعود یاسین نے بھی پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کا نوٹس لیتے ہوئے نیئر حسین کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان ہتھیلی پر جان رکھ کر ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ییں، اہلکاروں کے ساتھ اس قسم کی حرکت ناقابل برداشت ہے اور قانون کی پابندی سب پر فرض ہے، واقعہ کو مثال بنائیں گے۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ سویلین کپڑوں میں ایک شخص نے مجھے چھونے کی کوشش کی جس پر سرکاری محافظ نے اسے دھکا دیا تاہم میں نے اسے تھپڑ نہیں مارا جب کہ میرے خلاف قائم کردہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ایف آئی آر دیکھنے کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔