|

وقتِ اشاعت :   May 27 – 2016

جاپان میں امیر ترین ممالک کے گروپ جی سیون کی سربراہ کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کا ووٹ ’عالمی پیداواری ترقی کے لیے شدید خطرہ‘ ہو سکتا ہے۔

جی سیون کی سربراہ کانفرنس کے حتمی بیان کے مطابق گروپ نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نلکنے سے بڑھتی ہوئی عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے رحجان کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا کے سات سرفہرست صنعتی ممالک جمع ہوئے ہیں۔ جی سیون ممالک کے سربراہان کی جانب سے معاشی نتائج کے بارے میں تنبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں یورپ میں رہنے یا نکلنے کے حوالے سے ریفرینڈم 23 جون کو ہونے والا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے 28 ملکی اتحاد میں رہنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کرنے والوں کو برتری حاصل ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، اٹلی، جرمنی، فرانس اور جاپان کے سربراہان نے عالمی پیداوار کو ’اشد ضروری ترجیح‘ قرار دیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ’عالمی پیدوار کو درپیش خطرات کا مل کی مقابلہ کرنا ہو گا جن میں شدت پسند حملے اور پرتشدد انتہا پسندی شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جلد طاقتور، قابل قبول اور متوازن پیداواری طریقہ کار حاصل کرنے کے لیے ہمیں معاشی پالیسی کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کے ذریعے مضبوط اور متوازی پالیسی کی ضرورت ہے۔‘ گروپ نے بین الاقوامی مارکٹس کو کھلا رکھنے اور تحفظ تجارت کے لیے ہر طرح کی لڑائی لڑنے کا بھی کہا ہے۔ جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے اپنے ممالک کو کرنسی کی قدر میں کمی سے بچانے کے عزم کا ارادہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ میں پناہ گزینوں کے مسلے پر بھی بات ہوئی جسے پوری دنیا کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پوری دنیا کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سربراہان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور ڈونر ممالک کی جانب سے امداد میں اضافے کرنے کی ضرورت ہے۔