|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد: حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے پلی بارگین کرنے والوں کو تاحیات نااہل قرار دینے کی تجویز منظور کرلی۔
اسلام آباد میں قوانین جائزہ کمیٹی کے ارکان وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بتایا کہ احتساب سے متعلق ایک آرڈیننس کا نوٹیفکیشن آج رات 12 بجے جاری کردیا جائے گا اور کل بروز اتوار (8 جنوری) سے یہ آرڈیننس نافذ العمل ہوجائے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اسے پیر (9 جنوری) کو سینیٹ میں پیش کردیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی تجویز ہے کہ پلی بارگین میں عدالتی منظوری بھی ہو اور تاحیات پابندی بھی شامل ہو۔
اسحٰق ڈار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بل کے ذریعے پیش کرنے کی صورت میں معاملہ تاخیر کا شکار ہوسکتا تھا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پلی بارگین سے متعلق حکومتی موقف طلب کیا تھا۔

اس موقع پر وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے سزاپانے والے نا اہل نہیں ہوتے جس پر تنقید ہورہی تھی، لیکن اب بدعنوانی کے خلاف تاریخی ترمیمی آرڈیننس جاری کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین کے تحت رضاکارانہ طور پررقم کی واپسی آرڈیننس میں شامل کی جارہی ہے۔
زاہد حامد نے کہا کہ ‘پلی بارگین لفظ ہی غلط ہے، جرم غلط کرنے والے سے بارگین ہونی ہی نہیں چاہیے’۔
وزیر قانون نے کہا کہ کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ مسلم لیگ (ن) کا منشور ہے۔
آرڈیننس اسمبلی میں بحث کے بعد لانا چاہیے تھا، پی ٹی آئی
حکومتی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان نعیم الحق نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوانین عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہوتے ہیں لیکن حکومت کی عادت یہ ہے کہ وہ اداروں کے دباؤ کے تحت آرڈیننس جاری کرتی ہے، پلی بارگین سے متعلق اس آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں بحث کے بعد لانا چاہیے تھا۔
ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اگر موجودہ قوانین پر ہی درست انداز نیک نیتی سے عملدرآمد کرلیا جائے تو اس طرح کے نئے قوانین کی ضرورت موجود نہیں رہتی۔
نعیم الحق نے مزید کہا کہ پلی بارگین والوں کو پیسے تو واپس کرنے ہی چاہئیں، کیونکہ یہ قوم کا پیسہ پوتا ہے، لیکن انھیں سزا بھی ملنی چاہیے اور اس کے لیے سزا کا اطلاق قومی اسمبلی میں عوامی نمائندوں سے باقاعدہ رائے لے کر ہونا چاہیے، کسی بیوروکریٹ کی مرضی کا آرڈیننس نہیں ہونا چاہیے۔
‘آرڈیننس میں مزید سختی ہونی چاہیے’
تجزیہ کار طلعت مسعود کا ڈان نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہنا تھا کہ اس آرڈیننس میں مزید سختی ہونی چاہیے اور نااہلی کے ساتھ ساتھ پلی بارگین کرنے والوں کو سزا بھی ملنی چاہیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پہلے کے مقابلے میں اب صورتحال کافی بہتر ہے، پہلے اس میں نااہلی شامل نہیں تھی اور دوسرا اب نیب کے بجائے عدلیہ اس بات کا فیصلہ کرے گی تو اس میں بہتری تو آئی ہے، لیکن سزا کا عنصر بھی شامل کرنا چاہیے۔