|

وقتِ اشاعت :  

ترک سرحد سے ملحقہ شامی علاقے میں بم دھماکے سے 43 افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق دھماکا ایک مصروف بازار میں ہوا جس میں درجنوں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شام کی انسانی حقوق کی مبصر تنظیم کا کہنا ہے کہ دھماکا شام کے شمالی شہر اعزاز میں ایک کورٹ ہاؤس کے سامنے ہوا اور اس میں ہلاک ہونے والے افراد عام شہری ہیں جبکہ درجنوں افراد کے زخم شدید نوعیت کے ہیں۔

یہ شہر ترک سرحد کے قریب واقع ہے اور باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔
حلب میڈیا سینٹر کے رکن اور علاقہ مکین نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا آئل یا پانی کے ٹینکر کے ذریعے کیا گیا۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق حکومتی عمارت کے نزدیک ہونے والے اس دھماکے کی آواز سرحد پار ترکی کی شہر کلس میں بھی سنی گئی، جس کے بعد کلس کے ہسپتال میں مریضوں کے علاج کے لیے تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔
غیر مصدقہ ذرائع اس دھماکے میں بھی داعش کے ذمہ دار ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔
دوسری جانب ترک افواج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں 21 داعش کے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ترک افواج کی جانب سے داعش کے 12 ٹھکانوں کو جنگی طیاروں کے ذریعے نشانہ بنای گیا۔
خیال رہے کہ خانہ جنگی کے شکار شام میں آئے دن دھماکے اور فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں ملک کے جنوبی صوبے دارا میں ایک پولیس اسٹیشن کی افتتاحی تقریب کے بعد کار بم دھماکے میں شامی حکومتی اپوزیشن کے وزیر سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
شام میں 2011 میں صدر بشار الاسد کی انتظامیہ کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا، اس وقت سے اب تک شام میں خانہ جنگی جاری ہے جس میں 3 لاکھ سے زائد افراد ہلاک جب کہ لاکھوں معزور ہوچکے ہیں۔
شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر اور پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبورہیں۔
شامی حکومت اور باغیوں میں متعدد بار امن معاہدے بھی ہوئے جو ہر بار ناکام ہوئے، مگر حکومت اور باغیوں کے درمیان ترکی اور روس کی ثالثی پر 2 ہفتے قبل 29 دسمبر 2016 کو حتمی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس معاہدے کا اعلان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کیا جبکہ اس معاہدے کی تصدیق ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی کی۔
روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی گروپ کو داعش اور فتح الشام کی طرح ‘دہشت گرد’ گروپ تصور کیا جائے گا۔