|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے کہا ہے کہ عوام کی جان ومال کے تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے جس کو من و عن یقینی بنانا ہوگا لاچار افراد کی داد رسی اگر پولیس نہیں کرتی تو مجبوراً وہ عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں پولیس کا فرض ہے کہ وہ اپنے حلف کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کریں مغوی لڑکی کی بازیابی کیلئے پولیس مختلف ٹیموں کی شکل میں خضدار اور پنجگور میں کارروائی کریں آئی جی پولیس سابق ایس پی کی پنشن بند کرنے کیلئے اکاؤنٹنٹ جنرل کو تحریری طور پر حکم دیں ‘یہ حکم بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ پر مشتمل بینچ نے ولی اللہ کی آئینی درخواست نمبر106-2107برخلاف ہوم سیکرٹری ودیگر میں حکم جاری کرتے ہوئے کہی‘ عدالت میں درخواست گزار ولی اللہ نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ اس کی بیٹی صدف جس کی عمر 10سے12سال ہے ایک سابق پولیس کے ریٹائرڈ ایس پی اور اس کے بیٹے نے اپنے قبضے میں رکھا ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا اس کی بچی کی بحفاظت بازیابی کیلئے عدالت عالیہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو حکم دیں عدالت میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالواحد کاکڑاور ایس پی سریاب پیش ہوئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ گل خان ساسولی (ر) سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے گھر چھاپہ ماراگیا لیکن اس کا گھر بند پڑا ہے لیکن ہماری معلومات کے مطابق کہ وہ اور اس کا بیٹا جس پر الزام ہے کہ وہ زیدی ضلع خضدار یا پنجگور میں ہے جس پر عدالت عالیہ نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو حکم دیا کہ بچی کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائی جائے اوراس سلسلے میں آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر خضدار اور پنجگور کی مدد بھی لی جائے عدالت عالیہ نے آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ وہ پوری طور پر گل خان ساسولی(ر) پولیس ایس پی کی پنشن کو روک دے اور 18-01-2017کو عدالت عالیہ کو اگلی پیشی کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور آرڈر کی کاپیاں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان‘ڈپٹی کمشنر ز خضدار اور پنجگور کو بھی اس ہدایت کے ساتھ بھجوائی جائے کہ بچی کی بحفاظت بازیابی کیلئے اقدامات اٹھائے حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ پیش ہوئے۔