|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد : 2016کے دوران ملک میں کل 441دہشت گرد حملے ہوئے جن میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد908ہے۔ ان حملوں میں 106تحریک طالبان پاکستان اور 106جماعت الاحرار نے کئے ۔بلوچستان میں تحریک طالبان ، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی بلوچ باغیوں سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں ۔یہ اعداد و شمار اتوار کو جاری ہونے والی پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز اسلام آباد کی سالانہ سیکورٹی رپورٹ 2016میں دیئے گئے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 2016میں عسکری حملو ں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے جو 2015کے مقابلے پر 28 فیصد کم ہے تاہم عسکری گروہ اب بھی بڑھتا ہوا خطرہ ہیں اور وہ اپنا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اپنے ظہور کے نئے علاقوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ طویل عرصے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ریاست کو سخت گیری کی ساتھ ساتھ متبادل حکمت عملیوں پر بھی غور کرنا ہو گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016میں پاکستان بھرکے 57اضلاع میں 441دہشت گرد حملے ہوئے ۔ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے میں106حملوں کے ساتھ تحریک طالبان سر فہرست رہی ۔تاہم جماعت الاحرار نے 66حملے کئے جو اس کے عروج اور طالبان کی آپریشنل کمزوریوں کی دلیل بھی ہے ۔پالیسی سازوں کو عسکریت پسندوں کی ان بدلتی ہوئی حرکیات پر بھی نظر رکھنی ہو گی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50فیصد حملوں کا تعلق ٹارگٹ کلنگ یا شوٹنگ سے تھا ۔ رپورٹ میں 2016کے دوران فرقہ وارانہ حملوں میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم اسے ایک طویل المدتی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ فرقہ وارانہ جتھے نہ صرف پوری طرح متحرک ہیں بلکہ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی شکل اختیار کر کے ملک میں جاری مکالمے کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے اور آزاد سیاسی و سماجی خیالات کو محدود کر دیا ہے ۔ مزید یہ کہ پاکستان کی عسکریت پسندی کے منظر نامے کو بھی مزید گھنجلک بنا دیا ہے ۔ 2016میں لشکر جھنگوی نے لشکر جھنگوی العالمی کا روپ دھار لیا اور اس نے خضدار میں ایک مزار کو بھی نشانہ بنایا اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے وسعت اختیار کرتے ہوئے دولت اسلامیہ سمیت عالمی دہشت گرد گروہوں سے رابطے استوار کر لئے ہیں ۔پالیسی سازوں کو منصوبہ بندی کی تشکیل کرتے وقت ملک بھر میں ان بدلتی ہوئی حرکیات پر نگاہ رکھنی ہو گی ۔سیکورٹی رپورٹ میں بلوچستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ2016کے دوران تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی بلوچ باغیوں سے بھی بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔کیونکہ انہوں نے کوئٹہ اور خضدار میں بڑے اور خون ریز حملے کئے جبکہ اس کے مقابلے پر بلوچ باغیوں نے چھوٹے درجے کے حملے کئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ ایک سال سے سیاسی مفاہمت کا عمل تعطل کا شکار ہے امید ہے کہ 2017میں ا س عمل کو دوبارہ شروع کیا جا ئے گا ۔ 2016کے دوران سیکورٹی فورسز نے ملک بھر میں 95آپریشنز کئے ۔جبکہ سرچ آپریشنز میں 1418مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جن میں انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی پنجاب کا اہم کردار تھا ۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ طاقت سے کیا جا رہا ہے جو کہ مسئلے کا حل نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لئے نیشنل ایکشن پلان سے رہنمائی لی جائے ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ وقت اس بات پر صرف کر دیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کو کون اور کیسے مانیٹر کرے گا جبکہ اس کے نکات ابھی تک عمل در آمد کے منتظر ہیں ۔انسدادِ دہشت گردی میں مرکزی کردار کے حامل ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی NACTAکو ابھی مکمل طور پر فعال کیا جانا بھی باقی ہے کوینکہ ابھی تک وہ وزارتِ داخلہ کے ماتحت ادارے کی حیثیت سے کام کر رہا ہے ۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے کوئٹہ ہسپتال حملے سے متعلق قاضی عیسیٰ کی رپورٹ کی حمایت کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لئے مزید اقدامات پر زور دیا ہے ۔رپورٹ میں پر تشدد انتہا پسندی کے خلاف پالیسی کے اجرا پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی کریمینل جسٹس سسٹم کو بھی پائیدار بنانے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ فوجی عدالتیں زائد المیعاد ہو چکی ہیں اور اب تمام تر توجہ سولین حکومت کی طرف ہے اس لئے کریمینل جسٹس سسٹم کو پارلیمنٹ کی نگرانی میں دینے کا طریقہ کار وضع کیا جائے ۔