|

وقتِ اشاعت :  

چمن : صوبے کی مخلوط صوبائی حکومت اور پشتونخوامیپ کے سیاسی کردار سے خائف بعض سیاسی پارٹیاں بہتان تراشی ، میڈیا کے ذریعے ناکام مہم میں مصروف عناصر کو مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ پشتون قوم کے شناختی کارڈ کیلئے تمام ملک کے قوانین اور رولز سے ماورا برتاؤ اور سلوک ناقابل قبول ہے۔ افغان مہاجرین کا بہانا بنا کر مردم شماری سے فرار ہونا دراصل ماضی کے بوگس مردم شماری کو تحفظ دینا ہے ۔ سی پیک اور خصوصاانڈسٹریل اور اکنامک زونز کی کامیابی کیلئے انرجی کے منصوبوں کو اولیت دینا ہوگی۔ افغانستان کے امن سے خطے کی امن وخوشحالی وابستہ ہے ، ملک میں قوموں کی برابری جمہوریت ، حقیقی پارلیمانی نظام ، پارلیمنٹ کی بالادستی عوام کی حق حکمرانی کو مستحکم کرنے کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں ، جمہوری قوتوں نے کردار ادا کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار پارٹی کے صوبائی سیکرٹری صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال ، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز صوبائی وزیر منصوبہ بندی وترقیاتی ڈاکٹر حامدخان اچکزئی، علاؤالدین خان کولکوال ، ملک محمد عیسیٰ خان ، چےئرمین صلاح الدین اچکزئی، حاجی کلاں خان پہلوان ، حاجی شکور ، حاجی منان ، حاجی فدا محمد ، شیر علی اور دیگر نے کلی شالون میرالزئی ، شمولیت کرنیوالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ شمولیت کے پروگرام کی صدارت صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کی۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ودیگرسیاسی پارٹیوں سے 95کارکنوں نے مستعفی ہوکر پشتونخوامیپ میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ مقررین نے کہا کہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013کے الیکشن کے بعد پارٹی نے جو کامیابی حاصل کی اس کے نتیجے میں صوبے میں مخلوط صوبائی حکومت قائم ہوئی صوبائی حکومت نے روز اول سے صوبے کے عوام کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی پلاننگ کرتے ہوئے پورے صوبے میں تمام محکموں کے ذریعے ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی کی ۔ اب ساڑھے تین سال کے بعد صوبے کی مخلوط صوبائی حکومت کی کارکردگی اور منصوبہ بندی کے نتائج عوام پر عیاں ہونا شروع ہوگئے ہیں ساڑھے تین سال میں تمام صوبے میں جو ترقیاتی کام ہوئے وہ گزشتہ چالیس سالوں میں دیکھنے کو نہیں ملی بعض سیاسی پارٹیاں جو سن 70سے اقتدار کا حصہ رہی اور انہوں نے عوام کیلئے نہ کوئی ترقیاتی کام کیا اور نہ ہی موجودہ حکومت کی کارکردگی دکھا سکے ۔ اب اپنی ماضی کی ناکامیوں غفلت کوتاہیوں کا سد باب عوام کے سامنے غلط بیانی ، بہتان تراشی کی صورت میں چھپانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے ۔ ہمارے عوام کا حافظہ کمزور نہیں اور نہ ہی وہ اتنے ناسمجھ ہے کہ وہ مایوس اور ناکام سیاسی عناصر کے اخباری بیانات سے دھوکہ کھا جائینگے ۔ صوبے کی نادرا صوبے کے پشتون علاقوں کیلئے تمام ملک کے قوانین ، رولزاور ضابطوں کے برخلاف پشتونوں سے کمپیوٹرائز شناختی کارڈ کیلئے ناجائز شرائط قابل قبول نہیں۔ مرکزی حکومت کو صوبے کے پشتون بیلٹ میں شناختی کارڈ جیسے اہم دستاویز میں پورے ملک صوبوں سے ماورا شرائط کا نوٹس ضروری اور لازمی ہے اور پشتونوں کو شناختی کارڈ سے محروم کرنے کی ہر سازش کا مقابلہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ 1998کی مردم شماری میں تمام افغان مہاجرین موجود تھے لیکن ان کی موجودگی پر واویلا نہیں کیا گیا اب کی مردم شماری پر واویلا دراصل آج کی کمپیوٹرائز دور میں ماضی کی بوگس مردم شماریوں کا خاتمہ ہونا لازمی فطرتی امر ہے ۔ ہم پارٹی کی حیثیت سے کسی بھی غیر ملکی کے اندراج کے مخالف ہے ۔ صوبائی حکومت سی پیک پر صوبے کیلئے بہترین منصوبہ بندی اور وزیر اعلیٰ کا چائنا کے دورے کے موقع پر صوبے کیلئے 12بڑے منصوبوں ، مغربی کوریڈور ، ریلوے ، اکنامک زونز اور بجلی کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر پائپ لائن میں ہیں۔ اور صوبائی حکومت ترجیحی بنیادوں پر بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی امن سے اس خطے کی امن وخوشحالی وابستہ ہے خطے کے تمام ممالک اور خصوصا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مداخلت کاروں کو روکیں اور افغانستان کو امن کا گہوارا بنانے میں اپنا اہم اور مثبت کردار ادا کرے۔