|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ بلوچستان کے حالات ایسے نہیں کہ ان پر اطمینان کااظہار کیاجاسکے،مردم شماری کے حوالے سے جن جماعتوں کو تحفظات ہے حکومت ان کے تحفظات کودور کرے اور صاف وشفاف طریقے سے مردم شماری کاانعقاد کرے کیونکہ بلوچستان میں آبادی کی صحیح تعین کئے بغیر ہم این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مقدمہ صحیح معنوں میں نہیں لڑسکتے ،سی پیک منصوبے کے حوالے سے وفاق کے وعدے زمینی حقائق کے برعکس ہے ، جماعت اسلامی کے زیراہتمام سی پیک کے حوالے سے گوادر میں سیمینار منعقد ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر میں جماعت کے رہنماؤں بشیر احمد ماندائی ،ہدایت الرحمن ،زاہد اختر بلوچ ،ڈاکٹرعطاء الرحمن ،جمیل احمدمشوانی ، عبدالمتین اخوندزادہ اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہاکہ گزشتہ روز جماعت اسلامی کے صوبائی مجلس شوریٰ کے نومنتخب اراکین کا دورہ روزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال سمیت دیگر امور پر سیر حاصل بحث کی گئی ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حالات ایسے نہیں ہے کہ اس کو تسلی بخش قراردیاجاسکے دوسری جانب سانحہ 8اگست کے حوالے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دئیے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے حکومتی کارکردگی سب پر عیاں کردی اور حکومت کی پول کھول دی ،انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ بہت اہم ہے جس سے بلوچستان کا بہت بڑا حصہ منسلک ہے ،انہوں نے کہاکہ سی پیک بارے وفاق کی جانب سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں اور اس حوالے سے وعدے کئے جارہے ہیں کہ سی پیک منصوبہ میں انر جی منصوبے ،ریلوے لائن ودیگر منصوبے جاری ہیں اس کے برعکس حکومت کی جانب سے سونے کی چیڑیا قراردینے والے گوادر میں 10لاکھ عوام پینے کی صاف پانی سے محروم ہے جس کی وجہ سے وہاں کے باسیوں کو شدیدمشکلات کاسامناہے ہے ،انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی بہت جلد سی پیک کے حوالے سے قلعہ سیف اللہ ،مسلم باغ ،ژوب اور کوئٹہ میں سیمینارز کاانعقاد کریگی جبکہ مرکزی سیمینار گوادر میں منعقد کیاجائیگا ،انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے دوسرے صوبوں میں بڑے زور وشور سے تیاریاں جاری ہے پنجاب حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو چینی زبان بھی سیکھایاجارہاہے مگر ہماری حکومت اس حوالے سے بے خبر ہے جس کی وجہ سے یہاں بے روزگاری میں بھی روزبروز اضافہ ہورہاہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت کوچاہئے کہ وہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے اور سی پیک کے حوالے سے انہیں چینی زبان سمیت دیگر ہنر سیکھانے کااہتمام کرے ،مولاناعبدالحق ہاشمی نے مردم شماری کے حوالے سے کہاکہ مردم شماری پر بلوچستان میں جن جماعتوں کوتحفظات ہے ان کو دور کیاجائے اور ان افراد کو مردم شماری میں شامل کرے جن کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہیں کیونکہ بلوچستان میں آبادی کی صحیح تعین کئے بغیر ہم این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مقدمہ صحیح معنوں میں نہیں لڑسکتے اورمردم شماری کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ صاف اورشفاف طریقے سے مردم شماری کاانعقاد کرے ،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بیجنگ میں جو معاہدہ کیاہے اور اسی معاہدے کو حکومت جو اپنی کامیابی قراردے رہے ہیں کہ پٹ فیڈر کینال سے کوئٹہ کے شہریوں کو پانی فراہم کی جائیگی مگر جعفرآباد ،ڈیرہ مراد جمالی اور نصیرآباد سے گزرنے والے پانی میں مہلک بیماریاں پائی جارہی ہے صوبے میں سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض بھی انہی علاقوں سے آتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اگر پٹ فیڈر کینال سے کوئٹہ کے شہریوں کو پانی فراہم کی گئی تو کوئٹہ کے صحت مند شہری بھی ان بیماریوں کاشکار ہوسکتے ہیں اورایک طرف یہ کہاجاسکتاہے کہ ہم کوئٹہ کے شہریوں کو موت کی منہ میں دھکیل رہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اور بھی منصوبے ہیں ان پر کیوں کام نہیں کیاجارہا ۔