|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ مردم شماری ‘ افغان مہاجرین کی موجودگی سی پیک سے متعلق پارٹی کے خدشات اور تحفظات کو دور کئے بغیر فیصلوں اور پالیسیوں سے بلوچ قوم سمیت محکوم قوموں میں جاری امتیازی سلوک احساس محرو می استحصالی پالیسیوں کو تقویت ملے گا ۔حکمرانوں کے غلط پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچستانی عوام آج بھی اس اکیسویں صدی میں زندگی کے تمام تر بنیادی ضروریات اور انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔جوکہ استحصال پر مبنی پالیسیوں کے منہ بولتا ثبوت ہے ۔مردم شماری اور ترقی کے ہرگز مخالف نہیں ہے ۔لیکن یہاں کے عوام کی مرضی اورمنشاء کو مد نظر رکھتے ہوئے جاری منصوبوں میں یہاں کے عوام کی رائے کو احترام کرنے سے حقیقی ترقی وخوشحالی سے کوئی بھی ذی شعورانسان انکار نہیں کرسکتا۔ بلوچ عوام کے ساتھ ساتھ ہزارہ قوم کو بھی ناانصافیوں کا سامنا ہے ۔ایک سوچھی سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان میں مذہبی منافطرت اور انتہاء پسندی کو تقویت دیاجارہاہے ۔جو قابل مذمت ہے ۔ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہومن رائٹس کے سیکرٹری موسیٰ بلوچ مرکزی کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری میر خورشید احمد جمالدینی ،سابق رکن قومی اسمبلی سید ناصر علی شاہ ہزارہ، کوئٹہ کے ضلعی قائمقام صدر یونس بلوچ ،حاجی منور علی چنگیزی، محمد محدی نے ہزارہ ٹاؤن میں پارٹی کے علاقائی دفتر کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے کیا ۔ اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر محمد رمضان ہزارہ نے سرانجام دیئے اس موقع پر پارٹی کے ضلعی نائب صدر میر غلام رسول مینگل،ضلعی سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی ،تحصیل دشت کے صدر ملک محمد رفیق شاہوانی ڈسٹرکٹ کونسل کیچی بیگ کے کونسلر میر عزیز اللہ اہوانی ،ظفر نیچاری ،محمد ابراہیم محمدشہی، ذاکر حسین ہزارہ، مدد حسین ہزارہ ، سخی ہزارہ، حبیب ہزارہ، شہید یوسفی فاؤنڈیشن کے نعمت ہزارہ، نورویلفیئر سوسائٹی کے مختیار احمد ہزارہ سمیت پارٹی کے د یگر علاقائی کارکنان وعہدیداران کثیر تعداد میں موجود تھے ۔انہوں نے کہاکہ یہاں کے باشعور عوام اپنے قومی اور بنیادی سیاسی وجمہوری حقوق کیلئے بی این پی کے سہ رنگہ جھنڈا قومی پرچم کے تلے متحد ہوکر بلوچستان سرزمین کیخلاف آنے والے چیلنجز مسائل اور مشکلات کا دفاع کرنے کیلئےء اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے قدرتی دولت سے مالا مال خطے کے حقیقی فرزند آج بھی پینے کے صاف پانی دووقت کی روٹی صحت روزگار تجارت تعلیم ودیگر ضروریات زندگی سے محروم دربدر کی ٹھوکھارہے ہیں اورشدید پسماندگی اورکسمپرسی کی حالات سے دوچار ہیں ۔ہمارے خطے کی وسائل کو نہایت ہی بے دردی سے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔اور دیگر صوبوں کے لوگ مستفید ہوتے جارہے ہیں جبکہ ہم اپنے بنیادی وسائل سے محروم ہیں ۔یہ ناروا عمل دنیا کے تمام قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔بی این پی کا یہی قصور ہے کہ پارٹی نے یہاں کے عوام کے ساتھ اپنے سچی وابسطگی اور نظریاتی سیاست کے خاطر بالادست قوتوں سے یہاں کے عوام کی حقوق اور قومی اصولی سیاست پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔جس کی نتیجے میں پارٹی گزشتہ اٹھارہ سالوں سے زیر اتاب ہے ۔اور پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کیاجارہاہے تاکہ پارٹی کیلئے سیاسی اورجمہوری جدوجہد کے راستے بند کیاجائے جس کی واضح مثال 2013 ؁ ء کے عام الیکشن میں پارٹی کی عوامی مینڈیٹ کو چرایاگیا اور بلوچ عوام کے حق رائے دہی کو تسلیم نہیں کیاگیا ۔اور ھقیقی قیادت کے مقابلے اقتدار ایسے لوگوں کی حوالے کی گئی جنہوں نے آج کرپشن کی ماضی کے تمام ریکارڈتوڈریئے گئے ہیں اور آج بھی بلوچستان میں اناہل حکمرانوں کی وجہ سے ناانصافیو ں کا دوردورہ ہے ۔بلوچ فرزندوں کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ہزارہ قوم کے نہتے بے گناہ لوگوں کوشہید کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ بی این پی ایک سیکولر ترقی پسند قوم وطن دوست جماعت کی سیاست پر یقین رکھنتے ہیں ہمارے سیاست اورجہدوجہد میں تنگ نظری کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ہمارے یہاں تمام مذاہب اقوام زبانے ہے تہذیب وتمدن کلچر احترام کی عامل ہے اور ان کے حقوق کا دفاع کرنا ہمارے جدوجہد کا اولین مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے یہاں کے باشعور بلوچ پشتون ہزارہ اقوام اور آباد کار صوبے کی ترقی سلامتی اورخوشحالی کیلئے اپنا بھر پور کرداراد کریں ورنہ آنے والے تاریخ کاسامنا کرناپڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ بی این پی ایک طویل تاریخ جو قربانیوں سے بھری پڑی ہے جوکہ انجمن اتحاد بلوچستان‘ قلات نیشنل پارٹی‘ نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے لے کر بلوچستانی عوام کے واق واختیار حق ملکیت ساحل ووسائل پر یہاں کے عوام کی اختیار کیلئے قربانیاں دیتے ہوئے جدوجہد کررہے ہیں ۔