|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد: سینیٹ میں ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے، وفاقی اداروں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے ڈومیسائل صوبائی حکومت سے تصدیق کرانے اور ملک میں تجارت اور شعبہ تجارت سے منسلک سرگرمیوں سے وابستہ خواتین کیلئے ترجیحی سلوک کیلئے قانون سازی کیلئے قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کرے۔سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ مختلف وزارتوں،ڈویژنوں اور وفاقی محکموں میں کام کرنے والے افراد جن کا تعلق بلوچستان سے ہے کے ڈومیسائل،سرٹیفکیٹس تصدیق کیلئے صوبہ بلوچستان کے متعلقہ اداروں کو بھیجے جائیں۔سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت ملک میں تجارت اور شعبہ تجارت سے منسلک سرگرمیوں سے وابستہ خواتین کیلئے ترجیحی سلوک کیلئے قانون سازی کرے۔چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے تینوں قراردادیں رائے شماری کے ذریعے متفقہ طور پر منظور کرلیں۔دریں اثناء سینیٹ میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی2002میں مزید ترامیم کرنے کا بل’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(ترمیمی)بل2015 ‘‘ کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا،بل کے تحت اوگرا میں چاروں صوبوں کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی،اس کے علاوہ عوامی نمائندگی ترمیمی بل2016بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی2002میں مزید ترامیم کرنے کا بل’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(ترمیمی)بل2015 ‘‘ پیش کیا۔سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ بل پر کمیٹی میں بہت بحث ہوئی18ویں ترمیم کے بعد ریگولیٹریز اتھارٹیز میں صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے،کے پی کے،بلوچستان اور سندھ میں آئل اور گیس کی بڑی مقدار نکلتی ہے مگر اوگرا میں صوبوں کی نمائندگی نہیں ہے،اس لئے بل کے تحت اوگرا میں صوبوں کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیریں رحمان نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976میں مزید ترمیم کرنے کا بل’’عوامی نمائندگی (ترمیمی)بل2016پیش کیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے رائے شماری کے بعد دونوں بلوں کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔