|

وقتِ اشاعت :  

دالبندین : مردم شماری سے بلوچ ہرگز اقلیت میں تبدیل نہیں ہوں گے گوادر کے شہریوں کے لیے الگ اور دوسرے شہروں کے لیے الگ قوانین نہیں ہونے چائیے سعودی شہزادوں کو علاقے کے ترقی کے لیے کچھ کرنا چائیے سی پیک منصوبہ پر ترقی کے ضامن ہوگا تلور کے افزائش نسل کے لیے فنڈز درکار ہیں ان خیالات کا اظہار صوبائی مشیر برائے وائلڈ لائف عبیداللہ بابت صوبائی مشیر معدنیات محمد خان لہڑی نے ڈی سی ریسٹ ہاؤس میں مقامی صحافیوں اور قبائلی عمائدین سے گفتگو کے دوران کہی اس موقع پر وزیر اعلٰی کے معاون خاص ایم پی اے سخی امان اللہ نوتیزئی کو آرڈ نیٹر سردار نجیب سنجرانی ڈی سی چاغی شہک بلوچ ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین حاجی عبدالخالق توشرزئی چیئرمین میونسپل کمیٹی میر عبدالوحید نوتیزئی سردار عبدالصمد بڑیچ ایم ایس ڈاکٹر عبدانی کو بلوچ چاغی غازی خان نوتیزئی اوردیگر بھی موجود تھے پشتو نخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما و صوبائی مشیر وائلڈ لائف عبیداللہ بابت نے کہا کہ مردم شماری سے بلوچ ہرگز اقلیت میں تبدیل نہیں ہوں گے پہلے پشتون اپنے علاقوں میں اکثریت میں تھے ہر دس سال بعد مردم شماری ہوئی تو بلوچ اکثریت میں ہوگئے بلوچ پشتون صدیوں سے صوبے میں آباد ہیں اور اکٹھے رہ رہے ہیں غیر ملکی تو صرف افغان مہاجرین نیہں بلکہ کراچی میں ہندوستان سے آئے ہوئے لوگ ایرانی بلوچ ہزارہ اور اور دوسرے اقوام کے لوگ جو کہ دیگر ممالک سے یہاں آئے ہیں وہ بھی تو غیر ملکی ہیں ملک میں اگر واقعی غیر ملکیوں کا انخلاء ضروری ہے تو تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نکالا جائے صرف افغان مہاجرین کے خلاف واویلا نہیں کرنا چائیے ہم شروع ہی سے افغانستان میں بیرونی مداخلت کے خلاف رہے ہیں اور ہماری طالبعلمی کے زمانے سے یہ مطالبہ تھا کہ افغان مہاجرین کوکمیو تک محدود رکھا جائے یورپ میں اگر کوئی غیر ملکی محنت مزدوری کر کے وہاں بچہ پیدا کرتا ہے تو وہاں کا شہریت مل سکتا ہے تو ہمیں اعتراض کی کیاضرورت ہے حالانکہ یہ تو بین الاقوامی قوانین میں شامل ہے اس لیے افغان مہاجرین کے نام پر شوشہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔