|

وقتِ اشاعت :  

ایک مرتبہ شیطان محفل جمائے بیٹھا تھا اور اپنے شاگردوں سے دن بھرکا احوال معلوم کررہاتھا ۔تمام چیلے اپنے کارہائے نمایاں بیا ن کرتے رہے مگر شیطان صاحب ان کی طرف متوجہ نہ ہوا۔آخر میں ایک چھوٹے شاگرد نے کہا کہ جناب میں کوئی بڑا کارنامہ تو نہ کر پایامگر ایک بچہ جو کہ علم کی پیاس بجھانے مدرسے جا رہا تھامیں اس کے راستے میں رکاوٹ بن گیااور وہ بچہ مدرسہ جانے کے بجا ئے واپس گھر چلا گیا۔شیطان نے کھڑے ہو کر اسے شابا شی دی اور کہاتونے تو بہترین کام کیاجو حصول علم کی راہ میں لوہے کا دیوار بن کر کھڑا رہا۔صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک عزیز کا سب سے بڑا صوبہ اور جغرافیائی اعتبارسے بہت اہمیت کا حامل ہے۔خوب صورت پہاڑ ،وادیاں اور قدرتی وسائل سے مالامال خطہ ہے لیکن اسے بدقسمتی کہیے یا سیا سی وسماجی رہنماؤں کی عدم دلچسپی کہ یہ خطہ تعلیمی میدان میں پاکستان کے با قی صوبوں سے بہت پیچھے ہے۔ یونیسکو کے گلو بل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2016 کے مطابق2030 تک تمام اقوام عالم دو تہائی پرائمری سکولنگ مکمل کر لے گا جبکہ اس کے برعکس ہمارے صوبے کی تعلیمی حالت ناقا بل بیان ہے ۔ایک حالیہ سروے کے مطابق صوبے میں خواندگی کی شرح33 فیصد ہے جس میں سے تعلیم نسواں کی شر ح بہت کم ہے۔ ضلع ڈیرہ بگٹی میں صرف 5فیصدبچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں صوبے میں سرکا ری سکولوں کی تعداد 25000 ہزارہے جن میں سے7000ہزار سکول صرف سنگل روم یعنی ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔ اور جہاں سکولوں کا کوئی وجود ہے بھی تو ان کی حالت مخدوش ہے اور ان میں سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں جیسا کہ سکول کی چاردیواری،کرسیاں،پینے کا صاف پانی،بجلی اور لیٹرین ۔ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اساتذہ کرام کی عدم موجودگی جو کہ ان تمام سکولوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ گزشتہ صوبائی حکومت نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کیا تھا مگر کوئی مؤثرحکمت عملی نہ بنا سکا۔افسوس کہ صوبے کی تعلیم پر خرچ ہونے والا بجٹ کل بجٹ کا صرف چار فیصد ہے موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے تعلیمی بجٹ کو چار فیصد سے بڑھا کرچوبیس فیصد تک کر دیا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 25-Aکے تحت پرائمری تعلیم مفت اور لازمی قرار دی گئی ہے۔صوبے میں اس وقت سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں گھوسٹ سکول اور اساتذہ موجود ہیں۔ اس وقت صرف کوئٹہ شہرمیں کئی گھوسٹ سکول ہیں ۔یقیناًیہ گھوسٹ سکول اور اساتذہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں اور کیوں نہ ہوں اساتذہ کی بھرتی میرٹ کے بجائے سیاسی اورسفارشی بنیادوں پر ہوتا ہے ۔ بلوچستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پرتعلیمی مسائل کو حل کر ے۔ نیت خالص ہو اور عمل پیہم تو مشکلوں کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔