|

وقتِ اشاعت :  

کوئٹہ : بولان سے چترال تک صوبے کی حد بندی کے اعلان خواب ہی ثابت ہوگا جس بولان کو افغانیہ میں شامل کیا جا رہا ہے اس میں کتنے افغان آباد ہیں ؟ جب انگریز بلوچستان آئے تو انہوں نے 1875میں بلوچ خان سے ریلوے اسٹیشن ، کوئٹہ چھاؤنی سمیت دیگر معاہدے کئے کسی اور سے نہیں کوئٹہ و بولان بلوچوں کے اٹوٹ انگ ہیں بلوچ سرزمین کیونکر چالیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرے ساحل وسائل سے مالا مال سرزمین بلوچ ملکیت ہے مال غنیمت نہیں کہ چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو دے دیا جائے چند گنتی کے اضلاع پر برابری کے دعوے کس لئے ؟ جعلی مردم شماری کسی صورت کرنے نہیں دیں گے 60فیصد بلوچ جو کہ نامساعد حالات کی سبب شناختی کارڈز حاصل نہ کر سکے ہیں دیگر صوبوں کو ہجرت کر چکے ہیں بلوچستان کی مخدوش صورتحال کے سبب بلوچ علاقوں میں 500ووٹوں پر بھی رکن صوبائی اسمبلی ہوئے اور بہت سے علاقوں میں انتخابات ہو نہیں سکے تو اب گھر گھر جا کر خانہ شماری ، مردم شماری کیسے ممکن نہیں 1998ء میں جب مردم شماری کرائی گئی اس بات کو 18سال گزر چکے ہیں ان 18سالوں میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین نے ملکی شہریت حاصل کی یہاں تک کہ افغان طالبان کے سربراہ کو بھی قلعہ عبداللہ سے شناختی کارڈز جاری کیا گیا 2011ء کی خانہ شماری میں مہاجرین کی وجہ سے پشتون علاقوں میں آبادی کی شرح میں 500فیصد تک اضافہ ہوا جو کسی صورت ممکن نہیں تھا صرف اور صرف مہاجرین کی وجہ سے ہی آبادی کا تناسب بڑھا ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کلی احمد خان زئی ارباب ہاؤس میں کوئٹہ کے ضلع کونسل کے اجلاس سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، غلام نبی مری ، یونس بلوچ ، جاوید بلوچ ، سردار عمران بنگلزئی ، جمال لانگو ، میر غلام رسول مینگل ، احمد نواز بلوچ ، حاجی ابراہیم پرکانی ، حاجی فاروق شاہوانی ، قاسم پرکانی خطاب کرتے ہوئے کیا تلاوت کلام پاک کی سعادت ستار شکاری نے حاصل کی اجلاس میں مرکزی کمیٹی کی رکن شمائلہ اسماعیل مینگل ، اسد سفیر شاہوانی ، ملک محی الدین بلوچ ،ملک ابراہیم شاہوانی ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، میٹروپولیٹن کونسلران ملک نصیر قمبرانی ،میر مجیب لہڑی سمیت ضلع کوئٹہ کے تمام یونٹ سیکرٹریز ، ڈپٹی یونٹ سیکرٹریز ، ضلعی کونسلران نے شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بولان سے چترال افغانیہ صوبے کے حد بندی کے اعلانات محض خواب ہی ہو گا جس بولان کو افغانیہ میں شامل کیا جا رہا ہے اس میں کتنے افغان آباد ہیں کوئٹہ اور بولان تاریخی حوالے سے بلوچ سرزمین کا اٹوٹ انگ ہیں انگریزوں کے کوئٹہ آ کر اس وقت کے خان آف قلات بلوچ خان سے معاہدہ کیا کسی اور سے نہیں بلوچ 40لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ کیوں برداشت ساحل وسائل بلوچوں کی ملکیت ہیں گنتی کے چند اضلاع کی بنیاد پر برابری کے دعوے بے بنیاد ہیں مقررین نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بلوچ پشتون اتحاد کی بات ہے پشتونوں سے تاریخی رشتہ رہا ہے لیکن بلوچستان کی تاریخ کو مسخ کرنے نہیں دیا جائیگا 60 فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں مقررین نے کہا کہ بلوچ ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین پر آباد ہیں اور اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں مہرگڑھ کی نو ہزار سالوں کی تہذیب و تمدن ہمارا ورثہ ہے یہ سرزمین ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دی من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی باتوں سے تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا ہے بلوچستان میں آباد افغان مہاجرین کو واپس بھیجا ہے بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ اصولوں کے بھی یہ برخلاف ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکیوں نے بلوچستان سے شناختی کارڈز ، پاسپورٹ اور ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کا اندراج کرائیں مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں نے اپنے ذاتی گروہی مفادات کے خاطر انہوں نے غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز کا اجراء یقینی بنوایا گیامقررین نے کہا کہ 2013ء کے الیکشن میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں کی کوشش ہے کہ جعلی شناختی کارڈز کے اجراء کو جاری رکھا ہے اب بھی بلوچستان حکومت کی مشینری کو بھی غیر قانونی طریقے سے استعمال میں لایا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے ارباب و اختیار نادرا و پاسپورٹ آفس پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ بلاک شناختی کارڈز کا اجراء کیا جائے کوئٹہ کے غیور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کوئٹہ کے گردونواح میں کونسے علاقے ہیں جہاں اکثریتی آبادی افغان مہاجرین کی ہے اور اسی طریقے سے بلوچستان کے پشتون اضلاع میں افغان مہاجرین نے اپنے لئے تمام دستاویزات حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود اب بھی حکمران بلوچ دشمنی پر پالیسیاں روا رکھے ہوئے ہیں دنیا کا کوئی قانون اس بات کی اجازت اور اختیار نہیں دیتا کہ 40لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں بلوچستان میں مردم شماری کرائی جائے بلوچستان نیشنل پارٹی اب واضح طور پر کہنا چاہتی ہے کہ مردم شماری سے قبل ساڑھے پانچ لاکھ خاندانوں کو جاری شناختی کارڈز فوری طور پر منسوخ کئے جائیں اسی طریقے سے پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں سے مہاجرین سے نام نکلے جائیں جس طرح خیبرپختونخواء اور دیگر صوبوں اور مرکزی حکومت نے انہیں شہروں سے دور کیمپوں تک محدود رکھنے اور ان کے انخلاء کے حوالے سے اقدامات کئے اسی طرح بلوچستان میں بھی فوری اقدامات کرتے ہوئے کیمپوں تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ جاری دستاویزات کو منسوخ اور انخلاء کو یقینی بنایا جائے اس کے برعکس بلوچستان میں مردم شماری ، خانہ شماری کو مسترد کریں گے پورے ملک میں افغان مہاجرین کے حوالے سے یکساں رویہ رکھا جائے بلوچستان حکومت تنگ نظری اور نسلی بنیادوں پر سیاست کر رہی ہے حکومت میں شامل جماعتیں شریک جرم ہیں جو بلوچستان میں افغان مہاجرین کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور بلوچستان سرکار کی مشینری کو بھی خاطر میں لانے سے گریزاں نہیں تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے گریزاں نہیں مقررین نے کہا کہ بلوچستان سیاسی یتیم خانہ نہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو یہاں آباد کیا جائے عرصہ دراز سے بلوچستان کے غیور عوام اپنی مہمان نوازی کا فریضہ ادا کر چکے ہیں اب اگر ان کے انخلاء کو یقینی نہ بنایا گیا ہے تو یہ بلوچستانی عوام کے ساتھ استحصال ہو گا مقررین نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ارباب و اختیار اگر چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں مذہبی جنونیت ، دہشت گردی ، انتہاء پسندی اور کلاشنکوف کلچر کا خاتمہ ممکن ہو تو جس طرح دیگر صوبوں میں افغان مہاجرین کے انخلاء کے حوالے سے اقدامات کئے گئے بلوچستان میں بھی لفاظی حد تک نہیں عملی طور پر ان کے انخلاء کو کیمپوں تک محدود کرنے کے حوالے سے اقدامات کریں اور بلوچستان کے ان سینٹرز جہاں بے ضابطگیاں ہوئیں غیر قانونی طریقے سے شناختی کارڈز جاری کئے گئے ان سینٹرز کا ریکارڈ قبضے میں لے کر افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز کو منسوخ کیا جائے مقررین نے کہا کہ 2011ء کے خانہ شماری کے دوران سیکرٹری شماریات نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں خانہ شماری کے دوران افغان مہاجرین کے گھروں کو کئی کئی بار شمار کیا گیا جس کی وجہ سے قلعہ عبداللہ ، ژوب ، لورالائی ، پشین میں دو سے 5 سو فیصد اضافہ ہوا جو کسی صورت ممکن نہیں یہ سب غیر ملکیوں کی آمد ، شناختی کارڈز کے غیر قانونی اجراء کی وجہ سے ہوا جس سے وہاں کی مقامی آبادی متاثر ہوئی فوری طور پر مہاجرین کو بلوچستان کے باعزت طریقے سے انخلاء کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اب افغانستان میں امن ہے مہاجر وہاں جا کر اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔